سہیل آفریدی کا ایک سال: اقتدار سے گورنر راج تک کا سفر

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارکنان کی خواہش کے مطابق سہیل آفریدی کا تمام تر دھیان وفاق کے خلاف سیاسی محاذ آرائی اور عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچوں پر رہا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر گذشتہ سال اکتوبر میں علی امین گنڈاپور کو خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر 36 سالہ محمد سہیل آفریدی کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔

سہیل آفریدی جب منتخب ہوئے تو پی ٹی آئی کارکنان کو توقع تھی کہ سہیل آفریدی سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے برعکس انتہائی جارحانہ اور سیاسی حکمت عملی اپنائیں گے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے وفاق کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کی قیادت کریں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

عمران خان تو رہا نہ ہو سکے لیکن سہیل آفریدی ایک سال بعد حکومت گنوا بیٹھے اور وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو ہٹا کر صوبائی اسمبلی کو معطل کردیا۔

وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی گذشتہ سال سہیل آفریدی نے صحت سہولت کارڈ کی بحالی، قبائلی اضلاع کی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کا آغاز کیا تھا۔ ان کے اس ایک سالہ دور پر نظر ڈالتے ہیں۔

امن و امان کی صورت حال ابتر رہی

سہیل آفریدی جب آئے تھے تو ان کے لیے ایک بڑا چیلنج صوبے میں عسکریت پسندی اور امن و امان کی مخدوش صورت حال تھا۔

انہوں نے خیبر اور تیراہ کے مقامی قبائلی جرگوں سے مذاکرات کیے اور این ایف سی ایوارڈ و صوبائی فنڈز کی وصولی کے لیے وفاق کے سامنے مسلسل اپنا مقدمہ رکھا۔

تاہم خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی اور اس کی سب سے بڑی وجہ تجزیہ کاروں کے مطابق صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری شدید سیاسی چپقلش تھی۔

طارق وحید پشاور میں مقیم صحافی اور تجزیہ کار ہیں، جن کے مطابق پی ٹی آئی کی عسکریت پسندی کے حوالے سے پالیسی وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے الگ رہی ہے لیکن 2021 کے بعد پی ٹی آئی کی پالیسی پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’افغانستان میں افغان طالبان کے آنے کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گرد کارروائیاں بڑھ گئیں لیکن پی ٹی آئی کی پالیسی واضح نظر نہیں آئی اور اسی وجہ سے سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں دہشت گردی ریکارڈ سطح ہر پہنچ گئی۔ ‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارکنان کی خواہش کے مطابق سہیل آفریدی کا تمام تر دھیان وفاق کے خلاف سیاسی محاذ آرائی اور عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچوں پر رہا۔

 سیاسی تناؤ اتنا بڑھ گیا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی کوآرڈینیشن مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے انٹیلی جنس شیئرنگ پر اثر پڑا اور وفاقی و صوبائی سکیورٹی ادارے ایک پیج پر نہ رہ سکے جبکہ صوبائی حکومت وفاق پر فنڈز اور سکیورٹی وسائل نہ دینے کے الزامات لگاتی رہی۔

وفاق کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے تمام تر سرکاری وسائل وفاق پر چڑھائی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

صوبے میں ترقیاتی منصوبے

سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں تجزیہ کاروں کے مطابق چھوٹے منصوبے تو شروع کیے گئے، تاہم کوئی بڑا منصوبہ نہیں دیکھا گیا اور اس کی وجہ پی ٹی آئی کا زیادہ دھیان سیاست پر ہونا تھی۔

پشاور میں مقیم صحافی و تجزیہ کار علی اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بدقسمتی سے علی امین گنڈا پور کے دور میں بھی زیادہ فوکس اڈیالہ جیل ہی تھی اور اس کے بعد سہیل آفریدی نے بھی وہی طریقہ کار اپنایا۔

انہوں نے بتایا: ’جب فوکس سیاسی معاملات اور عمران خان کی رہائی پر تھا، تو ظاہری بات ہے پھر ترقیاتی منصوبے اور صوبے کے دیگر مسائل نظر انداز ہوتے ہیں۔‘

اس سیاسی ماحول میں ٹھیک 361 دن بعد 11 اکتوبر 2026 کو وفاق نے صوبے میں امن و امان کی ابتر صورت حال اور آئینی بحران کا جواز بنا کر ایمرجنسی نافذ کی اور گورنر راج لگا کر حکومت کو معطل کر کے سہیل آفریدی اور سپیکر اسمبلی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست