کراچی کی نسیم امجد کہتی ہیں کہ ’ایک طرف اپنی ننھی بچی کی تکلیف اور دوسری طرف یہ احساس کہ وہ خود اور ان کے شوہر بھی تھیلیسیمیا مائنر ہیں۔‘
ان جوان ماں باپ کے سیاہ کالے بال سفید ہو جاتے ہیں، جسم ایک سال میں ڈھل جاتا ہے، آنکھیں اندر کو دھنس جاتی ہیں، بھوک مر چکی ہوتی ہے اور آس اپنی سانس کی نہیں، بچے کے لیے اگلی بوتل خون کی ہوتی ہے۔