پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ہفتے کو کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے سعودی عرب کے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے دوران اسلام آباد ریاض کے ساتھ ’چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘
وزیر دفاع کا اشارہ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی توانائی اور ہوا بازی کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کی طرف تھا۔
حالیہ ہفتوں میں حوثی حملوں میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک مہلک حملہ بھی شامل ہے، جس میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
حوثی گروپ نے ستمبر 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے کے بعد سے ملک کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔
سیاسی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے کئی ماہ بعد حوثی جنگجو دارالحکومت میں داخل ہوئے اور اہم سرکاری اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری سیاسی انتقالِ اقتدار کا عمل ختم ہو گیا۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ستمبر 2025 میں دوطرفہ دفاعی معاہدے اور اگست میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
پاکستان نے حوثی باغیوں کے حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’اس وقت بھی، جب سعودی عرب پر حملے ہو رہے ہیں، ہم چٹان کی طرح سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ ہم یکے بعد دیگرے دفاعی معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں فوج نے ’اہم قائدانہ کردار‘ ادا کیا۔
خواجہ آصف نے کہا ’شہباز شریف وزیراعظم ہیں اور یقیناً ان کا بھی اس میں کردار ہے، لیکن اس پورے اقدام کی قیادت فیلڈ مارشل کر رہے ہیں۔‘
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو ان سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان ماضی میں کہہ چکا ہے کہ اس معاہدے میں یکساں مقاصد رکھنے والے دیگر ممالک کی شمولیت کی گنجائش بھی موجود ہے۔
پاکستان کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔