انڈین آرمی چیف کا بیان غرور اور جنگی جنون پر مبنی ہے: آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے اتوار کو انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کا بیان غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ہے جو خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

23 مارچ، 2022 کو اسلام آباد میں یومِ پاکستان پر فوجی پریڈ کے دوران ایک فضائی دفاعی میزائل سسٹم کے پاس کھڑا فوجی سلامی دے رہا ہے (روئٹرز)

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اتوار کو انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کا بیان غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ہے جو خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

 انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر پاکستان فوج کے ترجمان ادارے نے نئی دہلی سے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتائج خطے کے لیے ’تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔

یہ بیان انڈین آرمی چیف جنرل اپیندرا دویویدی کے ایک روز قبل دیے گئے ریمارکس کے جواب میں جاری کیا گیا۔

انڈین بری فوج کے سربراہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں۔‘

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہندوتوا نظریے کے زیر اثر انڈیا میں پائے جانے والے وہم اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات کے برعکس، پاکستان ایک اہم عالمی حیثیت رکھتا ہے، ایک ایٹمی طاقت ہے اور جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید حصہ ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قسم کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’انڈین قیادت نہ تو پاکستان کے وجود کو تسلیم کر پائی ہے اور نہ ہی آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود اس نے درست اسباق سیکھے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین بیانیہ سہولت کے ساتھ اپنی اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے جس میں خطے میں دہشت گردی کے فروغ، ریاستی سرپرستی، علاقائی عدم استحکام، سرحد پار کارروائیوں اور عالمی سطح پر غلط معلومات پھیلانے میں اس کے کردار کے الزامات شامل رہے ہیں۔

’نئی دہلی کا جارحانہ رویہ دراصل اعتماد سے زیادہ اس مایوسی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے باعث سامنے آئی ہے، جس کی جھلک ’معرکۂ حق‘ کے دوران بھی دیکھی گئی۔‘

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے اس بات پر زور دیا کہ ’یہ غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ذہنیت بارہا جنوبی ایشیا کو جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین قیادت کے لیے بہتر ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتائج پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے بھی تباہ کن ہوں گے۔‘

آئی ایس آپی آر کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرے۔

’بصورت دیگر، پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ صرف جغرافیائی حدود تک محدود ہوں گے اور نہ ہی انڈیا کے لیے سٹریٹجک یا سیاسی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا