محبت کی تلاش میں مایوسی؟ خوش گوار تعلق کا آغاز اپنی سوچ بدلنے سے کریں

’لیٹس فک۔۔ ڈیٹ‘ کتاب کی مصنفہ لکھتی ہیں کہ آج کل محبت کی تلاش، ایپس پر لوگوں کے پروفائل دیکھتے رہنے، اچانک رابطہ ختم ہو جانے اور ذہنی تھکن کے ایک نہ ختم ہونے والے بھنور میں بدل گئی ہے۔

 احساسات عارضی ہوتے ہیں، آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں (اینواتو)

مجھ پر ہمیشہ محبت کی دھن سوار رہی ہے۔ جب میں دو سال کی تھی تو میرے والدین کی طلاق ہو گئی۔

میرے سامنے کبھی کسی مثالی رشتے کی مثال نہیں رہی، اس لیے میں فلمیں دیکھ کر سوچتی رہتی تھی کہ محبت کیسی ہوتی ہو گی اور اپنے ہونے والے محبوب کے خواب بنتی تھی۔

لیکن تیس برس کی ہونے کو آئی تو بھی ایسے ہی مردوں سے مل رہی تھی جنہیں مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ 

وہ جذباتی طور پر قریب آنے کو تیار نہیں تھے، نہ مجھے پیغام بھیجتے، نہ ملنے کو کہتے۔

میں جتنی بار ٹھکرائی گئی، اپنے جاننے والوں میں کسی اور کو اتنی بار ٹھکرائے جاتے نہیں دیکھا۔ 20 سے 30 برس کی عمر میرے لیے ٹھکرائے جانے کا دور تھی۔

یہ کہنا بہت آسان ہے کہ تعلق کے لیے اچھے لوگ ہی نہیں ملتے، آپ جس شہر میں رہتے ہیں وہاں کوئی ڈھنگ کا شخص نہیں، یا سارے مرد ہی بیکار ہیں۔

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ کسی ساتھی کی تلاش میں ملتے ملاتے تھک چکے ہیں۔

یقیناً ہم سب کی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب خود پر اعتماد ڈگمگانے لگتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں کبھی کوئی ساتھی نہیں ملے گا۔ لیکن میں ہمیشہ سے جانتی ہوں کہ آپ کی کہی ہوئی باتیں حقیقت کا روپ دھار سکتی ہیں۔

آپ یہ تو طے نہیں کر سکتے کہ آپ کو کیسے لوگ ملیں گے، البتہ ان سے ملنے کے بارے میں اپنا رویہ ضرور بدل سکتے ہیں۔

اگر آپ بار بار یہی کہتے رہیں گے کہ آپ ہمیشہ اکیلے رہ جائیں گے تو ایسا ہی ہوگا، اور کسی سے ملنا جلنا بھی آپ کو برا لگنے لگے گا۔

28 برس کی عمر میں میری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہونے لگی تھی، اس لیے میں سمجھ گئی کہ اب کچھ کرنا ہوگا۔

میں نے دوبارہ نفسیاتی معالج سے رجوع کیا تاکہ اپنے مسائل پر سنجیدگی سے کام کر سکوں۔ مجھے احساس ہوا کہ دل ہی دل میں خود کو محبت کے لائق نہیں سمجھتی تھی۔ 

میرے لیے یہ ظاہر کرنا زیادہ آسان تھا کہ مجھے کوئی پروا نہیں، اور ایسے مردوں سے ملنا جلنا بھی جو جذباتی طور پر کسی رشتے میں بندھنے کو تیار نہیں تھے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اس بات سے بہت ڈرتی تھی کہ کوئی مجھے میری اصل شخصیت کے ساتھ جانے۔ نفسیاتی علاج نے مجھے اپنے رویے بدلنے اور تعلقات کو ایک نئے انداز سے دیکھنے میں مدد دی۔

پھر میری ملاقات اس شخص سے ہوئی جس کے ساتھ میں گذشتہ تین برس سے اپنی زندگی بنا رہی ہوں۔

اب 32 برس کی عمر میں، میں نے ’لیٹس فکسنگ ڈیٹ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے تاکہ دوسری خواتین میری غلطیوں سے سیکھیں اور کسی سے ملنے جلنے اور تعلق بنانے کے اس سفر سے لطف اٹھا سکیں۔

سب سے پہلے میں لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اگر آپ تعلق بنانے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی سوچ بھی کامیابی کی امید رکھنے والی بنانا ہوگی۔

یہ آسان نہیں، کیوں کہ کسی سے ملنے جلنے کا تجربہ واقعی مایوس کن ہو سکتا ہے۔

اسی لیے میرا مشورہ ہے کہ اپنی کیفیت کو اپنی مستقل پہچان نہ بنائیں، بلکہ اسے ایک احساس کے طور پر بیان کریں۔ مثلاً کہیں: ’مجھے مایوسی محسوس ہو رہی ہے‘ یا ’مجھے لگتا ہے کہ اب کسی اور نکمے شخص سے ملنے کی ہمت نہیں رہی۔‘

فرق یہ ہے کہ احساسات عارضی ہوتے ہیں، آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ ’مجھے کبھی کوئی نہیں ملے گا‘ تو یہی بات آپ کی حقیقت بننے لگتی ہے۔

خود سے اسی طرح بات کرنے کی کوشش کریں جیسے اپنے سب سے اچھے دوست سے کرتے ہیں۔ مجھے ذرا بھی شک نہیں کہ میرے دوستوں کو محبت ضرور ملے گی۔

کیا آپ خود کو بھی اسی عزیز دوست کی طرح دیکھ سکتے ہیں؟

اگر کسی سے تعلق بنانے کی کوششوں نے آپ کو بہت مایوس کر دیا ہے تو اس کے لیے میرا ایک نظریہ ہے، جسے میں ’تین پی کا نظریہ‘ کہتی ہوں یعنی امکان، مشق اور کہانی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ملاقات بالکل بے کار نہیں جاتی، کیوں کہ ہر ملاقات آپ کو اگلی بار کے لیے کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے۔

کسی سے مل کر آپ کو دوبارہ ملنے کا امکان نظر آتا ہے، جو خوشی کی بات ہے۔ 

ایسا نہ ہو تو بھی آپ کو مشق کا موقع مل جاتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھے ہیں جس سے دوبارہ ملنا نہیں چاہتے تو کم از کم اس کے سامنے بناوٹ کے بغیر، جیسے ہیں ویسے رہنے کی مشق کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب آپ کو نتیجے کی فکر بھی نہ ہو۔

اور اگر ملاقات بالکل ہی الٹی سیدھی گزرے اور آپ سوچیں کہ ’اب کبھی تمہاری شکل نہیں دیکھوں گی‘ تو سمجھ لیجیے کہ اس ملاقات سے آپ کو ایک کہانی مل گئی ہے۔

کوئی ایسا قصہ جسے آپ دوستوں کو سنائیں گے یا اپنی یادداشتوں میں لکھیں گے۔ اس نظر سے دیکھیں تو کوئی ملاقات بری نہیں رہتی۔

آپ کو اپنے مانوس دائرے سے باہر بھی نکلنا ہوگا، چاہے اس کا مطلب کسی نئی کافی شاپ جانا ہو یا دفتر کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا۔ کیوں کہ جب لوگوں سے آمنا سامنا ہی نہیں ہوگا تو کسی سے ملاقات کیسے ہوگی؟

کام کے بعد گھر میں بیٹھ کر چہرے پر ماسک لگانا اچھا تو لگ سکتا ہے، لیکن اس طرح کسی نئے شخص سے ملاقات نہیں ہوگی۔

29 برس کی عمر میں مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی زندگی کے ایک ہی ڈھرے پر چلنے کی عادی ہو گئی ہوں، کیوں کہ میں نے ساری زندگی نیویارک میں گزاری تھی۔ 

چنانچہ میں نے طے کر لیا کہ اسی سال آگے چل کر یہ شہر چھوڑ دوں گی۔ اس فیصلے کے بعد میرا انداز ایسا ہو گیا جیسے میں چھٹیاں گزارنے آئی ہوں۔

میں ہر دعوت اور نئے تجربے کے لیے ہاں کہنے لگی کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ اب یہاں سے چلے جانا ہے۔

میرے اندر ایک نئی توانائی آ گئی اور اچانک مجھے محسوس ہونے لگا کہ لوگ میری طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

اسی دوران فیلکس نامی ایک شخص نے مجھے سوشل میڈیا پر نجی پیغام بھیجا اور اپنے پوڈکاسٹ میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے سوچا کہ ’کیوں نہیں؟‘

گفتگو کے دوران میں اپنے دل کی باتیں کھل کر کہہ بیٹھی۔ میں نے انہیں بتایا کہ مردوں کو میری شخصیت کچھ زیادہ ہی لگتی ہے، جیسے وہ مجھے سنبھال نہ سکیں۔

انہوں نے جواب دیا کہ ’جو شخص آپ کے لیے صحیح ہوگا، اسے آپ بالکل ویسی ہی اچھی لگیں گی جیسی آپ ہیں۔‘

تین ہفتے بعد ہم باقاعدہ ایک تعلق میں تھے، اور میں نیویارک ہی میں رہ گئی۔

ان کے ساتھ مجھے تحفظ کا احساس ہوتا تھا، کیوں کہ وہ میرے لیے صحیح شخص تھے اور انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ میرے ساتھ تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں۔

میرے لیے یہ موقع بھی تھا کہ اس بار تعلق کو مختلف انداز سے آگے بڑھاؤں، اپنی حدود طے کروں اور ان باتوں پر توجہ برقرار رکھوں جن کی مدد سے کسی سے ملنا جلنا دوبارہ خوش گوار تجربہ بن سکے۔

تو کسی سے ملنے جلنے کے تجربے کو دوبارہ خوش گوار بنانے کے لیے میرے اہم مشورے یہ ہیں۔

ہر چیز خود سنبھالنے کی کوشش نہ کریں

پہلے میں ملاقات طے کرانے سے لے کر ہر انتظام خود کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ مواقع بہت کم ہیں، اور ڈر رہتا تھا کہ اگر میں نے خود کچھ نہ کیا تو سارا معاملہ ختم ہو جائے گا۔

لیکن اپنے موجودہ ساتھی فیلکس کے ساتھ تعلق کے ابتدائی دنوں میں، میں نے اپنی سوچ بدل لی۔ اگر یہ شخص مجھ سے ملنا چاہتے ہیں تو اپنے عمل سے ظاہر کر سکتے ہیں۔

اگر کوئی آپ کو پسند کرتا ہے اور آپ سے تعلق چاہتا تو وہ خود آگے بڑھے گا اور آپ سے ملنے کی کوشش کرے گا۔

صرف دو مشروبات تک ملاقات رکھیں، چاہے سب اچھا جا رہا ہو

پہلے جب کوئی مجھے بہت پسند آتا تو میں یہ دیکھنے کے لیے ملاقات کو چلنے دیتی کہ بات کہاں تک جاتی ہے اور یوں پہلی ہی ملاقات کھنچتے کھنچتے بہت طویل ہو جاتی۔

 پھر میں نے اپنے لیے کچھ اصول بنائے، مثلاً ’دو مشروبات، پھر رخصت۔‘ جب آپ تعلق کے آغاز ہی میں کسی کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارنے لگتے ہیں تو اس شدت کو قربت سمجھ بیٹھنا آسان ہوتا ہے۔

آپ خود کو یقین دلانے لگتے ہیں کہ آپ دونوں میں گہرا تعلق بن چکا ہے، حالاں کہ ابھی اس کی بنیاد ہی نہیں پڑی ہوتی۔

تعلق کو صرف پیغامات تک محدود نہ رکھیں

تعلق کو مناسب رفتار سے آگے بڑھانا ضروری ہے۔ پہلے میں مردوں کو مسلسل پیغامات بھیجتی رہتی تھی، اور جب وہ تعلق ختم کرتے تو بری طرح ٹوٹ جاتی تھی، حالاں کہ ہماری صرف دو بار ملاقات ہوئی ہوتی تھی۔

لیکن پیغامات کا تبادلہ، ملنے جلنے کا متبادل نہیں۔ اس سے قربت کا ایک جھوٹا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے لیے حدود طے کریں تاکہ سکرین سے ضرورت سے زیادہ دل نہ لگا بیٹھیں۔

خاص طور پر اب، مصنوعی ذہانت کے دور میں، جب آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دوسری طرف کون ہے یا کوئی انسان ہے بھی یا نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کسی سے ملنے کے لیے اپنے طے شدہ پروگرام نہ بدلیں

میں تعلقات میں چالیں چلنے کی قائل نہیں۔

آپ کو یہ دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں کہ آپ آسانی سے دستیاب نہیں کیوں کہ آپ کی اپنی زندگی اور مصروفیات ہیں۔

اگر آپ نے کسی ساتھی کے بغیر بھی اپنی زندگی سے خوش رہنا سیکھ لیا ہے تو آپ کی زندگی دوستوں، مشغلوں، ورزش اور دوسری سرگرمیوں سے بھری ہوگی۔

پھر کسی مرد کے لیے اپنے پروگرام کیوں بدلیں؟ اگر وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے تو اس کی صورت نکال لے گا۔

کوشش ضرور کریں

یقیناً، کسی سے ملنے جلنے کا تجربہ کبھی کبھار پھر بھی برا رہے گا۔ بیس سے تیس برس کی عمر کے درمیان میرا زیادہ تر وقت مسترد ہونے میں گزرا۔

لیکن زندگی کی دوسری چیزوں کی طرح، اگر آپ واقعی کچھ چاہتے ہیں تو اس کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ جتنے لوگوں سے ملیں گے، کسی موزوں شخص سے ملاقات کا امکان اتنا ہی بڑھے گا۔

بن سنور کر جائیں

لباس کے انتخاب سے لطف اٹھائیں۔ پہلے میں ملاقاتوں پر ہمیشہ سیاہ لباس پہن کر جاتی تھی، لیکن فیلکس سے پہلی ملاقات میں، میں نے شوخ ہلکے سبز رنگ کا لباس پہنا۔ 

مجھے نہیں لگتا کہ آج ہمارے ساتھ ہونے کی وجہ وہ لباس ہے لیکن اسے پہن کر مجھے اچھا ضرور لگا تھا۔ پہلے میں ملاقاتوں میں خود کو کسی اور روپ میں پیش کرتی تھی۔

 ایسی خاتون بننے کی کوشش کرتی تھی جس کے بارے میں میرا خیال ہوتا کہ سامنے والا اسے پسند کرے گا، لیکن سبز لباس پہن کر مجھے اپنے اصل انداز میں رہنے میں مدد ملی۔

میں نے خود کو صرف اس لیے بدلنے کی کوشش نہیں کی کہ سامنے والا مرد میرے ساتھ زیادہ آرام محسوس کرے۔

خوداعتمادی کا حد سے زیادہ مظاہرہ نہ کریں

پہلے میں ملاقاتوں میں اپنی کامیابیاں گنوانے لگتی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ کوئی مجھے نرم دل یا جذباتی طور پر کمزور نہ سمجھ لے۔

اپنی کامیابیوں کا ذکر میرے لیے ایک ڈھال بن گیا تھا تاکہ مسترد ہونے کی صورت میں کم تکلیف ہو۔

لیکن اگر آپ کسی کے سامنے بیٹھ کر یہی بتاتے رہیں کہ سوشل میڈیا پر آپ کی پوسٹس کتنی بار وائرل ہوتی ہیں اور آپ کتنا پیسہ کماتے ہیں تو غالباً اس سے اس شخص کے دل میں آپ کے ساتھ تعلق بنانے کی خواہش پیدا نہیں ہوگی۔

اب مجھے اپنی نرمی اور دل کی باتیں ظاہر کرنے میں کہیں زیادہ آسانی محسوس ہوتی ہے۔

مسترد ہونے کا خوف بھی کم ہو گیا ہے، کیوں کہ میں نے سیکھ لیا ہے کہ یہ کسی سے تعلق بنانے کے سفر کا بھی حصہ ہے اور زندگی کا بھی۔

کسی کا آپ کو نہ چننا آپ کی ذاتی ناکامی نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے موزوں نہیں۔

اگر مسلسل بے چینی ہو تو تعلق جاری رکھنا ضروری نہیں

پہلے جب میں کسی نئے شخص سے ملنا جلنا شروع کرتی تو بہت بے چین رہتی تھی، خاص طور پر جب اس کی طرف سے کوئی رابطہ نہ ہوتا یا مجھے یقین نہ ہوتا کہ وہ میرے بارے میں کیا محسوس کرتا ہے۔

لیکن اب میں نے سیکھ لیا ہے کہ مسلسل بے چینی بھی آپ کو کچھ بتا رہی ہوتی ہے۔ 

اگر کسی کے ساتھ آپ ہمیشہ بے یقینی اور اضطراب میں رہتے ہیں یا یہ سمجھنے میں الجھے رہتے ہیں کہ اس کی زندگی میں آپ کی حیثیت کیا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ وہ آپ کے لیے صحیح شخص نہیں۔

بے چینی محسوس کرنے پر خود کو قصوروار بھی نہ ٹھہرائیں۔ اس کی بجائے غور کریں کہ یہ احساس آپ کو کیا بتا رہا ہے۔

ایک اچھے رشتے میں آپ کو تحفظ، بھروسے اور سکون کا احساس ہونا چاہیے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی