گلگت بلتستان کے زیادہ تر تہوار موسم اور زراعت سے جڑے ہوئے ہیں۔ چونکہ یہ علاقہ ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ ٹھنڈا ہے لہذا یہاں خزاں، بہار، سردی اور گرمیوں کے منفرد اور الگ الگ تہوار ہیں
عیسوی کلینڈر کے برعکس گلگت بلتستان میں نئے سال کا آغاز 20 دسمبر کو ہوتا ہے کیونکہ یہاں کی روایت کے مطابق 20 دسمبر تک سورج کی روشنی کا دورانیہ کم ہو کر مختصر وقفے تک پہنچ جاتا ہے۔
20 دسمبر کے بعد سورج کا دورانیہ بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ سورج کے مختصر ہونے کو شنا زبان میں ’سوری ہلول بوجی‘ اور بلتی زبان میں رگون خیم کھیم کہتے ہیں۔ ان متذکرہ دونوں مقامی زبانوں میں ان جملوں کا تصور یہ ہے کہ سورج کا گھونسلے کی طرف جانا ہے۔
یوں اس دوران سورج کی حدت کم ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح 20 دسمبر کے بعد سورج کے بڑھنے کو بالترتیب شنا اور بلتی میں مخصوص ناموں سے پکارا جاتا ہے اور یوں دن بہ دن سورج کی حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
مقامی آغاز سال کا تہوار اور اس کے خاص پکوان مشہور ہیں۔ 21 دسمبر کو آگ کی مشعلیں جلانے کا مخصوص تہوار ہوتا ہے جسے شنا زبان میں ’تالینی یا لومے‘ کہتے ہیں جبکہ بلتی زبان میں اسے ’مے پھنگ‘ کا جشن کہتے ہیں۔ یہ بہت قدیم تہوار ہے اور محققین اسے زرتشتی روایت سے ماخوذ سمجھتے ہیں۔ قدیم فارس کی ہخامنشی تاریخ کے مطابق Darius -II کے عہد میں گندھارا اور داردا ( گلگت بلتستان) کا علاقہ اس کے قلمرو کی ساتویں Satrapy کا حصہ تھا۔ یوں گمان کیا جا سکتا ہے کہ شاید یہ آگ کا تہوار اس ہخامنشی سلطنت کی ثقافتی اثرات کا نتیجہ ہوں۔
یوں 20 دسمبر سے 20 فروری تک برف اور سردی کے دنوں میں دیہاتوں میں دو طرح کی روایتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
ایک اہم سرگرمی یہ کہ سرد موسم میں گوشت کھانے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہر گھر والے کوئی فربہ مویشی ذبح کرتے ہیں اور اس کا گوشت سکھایا جاتا ہے۔ اس رسم کو شنا زبان میں دواکیو اور بلتی زبان میں ستون پھیوک کہا جاتا ہے۔
گوشت کھانے کے مختلف طریقے رائج ہیں جن کے تحت گوشت کے مختلف حصے مخصوص دنوں میں پکائے جاتے ہیں۔
سردیوں کے ان دنوں میں ایک اور راوج یہ ہے کہ دیہاتوں میں محلے میں بڑے چھوٹے سب رات کو کسی مخصوص گھر میں جمع ہوتے ہیں اور پھر وہاں انگیٹھی (جسے عرف عام میں بخآری کہتے ہیں) دھکائی جاتی ہے اور اس کے گرد دائرے میں سب خاموش بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کی خاموشی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اب کہانی سنانے کی باری اس شخص کی ہے جو گاؤں میں لوک کہانیاں سنانے میں ماہر ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں شکار ، بہادری کے قصے، بادشاہوں کی جنگ وجدل اور اساطیری موضوعات پر مشتمل ہوتی ہے۔
اس دوران سامعین کے لیے گرم گرم بھاپ اڑاتی علاقے کی مشہور سبز چائے پیش کی جاتی ہے جس میں نمک اور گائے کا دیسی مکھن شامل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بخآری میں لذیذ آلو پکائے جاتے ہیں اور نمک مرچ کے ساتھ مزے لے لے کر کھائے جاتے ہیں۔
کہانی سننے کے بیچ بیچ میں ڈرائی فروٹ جس میں خوبانی ، خوبانی کی گیری (apricot Carnel)، خشک شہتوت وغیرہ شامل ہیں بھی لذت کان و دہن کے لیے حاضر رکھا جاتا ہے۔
یوں نومبر سے مارچ کے مہینے تک کڑاکے کی سردی اور برف کے دنوں کو اس طرح کی مصروفیات میں گذار دیا جاتا ہے۔
21 مارچ کا دن نوروز کے نام سے منسوب ہے اور یہ بہت خاص تہوار ہے۔ یہ شمسی سال کا پہلا دن ہے لہذا اسے بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ گھروں میں خصوصی پکوان پکائے جاتے ہیں اور گھر گھر مبارکباد دینے کے لیے آنے والوں کی ان لذیذ کھانوں سے تواضع کی جاتی ہے۔ نئے کپڑے بنانا، ہاتھوں میں مہندی لگانا اور ایک دوسرے کے گھروں میں مبارک باد کے لئے جانا لازمی حصہ ہے۔
اس عید میں یہاں ایک خاص کھیل مشہور ہے جسے انڈے لڑانا کہتے ہیں۔ انڈوں کو پکا کر ان میں طرح طرح کے رنگ کئے جاتے ہیں اور پھر نوروز کے دن کیا بوڑھے کیا جوان اور بچے سب انڑے لڑانے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ شام کو پولو گراؤنڈ میں پولو کے سنسنی خیز مقابلے شروع ہوتے ہیں اور یہ تین دن تک جاری رہتے ہیں اس دوران مقامی موسیقار نہایت جوشیلی دھنیں بجاتے ہیں اور پولو کھلاڑیوں کی ایک ایک ہِٹ پر داد وتحسین کا شور نزدیکی پہاڑوں میں گونج پیدا کرتا ہے۔
چودھویں صدی عیسوی میں یہاں اشاعت اسلام کے بعد جہاں مذہب کی تبدیلی عمل میں آئی وہیں فن تعمیر بود و باش، خوشی اور غم کے ایام میں بھی بدلاؤ دیکھنے کو ملا۔ زراعت اور موسم کے جڑے ہوئے تہوار تو کسی حد تک جاری و ساری رہے تاہم قبل از اسلام سے متعلق عقائد اور رسوم روبہ بہ زوال ہوکر ختم ہوتے گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
موسمی تہواروں کے علاوہ اب عیدالفطر اور عید قربان کے ہ دیگر تمام دینی و مذہبی ایام بڑی شد و مد کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔
عیدالفطر کا چاند دیکھنے کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔ اب تو ٹی وی اور انٹرنیٹ کی سہولیات نے آسانی پیدا کردی ہے کہ خبر آپ کو گھر کے کمرے میں ہی مل جاتی ہے۔ بلتستان چونکہ چاروں طرف قراقرم اور ہمالیہ کے سلسلہ ہائے کوہ کے اندر گرا ہوا ہے لہذا سے شام چاند کی رویت مشکل ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں بلتستان کا ایک ضلع کھرمنگ خاص طور پر معروف ہے۔ اس ضلع کے آخری حدود کارگل سے جاکر ملتا ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا دریا جو کہ دریائے سندھ ہے یہی سے پاکستان کے دیگر صوبوں کی بہہ نکلتا ہے۔ ضلع کھرمنگ کے ایک گاؤں ہلال آباد جس کا قدیمی نام ژھیندو ہے وہاں چاند دیکھنے کا ایک زبردست قدیمی طریقہ مروج ہے۔
ژھیندو گاؤں جسے چاند دیکھنے کی وجہ شہرت کی وجہ سے ہلال آباد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے وہاں ایک پہاڑ کی ٹیکری پر چاند دیکھنے کا خاص قدیمی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔
قدیم زمانے سے ژھیندو گاؤں کے ایک پہاڑ کی چوٹی پر بزرگوں نے مغرب کی رخ پر چاند کی حرکت کے حساب سے پتھروں کی ٹیکریاں بنائی ہوئی ہیں۔ یوں چودھویں چاند کے بعد اس کی آگے دنوں کی مجوزہ حرکت کے حساب سے پتھروں کی اونچی ڈھیریاں بنائی گئی ہیں جن پر بنے سوراخوں کی مدد سے چاند کی درست نشاندہی کی جاتی تھی۔ یہ طریقہ کار قدیم عرصے سے رائج رہا لیکن اب ملکی سطح کی بنی ہوئی رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کو ہی حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔
چاند دیکھنے کے اعلان ہوتے ہیں بلتستان میں یہ رواج ہے کہ خانقاہوں ، مساجد اور امام بارگاہوں سے منقبت اور حمد وثناء کی آوازیں بلند ہوتی ہے۔ رات بھر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس دوران رات کو ہر گھر کی خواتین روایتی پکوان پکانے کا اہتمام کرتی ہیں۔ ان میں ازوق، شیرق ، زیرچونگ اور میٹھی شامل ہے یہ سب ذائقہ دار علاقائی لذیذ کنفیشنری ہیں۔ ان کے ساتھ زومو کے مکھن سے بلویا گیا روایتی سبز چائے دیدہ زیب ڈیزائن کے سماوار میں ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ گھروں میں پاکیزگی اور برکت کے لئے ایک مقامی بوٹی اسپندر کا دھواں دیا جاتا ہے جس کی نہایت بینی بینی خوشبو ہوتی ہے۔
اب ان روایتی کنفکشیریز کے ساتھ چنا چاٹ، سویاں ، کھیر اور کیک بسکٹ کا رواج بھی عام ہے۔
عید کی نماز کے بعد بزرگوں اور رشتہ داروں کے ہاں حاضری دنیا ضروری ہوتا ہے جبکہ والدین اپنی بیاہی ہوئی بیٹیوں کے گھر جا کر ان کے سروں پر درازی عمر اور صحت یابی کی دعا مانگ کر ہاتھ پھیرتے ہیں۔
نوجوان اور بچے بچیاں شوخ رنگ کے کپڑے پہن کر، ہاتھوں میں مہندی لگا کر عید کے دن اپنے دوستوں اور ہم جولیوں سے بغل گیر ہوتے ہیں جبکہ عید کی رات کو ہر گھر میں گوشت ضرور پکایا جاتا ہے۔
اس سال نوروز اور رمضان کی دونوں عید ایک ساتھ ہیں اور یہ بلتستان میں آغاز بہار کا موسم ہے۔ اس وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر سفید برف ہے جبکہ گاؤں گاؤں خوبانی اور چیری کے درخت پھولوں سے لدھ گئے ہیں جسے عموماً Apricot blossom کہا جاتا ہے۔
مگر ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں عید نہایت سادگی سے منانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔