مردان: پولیس اہلکار نے ’سخت عقائد‘ پر گردوارے کے نگران سکھ جوڑے کو قتل کیا

مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ سے سکھ میاں بیوی کے قتل میں ملوث ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

ڈی پی او مسعود بنگش 18 جون، 2026 کو ملزم کی گرفتاری کی تفصیلات بتا رہے ہیں (مردان پولیس)

خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ سے سکھ میاں بیوی کے قتل میں ملوث ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ 

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم خود ایک پولیس اہلکار ہے۔ مردان  کے ضلعی پولیس افسر مسعود بنگش نے جمعرات کو  پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم شیر شاہ 2011 میں پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم تقریباً تین سال قبل اسی گوردوارے پر 15 ماہ تک سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات رہ چکا ہے۔

ڈی پی او کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو ٹریس کیا گیا اور اسی لباس میں گرفتار کیا گیا جس میں وہ واردات کے وقت موجود تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ملزم نے ذاتی سوچ اور سخت نظریات کی بنیاد پر یہ اقدام کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسعود بنگش نے مزید بتایا کہ ملزم کے والد بھی پولیس میں ملازم ہیں۔

ان کے مطابق واقعے کے روز ملزم نے گوردوارے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہو کر بالائی منزل پر جا کر سکھ جوڑے پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق بدھ کو نامعلوم افراد نے گوردوارے کے اندر فائرنگ کر کے  70 سالہ جگنات سنگھ اور ان کی 69 سالہ اہلیہ کو قتل کر دیا تھا۔

پولیس ترجمان محمد فہیم کے مطابق مقتول میاں بیوی گوردوارے کی دوسری منزل پر رہائش پذیر اور اس کی دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتے تھے۔

یہ گوردوارہ مردان میں واقع ایک تاریخی عمارت ہے جو تقریباً 150 سال پرانی ہے اور ڈیرہ ہوتی والا بابا کرم سنگھ کے نام سے معروف ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان