پولیس نے گرفتاری کی ایک رپورٹ میں کہا کہ ’دستیاب زبانی، دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے یہ واضح ہے کہ چندہ گننے کے لیے تعینات ملازمین نے تواتر کے ساتھ چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘
الخدمت فاؤنڈیشن کے زیرانتظام ’آغوش‘ میں صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے وہ بچے زیر تربیت ہیں جن کے والد حیات نہیں ہیں اور ان کی تمام تر کفالت کی ذمہ داری اس ادارے کے ذمے ہے۔