پاکستان کے شہر لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن اس قدر متاثر کی ہے کہ بعض خاندان اپنے بچوں کو تین وقت کا کھانا بھی فراہم نہیں کر پا رہے اور دو وقت کے کھانے پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 17 اکتوبر کو ایران کے ساتھ دو سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں 56 فیصد اضافہ ہوا جس سے رکشہ ڈرائیوروں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
لاہور میں 13 سال سے رکشہ چلانے والے 33 سالہ رشید علی کی روزانہ آمدن ساڑھے چھ ڈالر سے کم ہو کر تین ڈالر یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے جس کے باعث ان کا خاندان اب دن میں صرف دو وقت کھانا کھاتا ہے۔
رشید علی کا دن صبح چھ بجے شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات رات بارہ بجے تک جاری رہتا ہے۔
اس طویل محنت کے باوجود وہ پہلے روزانہ ساڑھے چھ ڈالر کما لیتے تھے، جو ان کے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
لیکن اب مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ان کی آمدن اس کے نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔
33 سالہ رشید علی پاکستان کے ان ہزاروں ڈرائیوروں میں شامل ہیں جو اپنی گاڑیاں ایل پی جی پر چلاتے ہیں۔
یہ گیس سلنڈروں میں فروخت ہوتی ہے اور بنیادی طور پر کھانا پکانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
عوامی رکشہ یونین کے چیئرمین مجید غوری ایل پی جی کو ’غریبوں کا ایندھن‘ قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق یونین کے ارکان کے 43 ہزار آٹو رکشوں اور تقریباً آٹھ ہزار چنگ چی رکشوں میں سے لگ بھگ 70 فیصد ایل پی جی پر چلتے ہیں۔
چنگ چی موٹر سائیکل کی بنیاد پر بنائی گئی تین پہیوں والی گاڑیاں ہیں، جو مقررہ راستوں پر متعدد مسافروں کو لے کر چلتی ہیں۔
تاجروں کے مطابق 17 اکتوبر کو ایران کے ساتھ دو سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد ایل پی جی کی درآمد رک گئی جس کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد توانائی کے شعبے کو پہنچنے والا یہ تازہ ترین دھچکا ہے۔
اب رشید علی اگر دن بھر میں تین ڈالر بھی کما لیں تو خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔ آمدن میں کمی کے باعث ان کے خاندان نے کھانے کم کر دیے ہیں اور اب وہ دن میں صرف دو وقت کھانا کھاتے ہیں۔
رشید علی نے کہا ’پہلے جب ایل پی جی سستی تھی تو ہم مناسب آمدن کما لیتے تھے۔ اب سات یا آٹھ سو روپے میں گزارہ کرنا ممکن ہی نہیں، ہے نا؟‘
پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے قبل پاکستان روزانہ ایران سے تقریباً سات ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کرتا تھا۔
تاجروں کے مطابق سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے چند ہی دنوں میں 12 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 56 فیصد اضافے کے بعد سات ہزار پاکستانی روپے تک پہنچ گئی، یعنی اوپن مارکیٹ میں تقریباً 583 روپے فی کلوگرام۔
ایران سے متصل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کے فیصلے کی وجہ سکیورٹی خدشات اور سمگلنگ کو قرار دیا جبکہ ایران کی وزارت خارجہ نے اس کی وجہ تکنیکی مسائل بتائی ہے۔
بعد میں ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران نے ایل پی جی کی برآمد سمیت کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی اور اس صورت حال کی وجہ پاکستان میں درآمدی دستاویزات کے طریقہ کار میں تبدیلی کو قرار دیا۔
کرائے پر اختلاف، مسافر پیدل جانے لگے
رشید علی رکشے کے کرائے کی مد میں روزانہ 600 روپے ادا کرتے ہیں، جبکہ دن میں چار سے پانچ مرتبہ گیس بھرواتے ہیں، جس پر ہر بار 300 سے 400 روپے خرچ ہوتے ہیں۔
روزمرہ کے اخراجات کے علاوہ رشید علی کو گھر کے کرائے کی مد میں ماہانہ 11 ہزار روپے بھی ادا کرنا ہوتے ہیں جبکہ ان کے دو کم عمر بچوں کی کفالت بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رشید علی کے مطابق ان کی مشکلات میں مزید اضافہ اس لیے ہو رہا ہے کہ مسافر بڑھا ہوا کرایہ دینے پر آمادہ نہیں۔
رشید علی نے کہا ’جس سفر کا کرایہ 200 یا 250 روپے ہونا چاہیے، مسافر اس کے صرف 80، 100 یا 150 روپے دینے کی پیشکش کرتے ہیں۔‘
مسافر محمد رمضان نے بتایا کہ اندرون شہر سفر کے لیے رکشہ ڈرائیور نے ان سے 500 روپے مانگے تو انہوں نے آدھا کرایہ دینے کی پیشکش کی۔ ڈرائیور کے انکار پر وہ وہاں سے پیدل روانہ ہو گئے۔
پاکستان میں اکتوبر کے دوران مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے توانائی اور گندم کی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کر دی۔
تین اپریل کو پیٹرول کی قیمت ریکارڈ 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی اور اب بھی یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔
دوپہر کے وقت گھر واپس پہنچنے پر رشید علی نے بتایا کہ ان کے دونوں بیٹوں نے ابھی دوپہر کا کھانا کھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ رکشہ لے کر نکلیں گے اور رات گئے تک کام کریں گے، اس امید پر کہ اتنے پیسے کما سکیں کہ رات کو بچوں کے لیے کچھ کھانے کو لا سکیں۔