خیبر پختونخوا میں 12 اضلاع کی کونسل کے اراکین کون ہیں؟

انڈپینڈنٹ اردو نے 12 اضلاع کے لیے بنائی گئی کونسل کے اراکین کا مختصر تعارف لکھا ہے جس میں اس بات کا احاطہ کیا گیا کہ یہ اراکین کون ہیں اور ماضی میں ان کا علاقے میں کیا کردار رہا؟

48 رکنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل (اے آر ڈی سی) کے بعض اراکین کا کولاج (سوشل میڈیا)

پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے جن کے 12 اضلاع میں دہشت گردت سے نمٹنے کی خاطر ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے وہاں کا انتظام چلانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک الگ کونسل کا اعلان کیا تھا۔ اس کونسل کے اراکین کون ہیں آئیں دیکھیں۔

وفاقی حکومت نے رواں ماہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی بعد میں پارلیمان اور سینیٹ نے بھی منظوری دے دی تھی۔

وفاقی حکومت کے مطابق ان 12 اضلاع کو حالیہ دنوں میں عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا اور صورت حال تیزی سے خراب ہو رہی تھی۔ وفاقی کابینہ نے ان متاثرہ اضلاع کا انتظام چلانے کے لیے 48 رکنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل (اے آر ڈی سی)، جسے ایریا ڈویلپمنٹ کونسل بھی کہا جاتا ہے کی منظوری دی ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق کونسل کے 48 نمائندوں کا انتخاب متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی معاونت سے منعقد ہونے والے جرگوں میں مشاورت کے ذریعے کیا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ان علاقوں میں سکیورٹی، حکمرانی اور ترقیاتی امور میں رابطہ کاری کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری بھی مقرر کیا گیا ہے جبکہ مرکز میں وفاقی حکومت نے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے جو اس علاقے کا انتظام دیکھے گی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ان 12 اضلاع کی کونسل کے اراکین کا مختصر تعارف لکھا ہے جس میں اس بات کا احاطہ کیا گیا کہ یہ اراکین کون ہیں اور ماضی میں ان کا علاقے میں کیا کردار رہا ہے؟

انجینئر شوکت اللہ، چیئرمین

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے انجینئر شوکت اللہ خیبر پختونخوا کے سابق گورنر ہیں۔ وہ 2008 میں آزاد حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور 2011 سے 2013 تک وزیر مملکت برائے فرنٹیئر ریجن رہے۔ 2025 میں ان کے ضلع میں ’سربکف‘ سکیورٹی آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کے معاملے پر بھی وہ سرگرم رہے اور انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے متاثرین کی مالی مدد اور تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا تھا۔

ملک خان مرجان، وائس چیئرمین

شمالی وزیرستان کے وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک خان مرجان فاٹا گرینڈ الائنس کے سرکردہ رہنما رہے ہیں۔ انہوں نے 1990 کی دہائی میں تحریک اتحاد قبائل کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا اور قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالفت کی۔ وہ قبائلی علاقوں میں امن و امان اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے حوالے سے کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔

ضلع خیبر (شیرین خان، ملک صلاح الدین، ملک عزت اللہ، ملک ظاہر شاہ اور ملک عبدالرزاق)

لنڈی کوتل کے ذخہ خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک عبدالرزاق فاٹا گرینڈ الائنس کے سرکردہ رکن ہیں۔ وہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے مخالف رہے ہیں اور مقامی جرگوں میں سرگرم کردار ادا کرتے ہیں۔

ملک عزت اللہ وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ مقامی صحافی کے مطابق وہ ماضی میں لشکر اسلام کے مقابل قائم ہونے والی تنظیم انصار الاسلام کے سربراہ رہے ہیں۔

خیبر سے تیسرے رکن جمرود کے کوکی خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک صلاح الدین فاٹا گرینڈ الائنس کے سابق رکن ہیں۔ وہ قبائلی انضمام کے مخالف رہے ہیں اور مقامی تنازعات کے حل کے لیے جرگوں میں حصہ لیتے ہیں۔

باڑہ کے اکا خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک ظاہر شاہ مشرف دور میں ایجنسی کونسل کے رکن رہے ہیں۔ وہ قبائلی انضمام کے مخالف رہے اور مقامی تنازعات کے حل کے لیے قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کے رکن ہیں۔

باڑہ سے تعلق رکھنے والے شیرین خان عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رہنما اور باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے حامی تھے، تاہم اختلافات کے بعد اے این پی سے ان کی وابستگی ختم ہو گئی۔

جنوبی وزیرستان اپر (ملک رمتال خان، ملک محمد رومان محسود، ملک محمد فاروق محسود اور ملک عرفان الدین احمد برکی)

برکی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک عرفان الدین احمد برکی صحافی ہیں اور اپنے قبیلے کے سربراہ بھی ہیں۔ وہ قومی نیوز چینل اور انگریزی اخبار کے لیے رپورٹنگ کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محسود قبیلے کے رہنما ملک محمد رومان محسود قومی جرگوں میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے لیے جانے والے قبائلی جرگے کے رکن بھی تھے۔

جنوبی وزیرستان اپر سے تعلق رکھنے والے ملک رمتال خان محسود قبیلے کے سرکردہ رہنما اور محسود قومی جرگے کے رکن ہیں۔ وہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے جانے والے قبائلی جرگے میں بھی شامل تھے۔

سراروغہ سے تعلق رکھنے والے فاروق محسود صحافی اور نیوز پورٹل وزیرستان ٹائمز کے بانی ہیں۔ وہ دو مرتبہ محسود پریس کلب کے صدر رہ چکے ہیں۔

ضلع کرم (منیر حسین بنگش، احسان اللہ احسان، ملک عبدالولی خان، ملک ضامین حسین اور سید ولی میاں)

پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے منیر حسین بنگش اہل سنت تنظیم انجمن فاروقیہ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ ضلع کرم میں مختلف فریقوں کے درمیان جرگوں میں اہل سنت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

وسطی کرم کے پاڑہ چمکنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر احسان اللہ احسان جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ بلدیاتی انتخابات میں تحصیل چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

کرم کے علاقے بوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ملک عبدالولی خان اہل سنت کے سرکردہ رہنماؤں میں شامل ہیں۔ وہ کرم لویہ جرگہ کے اہم رکن رہے اور قبائلی اضلاع کے انضمام کی مخالفت کی۔

پاڑہ چنار کے طوری قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک ضامین حسین انجمن حسینیہ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ ضلع کرم میں اہل تشیع کی نمائندگی اور حکومتی و عسکری حکام سے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پاڑہ چنار کے طوری قبیلے سے تعلق رکھنے والے سید ولی میاں انجمن حسینیہ کے اہم رکن ہیں۔ وہ مقامی جرگوں اور تنازعات کے حل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ضلع مہمند (ملک فیاض خان، ملک نادر منان اور ملک صاحب خان امبار)

مہمند کے خوزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک فیاض خان علاقے کے سرکردہ قبائلی مشران میں شامل ہیں اور انہیں اپنے قبیلے کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔

مہمند سے تعلق رکھنے والے ملک نادر منان فاٹا جرگہ کے سرکردہ رہنما رہے ہیں۔ وہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے مخالف ہیں اور مقامی جرگوں میں سرگرم کردار ادا کرتے ہیں۔

مہمند کے اتمان خیل قبیلے کے سربراہ ملک صاحب خان امبار علاقے کے سرکردہ قبائلی رہنما ہیں۔ وہ عسکریت پسندی کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف قائم امن لشکر کی سربراہی کر چکے ہیں۔

ضلع اورکزئی (لال من شاہ، سید فخر عباس اور فیض اللہ)

اورکزئی کے علی خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے لال من شاہ رینجرز میں ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ مقامی جرگوں اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

اورکزئی کے سید قبیلے سے تعلق رکھنے والے سید فخر عباس علاقے کے سرکردہ مشران میں شامل ہیں اور مقامی تنازعات کے حل کے لیے جرگوں میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اورکزئی کے مشتی قبیلے سے تعلق رکھنے والے فیض اللہ اورکزئی گرینڈ جرگہ کے رکن ہیں اور مقامی فیصلوں اور تنازعات کے حل میں حصہ لیتے ہیں۔

ضلع ٹانک (عبداللہ ننگیال، نواب زادہ عبدالوہاب اور عرفان اللہ کنڈی)

ٹانک کے علاقے جنڈولہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ ننگیال پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی اراکین میں شامل ہیں۔ وہ 2013، 2018 اور 2024 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لے چکے ہیں اور کاروبار سے بھی وابستہ ہیں۔

ٹانک کے نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالوہاب وزیراعظم یوتھ پروگرام کے خیبر پختونخوا میں کوآرڈینیٹر ہیں۔ وہ قومی وطن پارٹی سے وابستہ رہے اور عام انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

ٹانک سے تعلق رکھنے والے عرفان اللہ کنڈی نے 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف اور 2024 میں پرویز خٹک کی جماعت کے ٹکٹ پر حصہ لیا، تاہم دونوں مرتبہ کامیاب نہ ہو سکے۔

ضلع باجوڑ (ملک سلطان زیب اور حاجی لال شاہ)

باجوڑ سے انجینئر شوکت اللہ بحثیت چیئرمین کے علاوہ لرخوزو علاقے سے تعلق رکھنے والے ملک سلطان زیب ماموند قبیلے کے سربراہ ہیں۔ 2024 میں ان کی گاڑی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں وہ محفوظ رہے۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے حاجی لال شاہ کاروباری شخصیت اور باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر ہیں۔ وہ چیمبر کے بانی اراکین میں شامل ہیں اور ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان (عبدالحلیم خان، سردار آغاز خان، سردار آباد خان اور سردار قیضار خان ایڈووکیٹ)

ڈیرہ اسماعیل خان کے قصوریہ خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالحلیم خان سابق صوبائی وزیر اور جمعیت علمائے اسلام کے انتخابی امیدوار رہ چکے ہیں۔ وہ بین المذاہب ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ تنازعات کے حل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

سردار آغاز خان گنڈاپور سابق صوبائی وزیر اکرام اللہ گنڈاپور کے صاحبزادے ہیں، جو 2018 میں انتخابی مہم کے دوران ایک دھماکے میں جان سے گئے تھے۔ آغاز خان 2023 تک رکن صوبائی اسمبلی رہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے شیرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے سردار آباد خان علاقے کی بااثر قبائلی شخصیات میں شامل ہیں۔

قیضار خان میاں خیل ایڈووکیٹ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں اور پیپلز پارٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔

لکی مروت (محمد عمر اشرفی، ملک ادریس خان اور ملک نجیب اللہ خان)

محمد عمر اشرفی کا تعلق لکی مروت کے بیٹنی قبیلے سے ہے اور علاقے کے نوجوان سماجی کارکن ہے اور جمعیت علمائے اسلام سب ڈویژن کے امیر ہے۔ ان کے بھائی ایس ایچ او اعظم خان کو رواں سال مارچ میں بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے اس کونسل میں شامل اراکین کو استعفی کا بتایا گیا تھا، تاہم محمد عمر اشرفی اب بھی اسی کونسل کے رکن ہے جبکہ بیٹنی قوم کے جرگے نے جمعیت علمائے اسلام سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ عمر اشرفی کو رکن رہنے دیا جائے۔

ملک ادریس خان کا تعلق لکی مروت سے ہیں اور احمدزئی قبیلے کے سربراہ جبکہ مروت قومی جرگہ کے سرکردہ رکن ہے۔ وہ یونین کونسل کے ناظم بھی رہے چکے ہے۔ وہ علاقے کے بااثر شخصیات میں شامل ہے اور 2024 میں ان پر لکی مروت میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جس میں محفوظ رہے تھے۔ 

ملک نجیب اللہ کا تعلق لکی مروت کے علاقے کرم پار لنڈیواہ سے ہیں اور کرم پار علاقے کے سربراہ جانے جاتے ہے۔ انہوں نے 2024 کے عام انتخابات میں اسی علاقے سے صوبائی اسمبلی کے لیے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہوئے تھی۔ ملک نجیب اللہ علاقے میں مختلف جرگوں اور فیصلوں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔

بنوں (مولانا عبدالغفار قریشی، ملک احسان اللہ وزیر، ملک شیرین اور ملک فرمان اللہ میراخیل)

مولانا عبدالغفار قریشی کا تعلق بنوں سے ہیں اور علمائے کرام و آئمہ مساجد کمیٹی کے سربراہ ہے۔ بنوں کے مقامی صحافی عمران علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مولانا عبدالغفار کی حج و عمرہ ٹریول کمپنی بھی ہے اور علاقے کے مذہبی حلقوں میں مشہور ہے۔

ملک احسان اللہ  وزیر علاقے کے معروف کاروباری شخصیت ہیں اور پی ٹی آئی خیبر پختونخوا لیبر ونگ کے صدر بھی ہے۔

ملک شیرین کا تعلق بنوں کے بکاخیل تحصیل سے ہیں اور ان کا تعلق پہلے جمعیت علمائے اسلام اور بعد میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) میں شامل ہوئے تھے۔ ملک شیررین رئیل اسٹیٹ بزنس سے بھی وابستہ ہے۔ ملک شیرین نے 2018 کے عام انتخابات میں جے یو آئی کی  ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

ملک فرمان اللہ میراخیل کو بھی ترقیاتی کونسل میں شامل کیا گیا ہے جو کاروباری شخصیت ہے اور 2018 کے عام انتخابات میں قومی وطن پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ بھی کیا تھا جو کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

شمالی وزیرستان (ملک نصر اللہ، ملک حبیب خان، ملک روح اللہ وزیر اور ملک شیر خان)

ملک نصراللہ خان کو چیف آف وزیرستان کہا جاتا ہیں اور شمالی وزیرستان کے وزیر قبیلے سے ان کا تعلق ہے۔ شمالی وزیرستان کے صحافی رسول داوڑ کے مطابق ملک نصر اللہ مختلف علاقائی جرگوں میں پیش پیش ہوتے ہے اور علاقے کے ملکان میں شامل ہے۔ 

ملک حبیب خان کا تعلق داوڑ قبیلے سے ہیں اور علاقے کے ملکان میں شامل ہیں۔ ملک حبیب خان بھی جرگوں اور علاقے کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہے۔

ملک روح اللہ بوراخیل کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہیں اور علاقے کے سرکردہ مشران میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ روح اللہ علاقے کے مسائل اور تنازعات کے حوالے سے مختلف جرگوں میں بھی شریک ہوتے ہے۔

ملک شیر خان کا تعلق وزیر قبیلے سے ہیں اور علاقے کے کاروباری شحصیت ہے۔ ملک شیر خان علاقے میں مختلف تنازعات اور مسائل کے حل کے لیے منعقدہ جرگوں میں شرکت کرتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان لوئر (ملک علاؤالدین وزیر، ملک معین الدین وزیر اور ملک سردار عباس) 

ملک علاؤالدین احمدزئی وزیر جرگہ کے سرکردہ رہنما اور جمعیت علمائے اسلام کے مقامی رہنما ہیں۔ وہ علاقے کے ملکان میں شامل ہے اور علاقے کے مختلف مسائل اور تنازعات کے دوران جرگوں میں بھی شریک ہوتے ہے۔ 

ملک معین الدین کونسل میں 33 سالہ نوجوان ہے جو احمدزئی قبیلے کے سربراہ ہے۔ ان کے بھائی ملک طارق رواں سال مئی میں بم دھماکے میں جان سے گئے تھے اور اس کے بعد ان کو قبیلے کا سردار منتخب کیا گیا۔

ملک سردارعباس کا تعلق جنوبی وزیرستان لوئر کے سلیمان خیل قوم سے ہیں اور علاقے کے سرکردہ مشران میں شامل ہیں۔ ملک سردار عباس 2004 میں اس وقت عسکریت پسندوں سے ہونے والے مشہور وانا جرگے کے رکن بھی تھے۔

ابھی واضح نہیں کہ ان اراکین کو کوئی مراعات بھی ملیں گی یا نہیں لیکن حکام ان کے کندہوں پر ایک مرتبہ پھر بڑی ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست