بولی وڈ اداکارہ کی آتش بازی کے بغیر دیوالی کی اپیل پر انڈیا میں تنازع

 مہم کا مقصد لوگوں کو پٹاخے چلانے سے گریز کرنے اور تہوار کی تقریبات کے دوران فضائی اور صوتی آلودگی کم کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

دیا مرزا 20 سال سے زیادہ عرصے سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم ہیں اور 2017 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے انہیں انڈیا کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا تھا (اے ایف پی)

بالی وڈ اداکارہ دیا مرزا کی ایک ویڈیو جس میں انہوں نے لوگوں سے دیوالی کے موقع پر پٹاخے نہ چلانے کی اپیل کی تھی، حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سینیئر رہنما کے اعتراض کے بعد سول اتھارٹی نے(اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے) ہٹا دی۔

بعد ازاں عدالت نے مداخلت کرتے ہوئے ویڈیو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا اور آلودگی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی مہم کے خلاف ردعمل پر تنقید کی۔

اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق دیا مرزا کا یہ پیغام برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی ایک مہم کا حصہ تھا، جو ممبئی کے شہری انتظامی امور کی ذمہ دار ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اس مہم میں اداکاراؤں مادھوری ڈکشٹ اور نشی گندھا واڈ کے علاوہ کرکٹر اجنکیا رہانے کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

 مہم کا مقصد لوگوں کو پٹاخے چلانے سے گریز کرنے اور تہوار کی تقریبات کے دوران فضائی اور صوتی آلودگی کم کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

پورے انڈیا میں بڑے پیمانے پر منائی جانے والی دیوالی کو روشنیوں کا تہوار کہا جاتا ہے جو اندھیرے پر روشنی کی فتح کی علامت ہے۔

 اس موقع پر عام طور پر چراغ جلائے جاتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور آتش بازی کی جاتی ہے۔

یہ تہوار مون سون کے بعد کے موسم میں آتا ہے جب ہوا کی رفتار کم ہونے اور موسمی حالات میں تبدیلی کے باعث آلودگی پھیلانے والے ذرات کا فضا میں منتشر ہونا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس موسم خزاں میں ممبئی کی ایئر کوائلٹی پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے۔ فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو ایئر کے اعداد و شمار کے مطابق 21 اکتوبر کو ممبئی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 165 ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث اس روز یہ شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل تھا۔

بی جے پی کی ممبئی شاخ کے سربراہ امیت ساتم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دیا مرزا کی ویڈیو پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں دیا مرزا سے یہ سیکھنے کی ضرورت نہیں کہ دیوالی کیسے منائی جائے۔ ہماری روایات کی جڑیں ہماری ثقافت میں گہری ہیں۔‘

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ ’بعض مشہور شخصیات نے انڈیا مخالف قوتوں سے ہاتھ ملا لیا ہے اور وہ انتشار پھیلانے والوں سے ہمدردی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

امیت ساتم کے اعتراض کے چند گھنٹوں کے اندر دیا مرزا کی ویڈیو ہٹا دی گئی تاہم اسی مہم میں شامل دیگر اداکاروں کی ویڈیوز اب بھی بی ایم سی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود ہیں۔

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے ویڈیو ہٹانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دیا مرزا پر ہندوتوا کی مخالف ہونے کا الزام عائد کیا۔

 ہندوتوا ایک ہندو قوم پرستانہ نظریہ ہے جس کے مطابق انڈیا کی شناخت اور ثقافت کی بنیاد ہندو مذہب میں ہے اور یہ نظریہ بی جے پی کی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ریتو تاوڑے نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ’ہمیں دیا مرزا سے یہ سیکھنے کی ضرورت نہیں کہ ہندوؤں کو دیوالی کیسے منانی چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ اپنی دیوالی کیسے منانی ہے۔

’آپ اپنے مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ایک ایسا ایجنڈا جس میں مخصوص معاملات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور آپ کا مجموعی مؤقف اب واضح ہوتا جا رہا ہے۔

’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ہندوتوا کے خلاف ہیں۔ اسی لیے ہم نے اس ویڈیو کی سخت مخالفت کی ہے۔‘

ریتو تاوڑے نے دیا مرزا کے مبینہ ’ایجنڈے‘ کے ثبوت کے طور پر گجرات میں نرمدا ڈیم منصوبے اور مجوزہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی اداکارہ کی جانب سے مخالفت کا حوالہ دیا۔ مجوزہ یکساں سول کوڈ کے تحت مختلف مذاہب کے لیے الگ الگ قوانین کی جگہ تمام برادریوں کے لیے یکساں قوانین نافذ کیے جائیں گے۔

دیا مرزا نے ہندوستان ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ’دیوالی اندھیرے پر روشنی، جہالت پر علم اور مایوسی پر امید کی فتح کا تہوار ہے۔

’یہ ویڈیو عوامی آگاہی کے لیے بنائی گئی تھی، جس کا مقصد لوگوں کو صحت کے لیے بہتر اور زیادہ ذمہ دارانہ انداز میں تہوار منانے کی ترغیب دینا تھا۔

’فضائی آلودگی عوامی صحت کا مسئلہ ہے اور اسے کم کرنے کی ہر کوشش سب کے لیے بہتر ماحول کی جانب ایک قدم ہے۔‘

دیا مرزا نے وضاحت کی کہ انہیں عوامی مفاد کی اس مہم میں حصہ لینے کا کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آلودگی جیسے قابلِ حل مسئلے سے نمٹنے کو ترجیح دی جائے تو وہ اور دیگر مشہور شخصیات سول سوسائٹی اور حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’جب بھی ہم پٹاخوں کے استعمال کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے فضائی معیار کے مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔‘

دیا مرزا 20 سال سے زیادہ عرصے سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم ہیں اور 2017 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے انہیں انڈیا کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا تھا۔

دی انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے دیا مرزا اور بی ایم سی سے رابطہ کیا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممبئی کی سابق میئر کشوری پیڈنیکر نے سوال اٹھایا کہ کیا شہری انتظامیہ ’بی جے پی یا اس کے ممبئی کے صدر کی غلام بن گئی ہے؟‘

مہاراشٹر نو نرمان سینا کے بلدیاتی رکن یشونت کلیدار نے کہا کہ ’ہم ایک چراغ اور ایک لالٹین جلا کر بھی دیوالی منا سکتے ہیں۔‘

ممبئی کانگریس کی سربراہ ورشا گائیکواڑ نے مطالبہ کیا کہ بی ایم سی دیا مرزا کی ویڈیو دوبارہ بحال کرے اور عوامی سطح پر غیر مشروط معافی مانگے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منگل کو بمبئی ہائی کورٹ نے اس معاملے پر ’گہرے دکھ اور ناراضی‘ کا اظہار کرتے ہوئے بی ایم سی کو دیا مرزا کی ویڈیو دوبارہ آن لائن جاری کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے کہا کہ ’سیکولر سوچ کا ہونا ضروری ہے اور آئین شہریوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس سوچ کو فروغ دیں۔ یہ معاملہ ماحولیات سے متعلق ہے اور ہر شخص، چاہے اس کا مذہب یا ذات کچھ بھی ہو، ایک ہی ہوا میں سانس لیتا ہے۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ ویڈیو ہٹانے کا فیصلہ ’افسوس ناک‘ اور بلاجواز ’عجلت میں دیا گیا ردعمل‘ تھا۔

عدالت نے مزید کہا، ’ہم نے کل اس معاملے پر بیانات دینے والے کسی سیاست دان یا کسی دوسرے شخص کو آگاہی پھیلانے کے لیے ویڈیوز جاری کرتے نہیں دیکھا۔‘

رواں سال بمبئی ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد عوامی سڑکوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر سال بھر پٹاخے چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ ہسپتالوں، سکولوں اور عدالتوں کے قریب بھی ان کے استعمال کی اجازت نہیں۔

ممبئی پولیس نے الگ سے ایک حکم نامہ بھی جاری کیا ہے جس کے تحت چار دسمبر تک عوامی سڑکوں پر آتش بازی ممنوع ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات