شہزادہ چارلس پر اسامہ بن لادن کے بھائیوں سے عطیات لینے پر تنقید

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے شہزادے چارلس کی چیریٹی فاؤنڈیشن نے سابق القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے بھائیوں بکر اور شفیق سے 10 لاکھ پاؤنڈ وصول کیے تھے۔

برطانیہ کے شہزادہ چارلس سات جولائی 2022 کو ویلز میں ہئے کیسل کے دورے کے دوران تصویر کھنچواتے ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

برطانیہ کے شہزادے چارلس کو ہفتے کے روز اپنے فلاحی ادارے  کو ملنے والے عطیات کے بارے میں اس وقت مزید سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جب یہ بات سامنے آئی کہ ان کی چیریٹی فاؤنڈیشن نے اسامہ بن لادن کے خاندان سے 10 لاکھ پاؤنڈ وصول کیے تھے۔

سنڈے ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق شہزادہ چارلس نے مبینہ طور پر یہ رقم بکر بن لادن اور ان کے بھائی شفیق سے حاصل کی، جو سعودی عرب کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم کلیرنس ہاؤس نے وضاحت کی کہ یہ عطیہ پرنس آف ویلز کے چیریٹی فنڈ نے قبول کیا تھا، نہ کہ چارلس نے بذات خود۔

بکر اور شفیق دونوں القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے سوتیلے بھائی ہیں۔ ان کے والد محمد بن عواد بن لادن ایک یمنی نژاد ارب پتی تھے جنہوں نے تعمیرات کے شعبے کے ذریعے دولت کمائی۔

1967 میں موت سے پہلے ان کی کم از کم 11 بیویاں اور 54 بچے تھے۔

بن لادن خاندان نے کئی دہائیوں قبل 11 ستمبر کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کو عاق کر دیا تھا۔ اس بات کے بھی کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ بکر اور شفیق یا بن لادن خاندان کے کسی اور افراد نے دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت کی ہو یا اس میں ملوث رہے ہوں۔

سنڈے ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ شہزادہ چارلس نے 30 اکتوبر 2013 کو کلیرنس ہاؤس میں 76 سالہ بکر کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے بعد اس عطیے پر بات چیت کی تھی۔

کلیرنس ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں پرنس آف ویلز کے چیریٹی فنڈ کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ’اس عطیے کو قبول کرتے وقت ہر ممکن احتیاط سے کام لیا گیا تھا۔‘

مزید کہا گیا: ’عطیہ قبول کرنے کا فیصلہ خیراتی ادارے کے ٹرسٹیز نے اکیلے لیا تھا اور اسے شہزادہ چارلس سے منسوب کرنے کی کوئی بھی کوشش غلط ہے۔‘

سنڈے ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ شہزادہ چارلس کے کئی مشیروں نے انہیں یہ عطیہ واپس کرنے کو کہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ انہوں نے شہزادے سے اس بارے میں استفسار کیا کہ ’آپ ایسا کیوں کریں گے؟ ایسا کرنے کی کیا وجہ ہے؟ میرا نہیں خیال کہ برطانوی شاہی خاندان کے کسی فرد کو اس قسم کے کام میں شامل ہونا چاہیے۔‘

محل کے ایک اور اندرونی ذرائع نے کہا: ’دنیا میں پیسے کے اور بھی ذرائع ہیں۔‘

فنڈ کے چیئرمین سر ایان چیشائر نے اخبار کو بتایا کہ عطیے پر اس وقت پانچ ٹرسٹیز نے اتفاق کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا: ’2013 میں شیخ بکر بن لادن کی طرف سے عطیے پر اس وقت پی ڈبلیو سی ایف کے ٹرسٹیز نے اطمینان سے غور کیا تھا۔ حکومت سمیت متعدد ذرائع سے معلومات طلب کرتے ہوئے اس پر مستعدی سے کارروائی کی گئی۔ عطیہ قبول کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر ٹرسٹیز نے لیا تھا۔ شہزادے کو اس سے منسلک کرنے کی کوئی بھی کوشش گمراہ کن اور غلط ہے۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے سر ایان چیشائر سے رابطہ کیا ہے۔

گذشتہ ماہ یہ رپورٹ بھی آئی تھی کہ شہزادہ چارلس نے ایک قطری شیخ سے سوٹ کیس میں 10 لاکھ یورو وصول لیے تھے۔

مبینہ طور پر شہزادہ چارلس کو یہ سوٹ کیس قطری سیاست دان شیخ حمد بن جاسم بن جابر الثانی نے ذاتی طور پر دیا تھا۔

یہ کل رقم یعنی 30 لاکھ یورو کی تین قسطوں پر مبنی رقم کا حصہ تھی، جو چارلس کی خیراتی فاؤنڈیشن کو عطیہ کی گئی تھی۔

چیریٹی کمیشن نے حال ہی میں عطیات کی تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے چیریٹی کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لیا ہے اور طے کیا ہے کہ کمیشن کے لیے اس میں مزید کوئی ضابطہ کار کردار نہیں ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا