وزرائے خارجہ ملاقات: چین ایران ’سٹریٹیجک معاہدہ‘ یا ’تیل درآمدات‘

چین نے سرکاری طور پر ایران سے تیل کی درآمد بند کر دی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی خام تیل دوسرے ممالک سے درآمدات کی آڑ میں چین پہنچ رہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ملاقات (فائل تصویر: ارنا)

چینی حکام کی جانب سے ہفتے کو دیے گئے بیان کے مطابق چین ایران کے ساتھ اس سٹریٹیجک معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز کرنے جا رہا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

چین نے ایران پر پابندیاں لگانے پر امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین اور ایران نے سات سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد گذشتہ سال ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وسیع دائرے میں شراکت داری کی جائے گی۔ توانائی، سلامتی، بنیادی ڈھانچے اور مواصلات کے شعبہ جات معاہدے میں شامل ہوں گے۔

چین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان نے جمعے کو مشرقی چین کے علاقے ووشی میں ہونے والی ملاقات میں شراکت داری معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز کا اعلان کیا۔

چین اور ایران کے درمیان خفیہ معاہدے کی چند تفصیلات شائع کی گئی ہیں لیکن امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے معاہدے کے افشا ہونے والے مسودے کے حوالے سے 2020 میں رپورٹ کیا تھا کہ یہ معاہدہ ایران سے چین کو تیل کی باقاعدہ فراہمی کو تحفظ فراہم کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین ایران کا اہم تجارتی پارٹنر ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر 2018 میں یکطرفہ پابندیاں دوبارہ عائد کرنے سے قبل چین ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک تھا۔ چین نے سرکاری طور پر ایران سے تیل کی درآمد بند کر دی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی خام تیل دوسرے ممالک سے درآمدات کی آڑ میں چین پہنچ رہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق یی وانگ نے جمعے کو اپنے ایرانی ہم منصب کو بتایا کہ چین’ایران کے خلاف غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت جاری رکھے گا۔‘

چین طویل عرصے سے ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے 2016 میں اپنے ایرانی دورے کے دوران ایران کو’مشرق وسطیٰ میں چین کا بڑا شراکت دار‘ قرار دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا