کیا ہیلتھ انفلوئنسر ہماری صحت ’ہائی جیک‘ کر رہے ہیں؟

آج ہمیں طبی معلومات تک زیادہ رسائی ہے لیکن سوشل میڈیا کے اے آئی ماڈل اور انفلوئنسر ہماری صحت کو نقصان، اور ڈاکٹروں کے کام کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔

سیریز ’ایپل سائڈر ونیگر‘ میں صحت کے وائرل ٹوٹکوں کے مسئلے پر غور کیا گیا ہے (نیٹ فلکس)
 

آپ نے کتنی بار اپنی کسی علامت کو گوگل کیا ہے؟ یا مصنوعی ذہانت سے اپنی حالت کی تشخیص کرنے کا پوچھا ہے؟ یا کسی ’انفلوئنسر‘ کے اس ’ویلنس ہیک‘ پر یقین کر لیا ہے جو بغیر کسی سائنسی ثبوت کے آپ کے علاج کا دعویٰ کرتا ہے؟

اگر ان سوالات کا جواب ’اکثر‘ یا ’کبھی کبھار‘ ہے تو آپ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی تعداد برطانیہ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہاں تقریباً نصف آبادی (48 فیصد) بیمار ہونے پر آن لائن معلومات کی بنیاد پر خود اپنی تشخیص کرتی ہے۔

جب این ایچ ایس میں انتظار کا وقت طویل ہو اور سروسز تک رسائی مشکل تو ہفتے کے کسی بھی دن جنرل پریکٹیشنر کے مقابلے میں چیٹ جی پی ٹی سے رجوع کرنا آسان لگتا ہے۔

ویسے بھی 30 فیصد ڈاکٹر خود مریضوں کے معائنے کے دوران اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صرف قیمتی وقت بچا رہے ہیں۔

بی بی سی ’نیوز نائٹ‘ کی سابقہ ہیلتھ کارسپونڈنٹ ڈیبورا کوہن اپنی نئی کتاب Bad Influence: How the Internet Hijacked Our Health میں دلیل دیتی ہیں کہ آن لائن معلومات کی بھرمار اور اسے بیچنے والے ہیلتھ انفلوئنسرز ہمیں مزید بیمار اور الجھن کا شکار کر سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں جب ہیلتھ سروسز ناکام ہوتی ہیں تو تجارتی عناصر اس خلا کو پر کرنے کے لیے آجاتے ہیں، چاہے وہ معلومات اچھی ہوں یا بری۔

خواتین کے لیے اینڈومیٹرائیوسس یا پولی سسٹک اوویرین سنڈروم (پی سی او ایس) جیسی بیماریوں کی تشخیص میں سالوں لگ سکتے ہیں۔

کوہن کہتی ہیں ’یہیں سے سوشل میڈیا قدم رکھتا ہے تاکہ خواتین خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔‘ انفلوئنسرز آپ کو احساس دلاتے ہیں کہ آپ کی بات سنی جا رہی ہے اور وہ آپ کی مدد کر رہے ہیں۔

لیکن مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب اس ’خیر سگالی‘ کو بغیر کسی ثبوت کے مصنوعات بیچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جگہ جگہ عطائی موجود ہیں۔ نیٹ فلکس کی سیریز ’ایپل سائیڈر ونیگر‘ کا موضوع بننے والی آسٹریلوی انفلوئنسر بیل گبسن نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ورزش اور غذا کے ذریعے اپنے کینسر کا علاج کیا۔

انہوں نے ان لوگوں کا استحصال کر کے ہزاروں ڈالر کمائے جو ان پر یقین رکھتے تھے، یہاں تک کہ آسٹریلیا کی فیڈرل کورٹ نے ان پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔

آن لائن معلومات نہ صرف ہمیں فضول اشیا خریدنے پر مجبور کرتی ہیں، بلکہ یہ ہمیں حقیقت میں بیمار بھی محسوس کروا سکتی ہیں۔

یہ محض ’سائبر کونڈریا‘ (آن لائن پڑھ کر وہم کرنا) سے آگے بڑھ کر حقیقی علامات پیدا کرنے تک جا سکتا ہے۔

کرونا وائرس کی وبا کے دوران بہت سی نو عمر لڑکیوں میں ایسی علامات (ٹکس) پیدا ہوئیں جو ٹوکیٹ سنڈروم (Tourette’s) جیسی تھیں۔

ڈاکٹروں نے اس کا سراغ ٹک ٹاک کے ان انفلوئنسرز تک لگایا جنہیں یہ لڑکیاں دیکھ رہی تھیں۔ یہ علامات ذہنی دباؤ اور بے چینی کا لاشعوری اظہار تھیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے جذب کی جا رہی تھیں۔

اسی طرح ’نوسیبو ایفیکٹ‘ کے ذریعے ہم جس بیماری کی ویڈیو دیکھتے ہیںم ویسا ہی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ کوہن اسے ’دیکھنے، یقین کرنے اور پھر محسوس کرنے‘ کا عمل کہتی ہیں۔

کوہن ’بارنم ایفیکٹ‘ یا ’ہورو سکوپ ایفیکٹ‘ کا بھی تذکرہ کرتی ہیں۔ ’جب آپ اپنا زائچہ پڑھتے ہیں تو اس میں ایک یا دو ایسی باتیں ضرور ہوتی ہیں جو آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہی کے بارے میں ہیں۔‘

یہی کچھ تب ہوتا ہے جب انفلوئنسرز بیماریوں کی علامات (جیسے اے ڈی ایچ ڈی) بیان کرتے ہیں۔ وہ اکثر ایسی علامات بتاتے ہیں جو کسی طبی کتاب میں نہیں ہوتیں لیکن لوگ انہیں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ ’یہ تو بالکل میرے بارے میں ہے۔‘

سوشل میڈیا پر معلومات بہت یقین کے ساتھ دی جاتی ہیں۔ ہر پوسٹ دعویٰ کرتی ہے کہ یہ ’معجزاتی پراڈکٹ‘ آپ کا وزن کم کر دے گی یا نیند کا مسئلہ حل کر دے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر ایسی باتیں نہیں کرتے کیونکہ طب کا تعلق ’غیر یقینی صورتحال، شماریات اور خطرات‘ سے ہوتا ہے۔

کوہن کے مطابق خود کو محفوظ رکھنے کے لیے تین باتوں پر عمل کریں: یہ پوچھیں کہ کوئی آپ کو یہ معلومات کیوں دے رہا ہے؟ اس پر نظر رکھیں کہ اس تشہیر سے کون پیسے کما رہا ہے؟ سوال کریں کہ کیا اس علاج کے فوائد اور نقصانات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود ہے؟

کوہن کہتی ہیں کہ مکمل طور پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بس تھوڑا سا ’شکوک و شبہات‘ کا حامل ہونا ضروری ہے۔

سوشل میڈیا یا اے آئی کے مشوروں کو ہمیشہ سرکاری طبی ویب سائٹس (جیسے این ایچ ایس) سے کراس چیک کریں۔

آخر میں وہ کہتی ہیں کہ این ایچ ایس کو مریضوں کے ساتھ رابطے کا طریقہ بہتر بنانا ہو گا تاکہ لوگ مجبور ہو کر سوشل میڈیا پر استحصال کا شکار نہ ہوں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت