’چِپ فلیشن‘ کیا ہے اور اس کی وجہ سے الیکٹرانک آلات مہنگے کیوں ہو رہے ہیں؟

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار اضافے سے میموری چپس کی رسد کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے اور اس کی قیمت صارفین کو چکانا پڑ رہی ہے۔

25 جون، 2026 کو نیویارک شہر کے علاقے لوئر مین ہیٹن میں ایپل کے ایک سٹور میں فروخت کے لیے رکھے گئے لیپ ٹاپس (اے ایف پی)

پہلے مصنوعی ذہانت (اے آئی) آپ کی نوکری کے پیچھے پڑا تھی۔ اب یہ آپ کی ڈیوائس کی میموری کے پیچھے پڑ گئی ہے۔

کمپیوٹنگ میموری کی بے پناہ مانگ، جسے ’چپ فلیشن‘ کہا جاتا ہے، کی وجہ سے بڑے ڈیٹا سینٹرز سے لے کر ٹی وی، کمپیوٹرز اور سٹریمنگ کنسولز تک ہر چیز میں استعمال ہونے والی میموری چپس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ریٹیل کرپٹو سرمایہ کاروں کے تعلیمی چینل کوائن بیورو کے بانی نک پکرین کا کہنا ہے کہ ’چپ فلیشن دراصل رسد میں شدید کمی کی وجہ سے میموری چپس کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں الیکٹرانکس کی مہنگی ہوتی قیمتوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ یہ چپس لیپ ٹاپس اور پی سیز جیسی عام الیکٹرانک اشیا کا اہم حصہ ہیں۔‘

گذشتہ دو سال کے دوران میموری کی قیمتوں میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سٹینفرڈ یونیورسٹی کے مطابق، ڈی ریم، جو عام کمپیوٹر یا فون میں استعمال ہونے والی میموری کی ایک قسم ہے، اگست 2024 میں محض 90 سینٹ فی گیگا بائٹ کی کم قیمت پر دستیاب تھی۔

جولائی میں یہ قیمت بڑھ کر 3.45 ڈالر فی گیگا بائٹ ہو گئی، جو تقریباً 400 فیصد کا اضافہ ہے۔

یونیورسٹی آف نیواڈا، رینو کے لیبارٹری ڈائریکٹر رس رینزاس نے کہا کہ صارفین اس کے لیے اے آئی کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ایک ای میل میں دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’چپ فلیشن اے آئی کی وجہ سے چپ کی مانگ میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کا نتیجہ ہے۔‘

نک پکرین نے کہا کہ مینوفیکچررز عام آدمی کی بجائے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے چپ سازی کو ترجیح دے کر اس مانگ کو پورا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’رسد میں اس قدر کمی کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو چلانے والی چپس کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ چپ بنانے والی کمپنیاں کنزیومر الیکٹرانکس میں استعمال ہونے والی مختلف چپس بنانے کی بجائے ان کی تیاری پر توجہ دے رہی ہیں۔ اس سے قلت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتیں اور بھی بڑھ رہی ہیں۔‘

میموری چپ کی مارکیٹ میں دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔ نک پکرین نے نشاندہی کی کہ میموری چپ بنانے والی دو کمپنیاں، جنوبی کوریا کی ایس کے ہائینکس اور سام سنگ، مارکیٹ کے 70 فیصد حصے کو کنٹرول کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس سال کی رسد سے زیادہ آرڈرز پہلے ہی موجود ہیں، اس لیے انہیں ایک غیر معمولی سہولت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا: ’وہ معقول حد کے اندر، اپنی مرضی کی تقریباً کوئی بھی قیمت مقرر کر سکتے ہیں، اور کنزیومر الیکٹرانکس بنانے والی کمپنیاں یہ چپس خریدنے پر مجبور ہوں گی۔ یہ رسد اور مانگ کی ایک سادہ سی مساوات ہے۔‘

الیکٹریکل انجینئر اور فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کی انجینئرنگ ریسرچ سوسائٹی کے صدر آصف عالم نے کہا کہ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ مینوفیکچررز آرڈرز پورے کر رہے ہیں اور قیمتیں بڑھا رہے ہیں، بلکہ وہ عام صارف کی نسبت اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو ترجیح دے رہے ہیں۔

آصف عالم نے دی انڈپینڈنٹ کو ایک ای میل میں بتایا کہ ’چپس بنانے والی کمپنیاں آپ کا ٹیلی ویژن بنانے والی فرموں کی نسبت اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو فروخت کر کے کہیں زیادہ پیسہ کماتی ہیں، اس لیے انہوں نے اپنی فیکٹریوں کا رخ پہلے اے آئی کو سہولیات فراہم کرنے کی طرف موڑ دیا ہے۔‘

چنانچہ، جب فیکٹریاں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے میموری چپس تیار کرتی ہیں، تو عام طور پر صارفین کو مہنگی میموری کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

کسٹم الیکٹرانکس ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کمپنی تھامس انسٹرومینٹیشن انکارپوریٹڈ کی سی ای او کیسینڈرا ڈبلیو جی کمنگز نے کہا کہ نہ صرف چپس کی قلت ہے بلکہ جو کمپنیاں انہیں فونز، کمپیوٹرز، ٹیبلیٹس اور ایسی دیگر اشیا کے لیے خریدتی ہیں، وہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ قیمتیں ادا کر رہی ہیں۔

اس کے نتیجے میں، صارفین کمپیوٹرز کی میموری کٹس سے لے کر مشہور گیمنگ کنسولز تک مقبول ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔

آصف عالم نے کہا: ’ننٹنڈو نے اپنے سوئچ ٹو کنسول کی قیمت میں اضافہ کیا اور اس کی سیدھی وجہ میموری کی بڑھتی لاگت کو قرار دیا۔ سونی اور مائیکروسافٹ نے بھی اپنے کنسولز کی قیمتیں بڑھا دیں۔ ٹیلی ویژن، لیپ ٹاپس، فونز، کنسولز اور یہاں تک کہ گاڑیاں بھی اس سے متاثر ہیں کیوں کہ ان سب کا انحصار انہی چپس پر ہے۔‘

سی این بی سی کے مئی کے ایک آرٹیکل کے مطابق، واقعی نینٹینڈو نے مئی میں اپنے سوئچ 2 کی قیمت میں 50 ڈالر کا اضافہ کیا، اور سونی نے میموری کی لاگت کی وجہ سے پلے سٹیشن 5 کی قیمتوں میں 150 ڈالر تک کا اضافہ کیا۔

یاہو فنانس کے مطابق، جولائی میں ایپل کے سی ای او ٹم کک نے کہا کہ کمپنی میموری چپ کی قیمتوں کی وجہ سے اپنی تمام مصنوعات کی قیمتوں میں 150 سے 300 ڈالر تک کا اضافہ کر رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رس رینزاس نے دی انڈپینڈنٹ کو ایک ای میل میں بتایا کہ ٹی وی کی مجموعی لاگت میں میموری کا حصہ پہلے دو سے تین فیصد ہوتا تھا لیکن اب یہ چھ سے سات فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اخراجات ہر صورت میں صارفین کو منتقل کیے جائیں گے، عموماً 200 فیصد تک کے منافع کے ساتھ، اس لیے میموری کی قلت کی وجہ سے ٹی وی کی قیمتوں میں 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

رس رینزاس نے کہا کہ وہ ڈیوائسز جنہیں میموری کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، مثال کے طور پر لیپ ٹاپس، چپ فلیشن کی وجہ سے ان کی قیمت میں 20 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

چپ فلیشن کب تک رہے گی؟ ماہرین کو یقین نہیں ہے، لیکن یہ جلد ختم نہیں ہو گی، کمنگز نے دی انڈپینڈنٹ کو ایک ای میل میں بتایا۔

ان کے بقول: ’یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ چپ فلیشن کم ہو گی، عموماً ایسی چیزیں شروع میں اپنی بدترین سطح پر ہوتی ہیں، جیسے کہ اب ہیں۔ رسد بڑھانے کے لیے چپس بنانے والی نئی فیکٹریاں لگانے میں برسوں لگ جاتے ہیں، اور جب تک رسد مانگ کے برابر یا اس سے زیادہ نہیں ہو جاتی، قیمتیں زیادہ رہیں گی اور دستیابی کم رہے گی۔ مجھے شک ہے کہ 2028 سے پہلے اس میں کوئی بہتری آئے گی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی