بلوچستان بھر میں سرکاری ملازمین نے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے حق میں جمعرات کو ہڑتال کی اور پورے صوبے میں سرکاری دفاتر پر تالے ڈال دیے۔
صوبے کے سرکاری ملازمین 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کے لیے سات ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ صوبے میں سرکاری ملازمین کے گرینڈ الائنس نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کا مطالبہ نہ مانا گیا تو 20 جنوری کو کوئٹہ میں دھرنا دیا جائے گا۔
صوبائی حکومت نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی آرگنائزر قدوس کاکڑ سمیت 60 سے زائد ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ 40 اساتذہ کو معطل کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے ڈپٹی آرگنائزر شفا مینگل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بجٹ میں ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بقول تین صوبوں میں یہ الاؤنس دے دیا گیا لیکن بلوچستان کے تین لاکھ ملازمین کو اس الاؤنس سے تاحال محروم ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملازمین کے مسائل کا ’ہمیں ادراک ہے لیکن تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین ڈی آر اے دینے کی صورت میں خزانے پر 17 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ ہم مشاورت کر رہے ہیں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔‘
ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے ینگ ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن، کلرکس ایسوسی ایشن سکول اور کالج کے اساتذہ پر مشتمل تنظیموں نے گرینڈ الائنس بلوچستان کے پلیٹ فارم سے جہدوجہد کا فیصلہ کیا جو جون 2025 سے جاری ہے۔
حکومت بلوچستان نے وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی کی سربراہی میں صوبائی وزرا، افسرون اور گرینڈ الائنس کے قائدین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جس نے متعدد اجلاسوں کے بعد مشترکہ سفارشات تیار کیں۔
سرکاری ملازمین کے اتحاد کا کہنا ہے کہ مشترکہ سفارشات پر گرینڈ الائنس اور حکومتی عہدےدار دونوں متفق ہو گئے تھے اور حکومتی نمائندوں نے وعدہ کیا کابینہ کے اجلاس میں اس سفارشات کو پیش کر کے منظورہ دی جائی گی لیکن ان کے بقول کابینہ کے گذشتہ تین اجلاسوں میں اس مسودے کو پیش نہیں کیا گیا جس کے بعد دوبارہ پرامن جہدوجہد کا راستہ اختیار کیا گیا۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے ڈپٹی آرگنائزر شفا مینگل نے بتایا کہ ’اب تک ہمارے اتحاد کے صدر سمیت مختلف میں 60 سے زائد عہدےداروں کو گرفتار کیا گیا اور مزید گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ 40 لیکچراز اور پروفیسر وں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ وزیر اعلیٰ، گورنر اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے علاوہ ہائیکورٹ کے ملازمین کی تنخوائیں ہمارے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں بھی 30 فیصد ڈی آر اے دیا جائے۔‘
شفا مینگل نے کہا کہ پورے صوبے میں تمام سرکاری دفاتر کی تالا بندی ہے 20 جنوری کو کوئٹہ شہر کے ریڈ زون میں دھرنا دیا جائے گا۔ ’اگر حکومت نے اس دوران سختی کرنے کی کوشش کی یا تشدد کیا تو پھر غیر معینہ مدت تک تالہ بندی کریں گے۔‘
گرینڈ الائنس کی ہڑتال کے باعث سرکاری دفاتر میں روز مرہ کا امور شدید متاثر ہے جس کی وجہ سے سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
صوبے کے سیاسی جماعتوں نے بھی گرینڈ الائنس کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور حکومت پر زور دیا کہ ملازمین کو فوری طور پر ڈی آر اے دیا جائے۔