برازیل نے تین برس تک کارلو اینچلوتی کا اس طرح تعاقب کیا جیسے اطالوی کوچ کے پاس ورلڈ کپ کی چھٹی ٹرافی کی جادوئی کنجی ہو۔
تاہم اتوار کو نیو جرسی کی شدید گرمی میں ناروے کے ہاتھوں دو - ایک کی شکست کے بعد پانچ بار کی عالمی چیمپیئنز کو احساس ہوا کہ کلب فٹ بال کے عظیم ترین کوچز میں شمار ہونے والا شخص بھی ایسی ٹیم کے ساتھ معجزہ نہیں کر سکتا جو امید، ماضی کی یادوں اور تھکے ہوئے کھلاڑیوں پر کھڑی ہو۔
اٹلی کے فٹ بال کا زوال طویل عرصے سے خبردار کرتا رہا ہے کہ اگر کوئی ملک اپنی فٹ بال کی مناسب دیکھ بھال نہ کرے تو وہ حیران کن رفتار سے دوسروں سے پیچھے رہ سکتا ہے۔
اب برازیل بھی اسی تلخ حقیقت کی ایک مثال بن چکا ہے۔
اینچلوتی کو ریئل میڈرڈ سے برازیل لانے کی طویل کوشش کے دوران قومی ٹیم تین عبوری کوچز کے زیر اثر بھٹکتی رہی اور جب وہ بالآخر ٹیم کے ساتھ منسلک ہوئے تو صورت حال اتنی بگڑ چکی تھی کہ اس دلدل سے نکلنا آسان نہیں تھا۔
صرف ایک سال میں تین برس کی غفلت کا ازالہ کرنا ویسے بھی ممکن نظر نہیں آتا تھا۔
اینچیلوتی اگرچہ فٹ بال کی تاریخ کے کامیاب ترین کوچز میں شمار ہوتے ہیں لیکن اس ورلڈ کپ نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی آخرکار انسان ہی ہیں۔
سکواڈ کے انتخاب سے متعلق ان کے کئی بڑے فیصلے الٹے ثابت ہوئے، جن میں سب سے زیادہ نقصان دہ فیصلہ عمر رسیدہ کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا تھا جو اپنی بہترین فارم سے بہت دور دکھائی دیے۔
کاسیمیرو، ڈینیلو اور نیمار بڑے نام ضرور تھے مگر ان کے طویل کیریئر کا بوجھ بھی نمایاں تھا اور ناروے کے خلاف میچ میں یہ بات کھل کر سامنے آ گئی۔
ناروے کے دونوں گول برازیل کے بائیں جانب سے کیے گئے، جہاں متبادل کھلاڑی آندریاس شیلڈروپ میدان میں آتے ہی ایسی توانائی کے ساتھ کھیلے جس کی برازیل کو شدید کمی محسوس ہوئی۔
34 سالہ ڈینیلو کو رائٹ بیک کے طور پر کھلایا گیا حالانکہ وہ کئی برسوں سے اس پوزیشن پر باقاعدگی سے نہیں کھیل رہے تھے اور حالیہ عرصے میں فلیمینگو کے لیے زیادہ تر متبادل سینٹر بیک کے طور پر استعمال ہوتے رہے تھے۔
یہ مقابلہ ان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ شیلڈروپ نے بار بار ان پر بھرپور حملے کیے جبکہ ڈینیلو بے بس دکھائی دیے۔
بھاری قدموں والا ٹورنامنٹ
کاسیمیرو کا پورا ٹورنامنٹ بھی اسی طرح سست اور بھاری محسوس ہوا۔
وہ حریفوں کی رفتار کا مقابلہ نہ کر سکے، متعدد غلط پاس دیے اور اتوار کو نیو جرسی کی حبس زدہ گرمی میں ان کی حالت ایسی لگ رہی تھی جیسے کوئی زنگ آلود ٹرک پیرینیز کے پہاڑوں میں تنگ چڑھائی پر بمشکل آگے بڑھ رہا ہو۔
اس کے بعد نیمار کو اس وقت میدان میں اتارا گیا جب مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر تھا اور برازیل کو کسی جادوئی لمحے کی ضرورت تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے انجری ٹائم میں پنالٹی پر ایک گول ضرور کیا، مگر وہ محض خسارہ کم کرنے کے کام آیا، شکست سے بچانے کے نہیں۔
اصل مسئلہ اس سے پہلے کی کارکردگی تھی۔
ٹورنامنٹ میں انجری کے ساتھ آنے والے نیمار نے نہ تو حملہ آور انداز دکھایا، نہ غیر متوقع کھیل،اور نہ ہی وہ تباہ کن رفتار جس نے کبھی انہیں دنیا کے خطرناک ترین فارورڈز میں شامل کر دیا تھا۔
ان کی حرکت سست، کھیل قابل پیش گوئی اور انداز بے جان نظر آیا، جس سے وہ اپنے ماضی کے شاندار کھلاڑی کے مقابلے میں ایک افسوس ناک تصویر پیش کرتے دکھائی دیے۔
اگر واقعی منصوبہ 2030 کے ورلڈ کپ کے لیے نئی نسل کو تیار کرنا تھا تو پھر برازیل کے انتخابی فیصلے مزید ناقابل فہم محسوس ہوتے ہیں۔
چونکہ نئے عالمی کپ سائیکل کا آغاز توقع سے پہلے ہو گیا تھا اور اس ٹیم پر فوری طور پر عالمی چیمپیئن بننے کا زیادہ دباؤ بھی نہیں تھا، اس لیے اینچیلوتی بزرگ کھلاڑیوں کو گھر چھوڑ کر نوجوانوں کو اس مشکل مگر قیمتی تجربے کا موقع دے سکتے تھے۔
اس کی بجائے برازیل نے ماضی اور مستقبل، دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی، مگر دونوں کے درمیان پھنس کر رہ گیا۔
نتیجتاً برازیل کو چھٹا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے کم از کم 28 برس کا انتظار کرنا پڑے گا جو اس ملک کے لیے ناقابل تصور قحط ہے جس نے اپنی فٹ بال کی شناخت تخلیقی صلاحیت، جرات مندانہ کھیل اور برتری پر قائم کی تھی۔
پورے ٹورنامنٹ کے دوران بیشتر مواقع پر برازیل اپنی اصل پہچان سے محروم دکھائی دیا۔
صرف وینیسیئس جونیئر نے کہیں کہیں ماضی کی برازیلین چمک کی جھلک دکھائی، جس سے اندازہ ہوا کہ صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
مگر ان کے اردگرد پوری ٹیم حکمت عملی، رفتار اور سب سے بڑھ کر اپنی روایتی شناخت سے محروم دکھائی دی۔