آٹھ سال قبل سردی کی ایک شام اس نے اچانک کھڑے ہو کر گول گول گھومنا شروع کر دیا، جیسے کچھ کھوج رہا ہو۔ پھر اپنی ماں کو مخاطب کر کے کہا، ’اماں مجھے پکڑ لیں۔‘ میں اپنی دوست کے گھر آئی ہوئی تھی۔ جلدی سے ازفر کی ماں کو آواز دی کہ آؤ دیکھو، اور ازفر کو میں نے پیار سے گلے لگایا اور خود سے قریب کر کے بٹھا لیا۔
اس دوران مجھے لگا کہ ازفر کی آنکھوں کی پتلیاں اپنی جگہ پر نہیں ہیں۔ چند سیکنڈ بعد وہ نارمل ہوا اور جیسے اسے کچھ یاد ہی نہ ہو۔ وہ میری قریبی دوست کا بیٹا ہے۔ اب اس بات کو آٹھواں سال ہے اور ازفر ’ایپیلیپسی یا مرگی‘ کی دوا روز دن میں دو بار لیتا ہے۔ وہ ایک ٹین ایجر ہے جس کے والدین کے لیے سب سے بڑا مرحلہ اس کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ازفر تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ایک نوجوان ہے، جسے سکول کی کتابوں کا بوجھ نہ صرف کندھوں پر بلکہ دماغ پر بھی محسوس ہوتا ہے۔ دوا کی باقاعدگی اور روزمرہ کی چند احتیاطیں میری دوست عبیر کو ایسے ہی ازبر ہیں جیسے نماز کے بعد درود شریف۔
مرگی کے دورے دماغ کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے برقی خلل کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس کی ہر مریض میں علامات مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے کچھ بچوں میں دن میں خواب دیکھنا، یہ پہلے بھی ہو چکا ہے کا احساس، جسم میں جھٹکے لگنا یا جسم کا اکڑ جانا وغیرہ۔
عبدالستار ایدھی صاحب بھی مرگی سے نبرد آزما تھے، لیکن ایک نارمل زندگی جی اور انسانیت کے لیے اتنا کچھ کر گئے کہ ’ایدھی اور انسانیت‘ جیسے ہم معنی ہو گئے۔
ازفر کی ماں اور میری دوست عبیر کا ماننا ہے کہ جب سے اس کے چھوٹے بیٹے کو مرگی کی تشخیص ہوئی ہے، اس کا آدھا دل جیسے بند سا ہو گیا ہے۔
بقول عبیر، ’آٹھ سال ہو گئے، میں شاید ہی پوری نیند سوئی ہوں۔ ازفر اب سولہ سال کا ہونے والا ہے لیکن میرے کمرے میں ہی سوتا ہے۔ شاید اس کی کروٹوں کا حساب بھی مجھے یاد ہو۔ وہ اکثر سوتے میں کراہتا بھی ہے۔ میں جاگ جاتی ہوں، اسے چت نہیں سونے دیتی۔ سب سے دکھ اس وقت ہوتا ہے جب اسے سوتے میں دورہ پڑ جائے۔ اس کا سر ایک جانب ڈھلک جاتا ہے اور اس میں شدید تکلیف ہوتی ہے، جیسے کسی نے ہتھوڑا مار دیا ہو۔ اس کے ہاتھ پیر اکڑ جاتے ہیں لیکن وہ پورے ہوش میں ہوتا ہے۔ کہتا ہے، امی میرا سر سنبھالیں۔ میں اکیلے نہیں سنبھال پاتی، اکثر مجھے بڑے بیٹے کو آواز دینا پڑ جاتی ہے۔‘
ازفر کے نیورولوجسٹ کے مطابق، ’ازفر کو باتھ روم لاک نہیں کرنا چاہیے، گاڑی شاید نہ ہی چلا سکے، بھوکا رہنا اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، سیڑھیاں اترتے وقت احتیاط لازمی ہے وغیرہ وغیرہ۔‘
دواؤں کے ساتھ سب نارمل ہو جاتا ہے لیکن جیسے سب جکڑا ہوا سا رہتا ہے۔ بقول عبیر، ’میں اس کے لیے سبھی احتیاطوں کے ساتھ ایک نارمل زندگی کی دعا گو رہتی ہوں اور ہر قدم پر اس کی مدد اور رہنمائی کے لیے تیار ہوں۔‘
ازفر کی روداد کے علاوہ بھی چند والدین اور بہن بھائیوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے اپنے تجربات بانٹے۔ جیسے امینہ، جو ایک لوکل صحافی بھی ہیں، ان کا اپنی بہن عالیہ کے بارے میں کہنا تھا کہ ’عالیہ کا بچپن میں غصہ تیز تھا۔ ہمارے والد کی تو کافی عرصہ ہوا وفات ہو گئی ہے، لیکن جب تک وہ تھے تب بھی عالیہ کو اکثر دورہ سا پڑا کرتا تھا۔ وہ غصہ کرتی اور بیہوش بھی ہو جاتی۔ بھوک برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ اگر اس کی بات نہ سنی جاتی تو بھی بہت ناراضگی کا اظہار کرتی۔ ہم تب گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ محلے والے اور رشتہ دار اس پر جن یا کسی آسیب کا شبہ کرتے، دم درود کرواتے۔ لیکن جب علاج شروع ہوا تو پتا چلا کہ اسے تو مرگی کا مرض لاحق ہے، اور یہ ہماری فیملی میں کچھ اور لوگوں کو بھی تھا۔‘
اب جبکہ عالیہ کی اپنے کزن سے ہی شادی ہو چکی ہے، یاد رہے کہ انہیں بھی بچپن میں مرگی تھی لیکن اب وہ مکمل صحت مند ہیں۔ اب جب بھی کبھی عالیہ کو دورہ پڑتا ہے تو انہیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اپنی اہلیہ کا خیال رکھنا ہے۔
والدین ہوں یا بہن بھائی یا کوئی اور رشتہ دار، سبھی ایسے مریض کے ساتھ رہتے ہوئے متاثر تو ضرور ہوتے ہیں۔ ایسے مریض اکثر اپنی ذہنی عمر سے کم ہی behave کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل ایک ماہرِ نفسیات نے ازفر کی والدہ کو یہ بھی سمجھایا کہ بے شک ان کا بیٹا پندرہ سال کا ہے اور او لیول کا شاگرد ہے، لیکن اس سے دس سال کے بچے جیسا برتاؤ رکھیں۔
ان مریضوں کی دوائیں بھی اعصابی خلیوں کی طرح ان کے ذہن سے کھیل رہی ہوتی ہیں، اور سب سے بڑا چیلنج والدین کے لیے یہی ہوتا ہے۔
چودہ برس کے آزر کو چھ سال قبل مرگی کی تشخیص ہوئی، جو نہ صرف اس کے لیے بلکہ والدین کے لیے بھی لمحۂ فکریہ تھا۔ آزر کھلندڑے مزاج کے ایک ٹین ایجر ہیں، جو دواؤں کے باعث اب اپنی تعلیم میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اکثر امتحانات کی ٹینشن سے انہیں مرگی آ لیتی ہے اور کبھی کسی کی بات سے چڑ جائیں تو سارا گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ جب دورے سے باہر آتے ہیں تو اکثر اداس ہو جاتے ہیں اور اپنی صحت کے حوالے سے سوال بھی اٹھاتے ہیں۔
آزر کے والد اس سب چیلنج کو کس طرح دیکھتے ہیں، تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’میرے نزدیک سب سے بڑا ٹاسک آزر کے لیے دواؤں سے سنبھالے گئے دماغ سے نمٹنا ہے۔ وہ سست بھی ہے، غصیلا بھی اور پیٹو بھی۔ ہر سمت میں اعتدال پر اسے مامور کرنا ایک بڑا چیلنج تو ہے، لیکن میں اپنے الفاظ یا طرزِ عمل سے اسے چیلنج کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ معتدل مزاج والا نوجوان بن سکے، اپنے شوق سے زندگی جی سکے اور میں اسے ایک کامیاب انسان کی صورت دیکھ سکوں۔ جانتا ہوں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں، لیکن کوشش جاری ہے۔‘
یاد رہے کہ مرگی کے سبھی مریض ناکام زندگی نہیں گزارتے، بلکہ والدین خصوصاً ماں کی سپورٹ سے خود کو سنبھال پاتے ہیں۔ ایک ماں کی سپورٹ کیا ہوتی ہے، اس کی مثال ایک کامیاب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ارشد ہیں جو مرگی کے مریض رہ چکے ہیں۔ ان کی والدہ مسز ثمرین نے انڈپینڈنٹ اردو سے اپنے تجربات بانٹتے ہوئے بتایا، ’میرے بیٹے کو چار سال کی عمر میں مرگی کی تشخیص ہوئی تھی، جب اسے اچانک چکر آنے لگتے تھے اور وہ بیہوش بھی ہو جاتا تھا۔ کچھ ڈاکٹروں سے ملنے اور معائنے کے بعد ہمیں مرگی کا پتا چلا۔ ایک جھٹکا تو لگا تھا، لیکن ہم نے اسے سر پر سوار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے بیٹے کو مرگی سے ڈرایا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مسز ثمرین کے مطابق، یہ وقت تھا اللہ سے مزید جڑ جانے کا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ علاج کے ساتھ اللہ کا قرب اور بیٹے کو بھی نماز کی عادت ڈالی، جو آج تک قائم ہے۔ دورے اکثر پڑ جایا کرتے تھے، لیکن میں نے سکول سے چھٹی نہیں کرائی اور ہمیشہ اپنے بیٹے سے کہا کہ تم کسی سے کم نہیں ہو بلکہ پڑھائی میں سب سے آگے نکلو گے۔ اس کا مزاج بھی فرق آ گیا تھا، غصہ بہت تیز تھا لیکن میں ان سے ہمیشہ ان کے مزاج کے بارے میں بات کرتی اور انہیں غلطی کا احساس بھی دلاتی۔ کوئی اخلاقی رعایت نہیں دی، تاکہ وہ نارمل انسان کی طرح معاشرے میں اپنی جگہ بنا سکیں۔
کیا ہمارا معاشرہ ایسے سپورٹ گروپس بنا پایا ہے جو مرگی کے مریض بچوں اور ان کے والدین کی رہنمائی کر سکیں اور اس مرض کے محرکات اور علاج میں مددگار ہوں؟
اس سوال کا جواب ہمیں محترمہ عائزہ نے دیا، جن کے نوجوان بیٹے عمران کو بھی یہ مرض لاحق ہے۔ ان کے مطابق، ’میرے بیٹے کی پیدائش گلگت کے ایک گاؤں میں ہوئی، جو کافی بلندی پر واقع ہے۔ اس وقت وہاں آکسیجن کی بھی بہت کمی تھی، اور شاید یہی کمی دماغ کے خلیوں کو متاثر کر گئی۔ میں اپنے بیٹے کی دوا اور غذا کا بھرپور خیال رکھتی ہوں۔ دواؤں سے اس کی صحت پر اثر پڑا ہے، وہ اب بھی خاصا کمزور ہے۔ اس کی پڑھائی بھی متاثر ہوئی، وہ کالج مکمل نہیں کر سکا۔ افسوس، اسلام آباد میں ایسے سپورٹ گروپس نہیں ہیں جو ہماری رہنمائی کر سکیں۔ شاید مرض کو چھپانا بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ ہم مرگی کو آسیب سے جوڑ دیتے ہیں اور علاج کے بجائے نام نہاد علما سے مدد حاصل کرتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ بروقت تشخیص اور سماجی برتاؤ سے ہم ان مریضوں اور ان کے والدین کی مشکلات میں کمی لا سکتے ہیں۔
ان سبھی کہانیوں سے میں نے یہ اخذ کیا کہ بلند حوصلہ اور خدا پر بھروسہ مرگی ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر جھٹکے سے کنارے لگا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔