اسرائیلی عرب جماعتیں اور نتن یاہو کا مستقل

عرب جماعتوں اور اسرائیل میں بسنے والے فلسطینی شہریوں کا نتن یاہو کے خلاف سیاسی انتقام ادھورا رہے یا مکمل ہو، دونوں صورتوں میں اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے تناظر میں موجود انتہا پسند اور نسل پرست سیاسی نقشہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے قبل 24 اکتوبر 2026 کو تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہرے کے دوران مظاہرین حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرین کی تصاویر والے پلے کارڈز اٹھائے جمع ہیں (جیک گوز/ اے ایف پی)

بن یامین نتن یاہو ان دنوں اسرائیلی سیاسی دلدل میں پھنسے ہوۓ ہیں۔ حالیہ عام انتخابات میں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تاکہ وہ حکومت بنا سکیں اور وزارت اعظمی  کی کرسی پر ان ہی کا قبضہ رہے۔ آخری دنوں میں جب پوزیشن ڈگمگاتی نظر آئی تو وائٹ ہاؤس کا دروازہ کھٹکٹایا۔

جگری دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مدد میں تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ گویا غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام، لبنان میں مستقل حملے اور قبضہ، ایران پر جنگ مسلط کرنا، اقوام متحدہ کا نتن یاہو کی حکومت اور اسرائیلی فوجوں پر فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات کو درست قرار دینا سب کچھ بالائے طاق رکھتے ہوۓ ٹرمپ نے نتن یاہو کو ’عظیم دوست‘ اور ’جنگجو‘ قرار دیا۔ اسرائیلیوں کو پیغام دیا کہ نتن یاہو کو کامیاب کریں اور اسرائیل کا مستقبل صرف ان ہی کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔ 

ادھر انتخابات کی چرخی ایسی گھومی کہ نتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو حکومت کی تشکیل کسی خطرناک چوٹی کو سر کرنے کے مترادف نظر آتا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی عددی طاقت 120 میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ نتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ہی مل سکیں۔

دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی، جس کا مقصد نتن یاہو کے طویل المدت اقتدار کا خاتمہ تھا۔ اس کی قیادت فوج کے سابق سربراہ گادی آئیزنکوٹ کے ہاتھوں میں ہے۔ 

نتن یاہو کو اقتدار سے باہر پھینکنے کے مقصد کے لیے عرب جماعتیں اولین صف میں رہیں۔ ان جماعتوں نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے اسرائیلی سیاست میں طوفان برپا کر دیا ہے۔ چونکہ دونوں اتحاد واضع برتری حاصل کر کے اپنے تئیں حکومت کی تشکیل نہیں کرسکتے ہیں تو عرب جماعتوں کی حیثیت اور اہمیت بڑھ گئی ہے۔

عرب جماعتیں اسرائیل میں بسنے والے لگ بھگ دو ملین فلسطینی باشندوں کی نمائندہ جماعتیں مانی جاتی ہیں۔ آبادی کا 20 فیصد یعنی اسرائیل کی تقریباً ایک کروڑ کی آبادی میں 20 لاکھ وہ فلسطینی باشندے ہیں، جن کے پاس اسرائیلی شہریت ہے جن کی قانونی حیثیت مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں سے مختلف ہے۔ یہ فلسطینی اسرائیلی آبادی زیادہ تر قدیم شہروں یروشلم، ناصرت جسے انگریزی میں (Nazareth) کہتے ہیں اور حیفہ میں رہتی ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

نتن یاہو کی انتہا پسند حکومت میں غزہ میں جنگ کے دوران فلسطینیوں کے قتل عام، ایران جنگ، اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے خلاف نسلی امتیازی سلوک، ان کے مکانات کو مسمار کرنے جیسی پالیسیوں کی وجہ سے ان عرب جماعتوں نے فلسطینی اسرائیلی باشندوں کو خوب متحرک کیا۔

ماضی کے بیشتر انتخابات میں یا تو یہ آبادی انتخابات کا بائیکاٹ کرتی رہی یا پھر بددلی سے حصہ لیتی رہی۔ لیکن اس دفعہ انہوں نے ریکارڈ 80 فیصد ووٹ ڈالے اور سیاسی اہمیت کے حصول سے پوری دنیا جس کی نظریں نتن یاہو کے مستقبل پر لگی تھیں، ان کو حیران پریشان کر دیا۔

 غیر معمولی شرکت اور غیر معمولی نتائج۔ وجوہات مختلف مگر آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد اور عرب جماعتوں نے اس انتخابات کو نتن یاہو کے خلاف ریفرنڈم سمجھ کر بھرپور حصہ لیا۔

نتن یاہو کے لیے اقتدار میں رہنا جیسے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اگر وزیر اعظم نہیں رہتے تو مستقبل میں انہیں بدعنوانیوں اور فراڈ جیسے مقدمات، جو اس وقت عدالت میں ہیں، کا سامنا ہوگا۔ جیل بھی جانے کا امکان ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر مخالف اتحاد حکومت بناتا ہے تو اس کا ماننا ہے کہ سات اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کی وجہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھی۔ 

آئزنکوٹ خود نتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کا اہم حصہ رہے ہیں، بعد میں استعفیٰ دے کر علیحدگی اختیار کی تھی اور سیاست کا رخ اپنایا تھا۔ جنگ کے اندرونی خدوخال سے بخوبی واقف ہیں تو نتن یاہو کی جنگ کی پالیسیاں اور اس سے قبل عدلیہ میں بنیادی تبدیلیوں کا منصوبہ سب تفتیشی ریڈار کی زد میں آئیں گے۔ مصیبتوں کا انبار سامنے کھڑا ہے۔

نتن یاہو ایک شاطر سیاست دان ہیں۔ امریکی سیاست اور سکیورٹی پالیسیوں سے خوب آشنا ہیں۔ کئی امریکی صدور کے ساتھ پالیسیوں کی سانجھے داری رہی ہے۔ اسی وجہ سے کئی دہایوں سے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔

مغربی میڈیا کے مطابق انتخابات سے قبل ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے بھی اصرار کرتے رہے۔ ٹرمپ خود ایران جنگ کی سیاسی قیمت چکا رہے ہیں تو نتن یاہو کی وہ خواہش اس وقت تو پوری نہ ہو سکی، تاہم جب نتائج کے بعد معلوم ہوا کہ عرب جماعتیں حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں تو انہوں نے انتہا پسند وار کرنا شروع کر دیے۔ 

انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد اگر عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرلے تو ان کا کھیل ختم ہوسکتا ہے۔ عرب جماعت رعم کے سربراہ منصور عباس نے اپنے بیان میں اپوزیشن اتحاد کو اپنی حمایت کا واضح اشارہ دیا ہے اور جوائنٹ لسٹ اتحاد بھی نتن یاہو کی دشمنی میں اپوزیشن اتحاد میں شامل ہوئے بغیر حمایت کر سکتا ہے۔ 

اسی وجہ سے نتن یاہو اپنے بیانیے میں عرب جماعتوں کے مینڈیٹ کو متنازع کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ رائے عامہ ہموار کی جائے۔ وہ آیزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد میں عرب جماعتوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کی موجود مخالفت کو بھی مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔

پہلے الزام لگایا کہ عرب جماعتوں کی کامیابی کی وجہ ’غیر ملکی مداخلت‘ یعنی قطر اور ترکی کی فنڈنگ ہے۔ دونوں ممالک نے سختی سے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بارہا انہوں نے اپنے الزام کو دہرایا کہ عرب جماعتوں کا تعلق حماس اور دوسرے گروہوں سے ہے۔ 

اسرائیلی میڈیا نے بھی عرب جماعتوں اور اپوزیشن اتحاد کے مابین کسی بھی سمجھوتے کی ممکنہ کوشش کو منفی انداز میں ہی پیش کیا۔ پیئرس مورگن نے غزہ کی جنگ کے دوران جو فارمولہ اپنایا تھا کہ ہر وہ مہمان سپیکر جو فلسطینیوں کے لیے ہمدردی رکھتا ہو یا اسرائیل کی جارحیت کا مخالف ہو تو اس سے بار بار سوال پوچھنا کہ وہ حماس کے حملے کو دہشت گرد قرار دیتا ہے یا نہیں۔ اسرائیلی میڈیا پر کم و بیش ایسا ہی دیکھنے کو ملا۔ عرب جماعتوں کے رہنماؤں سے یہ ہی سوال ہر انٹرویو میں پوچھا جا رہا ہے۔ آئزنکوٹ کی اپوزیشن اتحاد میں شمولیت یا حکومت کی تشکیل کے لیے چار شرائط بھی شہ سرخیوں میں ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ان شرائط میں اسرائیل کو بطور ایک ڈیموکریٹک یہودی ریاست اور حماس کی غزہ میں گورننس اور عسکری اہلیت کے خاتمے اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنا شامل ہیں۔ بہت کم اسرائیلی عرب جماعتوں کے قومی سیاسی دھارے میں شمولیت کے حامی ہیں۔

مسلم دنیا میں عمومی تاثر ہے کہ آئزنکوٹ کا اتحاد اگر حکومت بنائے گا تو اس کی اور نتن یاہو کی پالیسیوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوگا۔ اپوزیشن اتحاد ہو یا نتن یاہو نہ تو آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں ہیں اور نہ ہی ’گریٹر اسرائیل‘ کے عزائم کو ترک کرنا چاہیں گے۔ 

اسرائیلی سیاست میں فی الوقت تو ڈیڈلاک ہے۔ پس پردہ ہارس ٹریڈنگ کی کوششیں جاری ہیں۔ اکثریت کا ماننا ہے کہ حکومت بنانے کے عمل سے عرب جماعتیں مائنس ہونی چاہییں اور نتن یاہو اور آئزنکوٹ کو مل کر قومی حکومت تشکیل دینی چاہیے۔ اس صورت میں پہلے نتن یاہو وزیراعظم رہیں گے اور پھر بقیہ عرصہ آئزنکوٹ۔

اگر کوئی بھی حکومت بنانے میں ناکام رہا تو ایک مرتبہ پھر انتخابات ہوں گے جو نتن یاہو کے فائدے میں ہوگی۔ ووٹنگ کی شرح کم ہوگی۔ اپوزیشن اتحاد کی حمایت میں دسیوں ہزار بیرون ملک مقیم اسرائیلی اس مرتبہ ووٹ ڈالنے آئے تھے، ان کا پھر سے واپس آنا مشکل ہوگا۔

حکومت کی تشکیل اور دوبارہ الیکشن ہونے کے فیصلے میں کئی ہفتوں کا فاصلہ ہے۔ نتن یاہو مشرق وسطیٰ میں آگ بھڑکانے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کوئی بھی خطرناک چال چل سکتےہیں۔ 

تاہم عرب جماعتوں اور اسرائیل میں بسنے والے فلسطینی شہریوں کا نتن یاہو کے خلاف سیاسی انتقام ادھورا رہے یا پھر مکمل، دونوں صورتوں میں اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے تناظر میں موجود انتہا پسند اور نسل پرست سیاسی نقشہ دنیا کے سامنے ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر