دفاعی نظام نے افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز مار گرائے: آئی ایس پی آر

پاکستان فوج کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار سے چار ڈرون بھیجے گئے، جنہیں پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشانہ بنا کر ناکام بنا دیا۔

ایک پاکستانی فوجی اہلکار بلوچستان میں افغانستان کے ساتھ چمن بارڈر پر ڈیوٹی پر مامور ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بدھ کو کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار سے چار ڈرون بھیجے گئے، جنہیں پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشانہ بنا کر ناکام بنا دیا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب جاری بیان کے مطابق ’افغان طالبان حکومت نے اپنی زیرِ کنٹرول سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کے تحت چار ابتدائی نوعیت کے ڈرون بلوچستان کی جانب بھیجے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’ان فضائی پلیٹ فارمز کا فوری طور پر پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے سراغ لگا لیا۔‘

پاکستان فوج نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی جاری رکھتے ہیں تو انہیں ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا جس کی قیمت انہیں بھاری پڑے گی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب افغان طالبان حکومت نے اسی ہفتے مشرقی افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد ردعمل دینے کا عندیہ دیا تھا۔

ادھر افغان وزارتِ دفاع نے رات گئے جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے پاکستان کے سرحدی صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائیاں کیں۔

افغان وزارتِ دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں داعش  کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا اور جانی نقصان بھی ہوا۔

دوسری جانب پاکستان نے اپنے علاقے میں داعش کی موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان ڈرون حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

ماہرین کے مطابق طالبان فورسز کے پاس مکمل فعال فضائیہ موجود نہیں، تاہم وہ سرحدی علاقوں میں چھوٹے ڈرونز استعمال کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2021 میں کابل میں طالبان کی واپسی کے بعد سے مسلسل تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی فروری میں شروع ہونے والے تنازعے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔

کراچی میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ایک مہلک حملے کے بعد پاکستان نے مشرقی افغانستان میں فضائی حملے کیے تھے۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم افغان حکومت کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری بھی متاثر ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ان حملوں میں 28 شہری مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ پاکستان نے شہری اموات پر تبصرہ نہیں کیا، البتہ کہا ہے کہ فضائی اور زمینی کارروائیوں میں 29 عسکریت پسند مارے گئے۔

کئی ماہ سے جاری اس تنازعے میں سیکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کو پناہ دے رہی ہے۔

جبکہ افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان