دہلی میں گذشتہ ایک ہفتے سے یونیورسٹی کے طلبہ ریپ کے حالیہ واقعات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جہاں مظاہرین منفرد نعرے سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں وہ محفوظ عوامی مقامات، بہتر روشنی، محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ اور پارکس میں سکیورٹی کا مطالبہ الگ انداز میں کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی حفاظت کے نام پر ان پر کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے جنسی تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب اور عوامی مقامات کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔
دہلی میں ریپ کے حالیہ واقعات
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دہلی میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ مبینہ ریپ اور قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق الزام ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے قریب ایک پبلک پارک میں تین مردوں نے 17 سالہ لڑکی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر خود کو پولیس افسر ظاہر کیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک دوسرے واقعے میں سروپ نگر میں دوستوں سے ملنے جانے والی ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کے بعد چاقو کے وار کر کے قتل کیا گیا اور ان کی لاش ایک کھیت میں پھینک دی گئی، جو کئی روز بعد ملی۔
مظاہرین ان واقعات کو ’گھناؤنا‘ اور ’ناقابلِ معافی‘ قرار دے رہے ہیں۔
’دو کچوری، ایک سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ‘
احتجاج کے دوران آزادی اور انصاف کے مطالبات کے ساتھ مختلف نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں، جن میں ’دو کچوری، ایک سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ‘ اور ’بیٹی کی لوکیشن نہیں، بیٹے کا انٹینٹ چیک کرو‘ شامل ہیں۔
یہ نعرے اب احتجاجی مقامات سے نکل کر سوشل میڈیا، بالخصوص انسٹاگرام ریلز، تک بھی پہنچ گئے ہیں۔
اس سے قبل دو ماہ پہلے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ہونے والے مظاہرے بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔ ان مظاہروں کے بعد اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے تھے۔
تاہم سوشل میڈیا پر ہی بعض صارفین کا کہنا ہے کہ وہ ان مظاہرین سے تو اتفاق کرتے ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ تمام مردوں کو اس میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔