امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی مذاکرات کار کے طور پر سامنے آئے ایران کے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
ایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو حال ہی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی مذاکرات کار کے طور پر سامنے آئے ہیں، کو چین کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
ایران کے میڈیا کے مطابق اتوار کو تسنیم نیوز ایجنسی نے ’معتبر ذرائع‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ محمد باقر قالیباف کو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے چین کے امور کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر میڈیا اداروں نے بھی اسی نوعیت کی رپورٹس نشر کی ہیں۔
تسنیم کے مطابق یہ تقرری صدر مسعود پزشکیان کی تجویز پر اور سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری سے کی گئی۔ وہ ایران اور چین کے درمیان تعلقات کے مختلف شعبوں کو منظم اور مربوط کریں گے۔
فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ سابق سکیورٹی چیف علی لاریجانی، جو 17 مارچ کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے، بھی اسی نوعیت کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ انہوں نے چین کے ساتھ 2021 میں ہونے والے 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی پیش رفت میں کردار ادا کیا تھا۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے آغاز کے بعد قالیباف امریکہ کے ساتھ ہونے والے ایک دور کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے مرکزی شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں کئی سینئر ایرانی حکام، جن میں سابق اعلیٰ عہدیدار علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، مارے گئے۔ یہ جنگ مشرق وسطیٰ میں پھیل گئی تھی اور 8 اپریل کو ایک نازک جنگ بندی پر جا کر رکی۔
ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے چند چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت بھی دی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور جنگ کے بعد ایران نے اسے بند کر دیا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان جہازوں کو ’آبنائے کے انتظامی پروٹوکولز پر معاہدے‘ کے بعد گزرنے دیا گیا۔