پشاور حادثہ: رشتہ دار کی شادی کے لیے چھٹی لینے سکول جانے والی ٹیچر واپس نہ آ سکیں

اہلخانہ کے مطابق پشاور کی دیر کالونی کے نجی سکول میں پڑھانے والی سمرین بی بی ایک رشتے دار کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی لینے کی غرض سے سکول گئی تھیں کہ چھت گرنے کے حادثے میں وہ جان سے چلی گئیں۔

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے سے جان سے جانے والی ٹیچر سمرین بی بی حادثے کے روز اپنے آبائی علاقے میں ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی لینے سکول گئی تھیں، لیکن دوبارہ گھر واپس نہ آ سکیں۔

15 اکتوبر کو دیر کالونی میں واقع الخیر ایجوکیشن نامی سکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور سمرین بی بی نامی ایک ٹیچر جان سے چلی گئی تھیں۔

اہلخانہ کے مطابق تقریباً چھ ماہ سے اس سکول میں پڑھانے والی سمرین ایک رشتے دار کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی لینے کی غرض سے سکول گئی تھیں کہ یہ حادثہ ہو گیا۔

سمرین بی بی کے ماموں سردار بہادر نے انڈپینڈنٹ اردو سے فون پر گفتگو میں بتایا کہ حادثے کے دن ’وہ صبح بہت جلدی میں تھیں۔ چھوٹی بہن کو بھی کہا کہ ناشتہ جلدی کیوں تیار نہیں کیا۔ وہ سکول سے چھٹی لینا چاہتی تھیں تاکہ رشتہ دار کی شادی میں جا سکیں، لیکن کیا معلوم تھا کہ وہ آخری بار سکول جا رہی ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں 

سردار بہادر ان دنوں اپنے آبائی علاقے میں موجود ہیں، جہاں ان کی بھانجی کے انتقال پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

والد کے انتقال کے بعد ماموں نے پرورش کی

سمرین بی بی کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل سے تھا، تاہم وہ اپنی والدہ، تین بھائیوں اور چار بہنوں کے ساتھ پشاور میں رہائش پذیر تھیں۔

ان کے والد تقریباً 12 سال قبل انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد ان کی والدہ اور پشاور میں مقیم ماموں سردار بہادر نے بچوں کی پرورش کی۔

سردار بہادر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ والد کے انتقال کے وقت سمرین اور ان کے بہن بھائی کم عمر تھے، اس لیے وہ انہیں درہ آدم خیل سے پشاور لے آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’اس وقت سمرین اور ان کے بہن بھائی چھوٹے تھے۔ ہم انہیں پشاور لے آئے، یہیں تعلیم دلوائی اور یہیں رہائش اختیار کی۔‘

بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر آنے والی سمرین نے بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی اور انہیں تدریس کے شعبے سے خاص لگاؤ تھا۔

ان کے ماموں کے مطابق وہ الخیر ایجوکیشن سکول میں چند ماہ سے پڑھا رہی تھیں، جبکہ اس سے پہلے ایک قریبی نجی سکول میں تدریسی فرائض انجام دے رہی تھیں۔

سردار بہادر نے بتایا کہ سمرین کی ایک بہن بھی اسی سکول میں پڑھاتی تھیں جہاں حادثہ پیش آیا، تاہم انہوں نے تقریباً ایک ماہ قبل ملازمت چھوڑ دی تھی۔

’سکول سے چھٹی لینے گئی تھیں‘

سردار بہادر کے مطابق حادثے کے روز سمرین معمول کے برعکس بہت جلدی میں تھیں کیونکہ وہ سکول انتظامیہ سے چھٹی لے کر آبائی علاقے جانا چاہتی تھیں، جہاں دو دن بعد ان کے ایک رشتہ دار کی شادی تھی۔

انہوں نے بتایا: ’حادثے کی صبح وہ معمول سے ہٹ کر بہت جلدی میں تھیں کہ سکول جا کر چھٹی لے سکیں اور کوہاٹ میں رشتہ دار کی شادی میں شرکت کریں، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔‘

ان کے مطابق سمرین اپنی مرضی اور شوق سے تدریس کے شعبے میں آئی تھیں اور انتہائی نرم مزاج تھیں۔

’سکول پہنچا تو امدادی کارروائیاں جاری تھیں‘

حادثے کے وقت سکول میں موجود بچوں اور عملے کو نکالنے کے لیے مقامی افراد نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

سکول کے قریب رہائش پذیر نور ولی سکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے تین بچے بھی اسی سکول میں زیر تعلیم تھے۔

حادثے میں ان کے تینوں بچے محفوظ رہے، تاہم ایک بیٹے کو معمولی چوٹ آئی۔

نور ولی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ گھر واپس پہنچ رہے تھے کہ راستے میں انہیں سکول کی چھت گرنے کی اطلاع ملی، جس پر وہ فوراً جائے حادثہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

انہوں نے بتایا: ’جیسے ہی مجھے بتایا گیا کہ سکول کی چھت گر گئی ہے، میں وقت ضائع کیے بغیر وہاں پہنچ گیا اور علاقے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہو گیا۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

نور ولی کے مطابق جب وہ عمارت کی دوسری منزل پر پہنچے تو ریسکیو اہلکار سمرین بی بی کو باہر منتقل کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ سمرین کے چہرے اور ماتھے پر چوٹیں آئی تھیں اور انہوں نے ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ مل کر انہیں ایمبولینس تک منتقل کرنے میں مدد کی۔

’سمرین کہاں ہیں، کیسی ہیں؟‘

الخیر ایجوکیشن سکول کی چھت گرنے کے اس حادثے میں سمرین بی بی کی ساتھی ٹیچر مہوش زخمی ہوئی تھیں، جو ہسپتال سے گھر منتقل ہونے کے باوجود حادثے کے صدمے سے دوچار ہیں اور اب بھی سمرین کی خیریت دریافت کرتی ہیں۔

مہوش کے بھائی احسان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی بہن کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، لیکن ڈاکٹروں نے اہل خانہ کو ہدایت کی ہے کہ ان کے سامنے حادثے سے متعلق گفتگو نہ کی جائے۔

احسان خان کے مطابق حادثے کے وقت مہوش تیسری منزل پر واقع کلاس روم میں موجود تھیں، جہاں چھت گری تھی۔

انہوں نے بتایا: ’میری بہن اب بھی اپنی سہیلی سمرین بی بی کے بارے میں پوچھتی ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کیسی ہیں، لیکن ہم انہیں یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں اور ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین