فٹنس ٹریکرز اہداف پورے نہ ہونے پر ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق فٹنس اور کیلوری ٹریک کرنے والی ایپس صارفین میں شرمندگی، جھنجھلاہٹ اور مایوسی جیسے جذبات پیدا کر رہی ہیں، خاص طور پر جب وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پاتے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق فٹنس اور کیلوریز ٹریک کرنے والی ڈیوائسز ان صارفین میں ’شرمندگی‘ کا احساس پیدا کر سکتی ہیں جو اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پاتے (اینواتو)

ایک نئی تحقیق کے مطابق فٹنس اور کیلوریز ٹریک کرنے والی ڈیوائسز ان صارفین میں ’شرمندگی‘ کا احساس پیدا کر سکتی ہیں جو اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پاتے۔

یونیورسٹی کالج لندن اور لوفبرو یونیورسٹی کے ماہرین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہزاروں پوسٹس کا تجزیہ کیا۔

اس تحقیق میں پانچ سب سے زیادہ منافع بخش فٹنس ایپس کے بارے میں 58,881 پوسٹس کا جائزہ لیا گیا، جس سے ان مقبول ٹولز کے ممکنہ منفی نفسیاتی اثرات سامنے آئے۔

بعد ازاں ان پوسٹس کو فلٹر کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ کن میں ’منفی جذبات‘ کا اظہار کیا گیا، جس کے نتیجے میں 13,799 پوسٹس سامنے آئیں۔

محققین نے پایا کہ صارفین غیر صحت بخش غذا کا اندراج کرنے پر ’شرمندگی‘ محسوس کرتے ہیں۔ ایپس کی جانب سے بار بار آنے والی نوٹیفکیشنز پر انہیں ’جھنجھلاہٹ‘ ہوتی ہے اور جب وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پاتے تو وہ ’مایوسی‘ محسوس کرتے ہیں۔

تحقیق میں یہ خدشات بھی سامنے آئے کہ وزن کم کرنے کے مقاصد پر مبنی الگورتھم کے ذریعے بنائے گئے اہداف بھی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

ماہرین نے برٹش جرنل آف ہیلتھ سائیکالوجی میں لکھا کہ: ’یہ ایپس ایسے الگورتھمز پر انحصار کرتی ہیں جو حقیقی زندگی کی لچک اور پیچیدگی کو ظاہر نہیں کرتے، نہ ہی افراد کے حالات اور فرق کو مدنظر رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے ایک صارف کی مثال بھی دی جس نے لکھا: ’اگر مجھے اپنے وزن کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنا ہے تو مجھے روزانہ 700 کیلوریز کم  لینی ہوں گی (کیلوری کی مقدار ہر فرد کے لیے انفرادی طور پر مختلف ہو سکتی ہے)۔‘

کچھ صورتوں میں یہ تجربات ’حوصلہ شکنی‘ کا باعث بنے اور صارفین نے اپنے اہداف چھوڑنے کا رجحان دکھایا۔

محققین نے تجویز دی کہ فٹنس ایپس کو سخت کیلوری کاؤنٹ اور ورزش کے نظام سے ہٹ کر ایک زیادہ جامع طریقہ اپنانا چاہیے۔

یونیورسٹی کالج لندن کی ڈاکٹر پالینا بوندارونیک نے کہا: ’اب تک بہت کم تحقیق نے ان ایپس کے ممکنہ نقصان دہ اثرات کا جائزہ لیا ہے۔‘

سوشل میڈیا ہمیں بڑی مقدار میں ڈیٹا فراہم کرتا ہے جو ان اثرات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے اور اے آئی کی مدد سے ہم اس ڈیٹا کا تیزی سے تجزیہ کر سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’ہم نے ان پوسٹس میں بہت زیادہ خود پر الزام لگانے اور شرمندگی جیسے احساسات دیکھے، جہاں لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اتنا اچھا نہیں کر رہے جتنا انہیں کرنا چاہیے۔ یہ جذباتی اثرات لوگوں کی حوصلہ افزائی اور صحت دونوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مشورہ دیا: ’صرف وزن کم کرنے جیسے محدود اہداف کے بجائے، ہیلتھ ایپس کو مجموعی صحت اور اندرونی حوصلہ افزائی (یعنی کسی سرگرمی سے حاصل ہونے والی خوشی یا اطمینان) پر توجہ دینی چاہیے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا: ’ہمیں خود پر سختی نہ کرنا سیکھنا ہوگا۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ خود کو موردِ الزام ٹھہرانا ہمیں بہتر بنائے گا، لیکن حقیقت میں اس کا الٹا اثر ہوتا ہے۔‘

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ’ہم نے صرف منفی پوسٹس کا جائزہ لیا ہے، اس لیے ہم ان ایپس کے مجموعی اثرات کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ممکن ہے کہ ان کے کچھ نقصانات ہوں، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ فائدہ مند بھی ہوں۔‘

تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر لوسی پورٹر نے کہا: ’سوشل میڈیا پر صارفین کی رائے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فٹنس ایپس بعض اوقات لوگوں کو مایوس اور ہمت ہارنے پر مجبور کر دیتی ہیں جو کہ ان ایپس کے مقصد کے بالکل برعکس ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ خود کو شرمندہ اور افسردہ محسوس کرنا صحت مند اور طویل مدتی تبدیلی میں مدد نہیں دیتا۔ اب ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ اثرات کتنے عام ہیں اور کیا فٹنس ایپس کو اس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگوں کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت