عمرے کی رقم سیلاب زدگان کو عطیہ کرنے والے بچے کی کہانی

پشاور کے رہائشی پانچ سالہ احمد مصطفیٰ کے پاس کل دو ہزار روپے جمع ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان پیسوں سے اپنے والد کے ساتھ عمرے کے لیے جائیں۔

سوشل میڈیا پر احمد مصطفیٰ کے ایثار کی کہانی وائرل ہے اور لوگ اسے بہت سراہ رہے ہیں (فوٹو: والد حکیم زادہ)

خیبرپختونخوا کے ایک ایسے بچے کی ویڈیو ان دنوں گردش میں ہے، جس نے سیلاب زدگان کے لیے عطیات جمع کرنے والے کیمپ میں اپنا گُلک پیش کرتے ہوئے منتظمین کو بتایا کہ اس نے یہ پیسے عمرے کے لیے اکٹھے کیے تھے، جو وہ اب سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے دینا چاہتا ہے۔

یہ سن کر نہ صرف کیمپ میں بیٹھے افراد آبدیدہ ہو گئے بلکہ سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو دیکھنے والے بھی بچے کے جذبے کو سراہتے ہوئے اسے داد دے رہے ہیں۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اور سماجی شخصیت ظفر خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی سربراہی میں ایک کیمپ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں قائم کیا گیا تھا، جہاں ریکارڈ کی خاطر اکثر منتظمین کیمپ کی سرگرمیوں کو فلم بند کرتے رہتے ہیں۔

ظفر خٹک نے بتایا کہ جب ایک چھوٹا بچہ ہاتھ میں نیلے رنگ کا گُلک لیے سٹیج پر آیا تو وہ چونک گئے۔

انہوں نے بتایا: ’جب بچے سے بات ہوئی اور اس نے یہ کہا کہ یہ اسے اپنے والدین اور رشتہ داروں سے ملنے والے پیسے تھے، جو اس نے عمرے کے لیے جمع کیے تھے، لیکن اب وہ چاہتا تھا کہ یہ پیسے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے استعمال ہوں، تو میں اپنے آنسوؤں کو مزید نہ روک سکا۔‘

پیسے عطیہ کرنے والا بچہ کون ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے جب اس بچے کے والد حکیم زادہ  سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کا نام احمد مصطفیٰ ہے اور اس کی عمر بمشکل پانچ سال ہے۔

حکیم زادہ نے بتایا کہ وہ بنیادی طور پر ضلع مالاکنڈ کے علاقے تھانڑہ سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم کاروبار اور بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں وہ کئی سالوں سے پشاور میں مقیم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے تین بیٹے ہیں اور احمد ان سب میں آخری نمبر پر ہے۔

حکیم زادہ کا کہنا تھا: ’میں بچوں کو ہر رات  سونے سے پہلے ایک سبق آموز کہانی سناتا ہوں۔ انہی میں سے ایک کہانی میں نے بچوں کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کے ایثار کی بھی سنائی تھی، جب جنگ کا زمانہ تھا اور عمر فاروق نے گھر کا آدھا سامان جبکہ ابوبکر صدیق نے گھر کا تمام سامان عطیہ کیا تھا۔ یہ کہانی بچوں کو یاد تھی، لہذا جب سیلاب آیا تو بڑے بیٹے نے الخدمت کو اپنے پیسوں میں سے پانچ سو روپے اور احمد نے تمام جمع شدہ پیسے دیے۔‘

احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ انہیں عیدی اور کلاس میں بہتر پرفارمنس دکھانے پر والدین اور رشتہ داروں سے ملنے والے پیسے تھے۔

احمد کے مطابق ان کے پاس کل دو ہزار روپے جمع ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان پیسوں سے اپنے پاپا کے ساتھ عمرے کے لیے جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافی سبوخ سید نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ انہوں نے احمد کے حوالے سے سعودی سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا ہے، جنہوں نے بچے کو اپنے خرچ پر عمرے کے لیے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم حکیم زادہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تاحال ان کے ساتھ سفارت خانے کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’مجھے لوگوں سے اس بات کا علم ہوا ہے، لیکن سرکاری طور پر مجھے کوئی پیغام نہیں ملا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اسے اپنی خوش نصیبی سمجھیں گے۔‘

حکیم زادہ نے بتایا کہ جب وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے تو ان کے والد فوت ہوگئے تھے، جس کے بعد انہوں نے زندگی میں نہایت کٹھن حالات اور مشکلات دیکھیں، لیکن اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور نہ صرف تعلیم مکمل کی بلکہ مائیکرو بیالوجی میں پی ایچ ڈی بھی کی۔

انجمن تاجران کے صدر ظفر خٹک نے بتایا کہ حکیم زادہ نے غریب افراد کی مدد کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی لیبارٹری بھی کھول رکھی ہے، جہاں وہ کئی سالوں سے غریب افراد کے مفت ٹیسٹس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’شاید یہ انہی بے لوث خدمتوں کا ثمر ہو۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل