خون عطیہ کرنے کا رضاکار گروپ چلانے والے پولیس اہلکار

ریپڈ رسپانس یونٹ میں تعینات شیر عالم گذشہ چار سال سے یہ مہم وٹس ایپ گروپ کے ذریعے چلا رہے ہیں جہاں ان کے پاس دوسرے پولیس اہلکاروں کے علاوہ مختلف شعبوں سے وابستہ لوگ ایڈ ہیں۔

پولیس سٹیشن تخت بائی میں ہیڈ کانسٹیبل شیر عالم مردان پولیس کے وہ اہلکار ہیں جو اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ ضرورت مند لوگوں کو خون عطیہ کرنے کے لیے مہم چلاتے ہیں اور سینکڑوں ضرورت مندوں کو خون دینے کا بندوبست کر چکے ہیں۔

ریپڈ رسپانس یونٹ میں تعینات شیر عالم گذشتہ چار سال سے یہ مہم وٹس ایپ گروپ کے ذریعے چلا رہے ہیں جہاں ان کے پاس دوسرے پولیس اہلکاروں کے علاوہ مختلف شعبوں سے وابستہ لوگ ایڈ ہیں۔ ڈھائی سو افراد کے دو گروپس میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس اپنے ڈونرز ہوتے ہیں۔ شیر عالم کا یہ رضاکار گروپ ڈھائی سے تین ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ان لوگوں کو خون دیتے ہیں جن کے گھر والوں یا رشتہ داروں میں بلڈ گروپ دستیاب نہیں ہوتا، یا وہ غریب ہوں اور خون کا بندوبست نہیں کر سکتے۔ گر خون دینے والا بندہ مریض تک نہیں جاسکتا، اس کے پاس کرایہ نہ ہو تو وہ بھی ہم اپنی جیب سے دیتے ہیں۔

یہ خیال کس طرح آیا؟

شیر عالم بتاتے ہیں کہ  2018 میں ان کے بھانجے کا پشاور میں برین ٹیومر کا آپریشن تھا۔ انہیں خون کے عطیے کے لیے کال آئی تو وہ پشاور چلے گئے۔ ’وہاں میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا کہ کیوں نہ ایسی کوئی سروس بنائی جائے کہ جسے پشاور میں خون درکار ہو اسے مردان سے نہ آنا پڑے یا مردان میں کسی کو خون کی ضرورت ہو تو وہ پشاور نہ آئے اور مریض کو وہاں پر خون مہیا ہوجائے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی ٹیم نے ایک سال میں ایک ہزار کے لگ بھگ خون کے بیگ عطیہ کیے ہیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہفتے میں انہوں نے 52 بیگز خون مہیا کیے جب کہ ایک مریض ایسا تھا جسے ایل آر ایچ پشاور میں 25 بیگ دیے گئے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس ڈیوٹی کے ساتھ کس طرح یہ مہم چلا رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’ڈیوٹی تو پولیس کی 24 گھنٹے ہوتی ہے اور اکثر اس میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن میرے ساتھ  گروپ میں دیگر پولیس ساتھی ایڈ ہیں۔ اگر میں مصروف ہوتا ہوں تو دوسرے بندوں کو ہم میسج پاس کر دیتے ہیں کہ بھائی آپ اس پر کام کریں یا وہ مصروف ہو تو تیسرے بندے کو پیغام پاس ہوجاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ یہ مہم چار سال سے چلا رہے ہیں مگر گذشتہ ایک سال سے ساتھیوں کی مدد سے اس مہم میں تیزی آ گئی ہے۔

ان کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے ان کے ساتھ کافی تعاون کیا جا رہا ہے اور سپاہی سے لے کر افسر تک سب حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

شیر عالم نے بتایا کی گذشتہ دنوں ایک دہشت گرد حملے میں ایک ساتھی سپاہی زخمی ہوئے جن کا بلڈ گروپ نایاب تھا، ان کے لیے بھی شیر عالم نے جی جان لگا کر ڈونر ڈھونڈے اور خون کا بندوبست کیا۔ اس سپاہی کو شیر عالم کی مدد سے تقریباً دو ماہ میں 120 سے زائد خون کے بیگز لگ چکے ہیں۔

شیر عالم کا گروپ تھیلیسیمیا کے مریضوں کی بھی مدد کرتا ہے، جنہیں 20 یا 28 دن بعد خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایسے مریضوں کو رجسٹر کر لیا جاتا ہے۔ ’ہر 20 دن بعد ہم خود ان سے رابطہ کرتے ہیں کہ آپ آ سکتے ہیں، ہم نے آپ کے لیے خون کا بندوبست کیا ہوا ہے اور بلڈ بینک میں پڑا ہوا ہے۔‘

انہوں نے عوام سے تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے خون عطیہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا:  ’تھیلیسیما کے مریض کو ہر 20، 22 دن بعد خون چاہیے ہوتا ہے، اگر وہ ہم ان کو دیں تو ان کی 20، 22 دن کی زندگی آپ کے ایک بلڈ بیگ پرانحصار کرتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا