بلوچستان کے حکام نے منگل کو بتایا ہے کہ صوبے میں گذشتہ دو سال کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 1,100 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 550 مبینہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا۔
بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران علیحدگی پسندوں کے حملوں میں مزید شدت آئی ہے، خصوصاً بلوچ مسلح گروہوں کے حملوں میں سکیورٹی فورسز سمیت عام شہری بھی جان سے گئے ہیں اور جن کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔
بلوچستان میں سکیورٹی صورت حال پر کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو، وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان قائم رکھنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
حکام نے بتایا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، جن کے دوران پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے 300 سے زائد اہلکار اور افسران جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات نے بتایا کہ شدت پسندی کے واقعات میں 551 شہری جان سے گئے، جبکہ 1,400 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا اور 300 سہولت کار خاندانوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
شور پارود میں آپریشن جاری
ایک سوال کے جواب میں حمزہ شفقات نے بتایا کہ ’احمد وال کے علاقے کو کلیئر کروا لیا گیا ہے جبکہ شور پارود میں آپریشن جاری ہے۔ اس علاقے میں 5 ہزار خاندان آباد ہیں، جن کی کُل آبادی 30 ہزار ہے۔ انہیں علاقہ خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے کیمپ بنائے ہیں اور دیگر انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ علاقہ خالی نہیں کریں گے، تو فورسز انہیں زبردستی نکالیں گی۔‘
شور پارود ضلع قلات اور خضدار کے قریب پہاڑی سلسلے میں واقع ایک اہم پہاڑی اور سرحدی علاقہ ہے۔ حالیہ دنوں میں قلات میں شدت پسندی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے مطابق کوئٹہ-لورالائی قومی شاہراہ پر سکیورٹی فورسز کے 32 مشترکہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جس کے بعد دو سال کے دوران وہاں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اسی طرح کوئٹہ-کراچی سیکشن پر بھی آئندہ چار ماہ میں اسی نوعیت کے سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کے اقدامات
بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے کہا کہ ’ہم انکار نہیں کر رہے کہ دہشت گردی نہیں ہو رہی اور بدامنی نہیں ہے، مگر صوبائی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کی بجائے امن امان پر توجہ دے رہی ہے۔‘
یہاں وہ خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا حوالہ دے رہے تھے، جس نے اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کر دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ مغوی کمشنر اسداللہ کاکڑ اور دیگر مزدوروں کو جلد بازیاب کروایا جائے گا، جنہیں گذشتہ ہفتے مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے گذشتہ دو سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں اور نیشنل ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی سمیت دیگر شعبوں میں کام جاری ہے۔
ان کے مطابق بلوچستان حکومت نے دو سال میں دہشت گردی کے خلاف 18 نئے قوانین منظور کیے اور 17 نئے محکمے قائم کیے ہیں۔ صوبے میں فیس لیس عدالتیں بھی قائم کر دی گئی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت 11 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو ان کے وطن واپس بھیج چکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیف سٹی منصوبے، فرانزک ایجنسی، کوئٹہ سکیورٹی بورڈ اور نئے کیمروں کی تنصیب سمیت کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
میر ضیا لانگو نے کہا کہ عسکریت پسندی کے خلاف صوبائی حکومت نے 14 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور 60 ہزار سے زائد مختلف نوعیت کے آپریشنز کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق، ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فورسز کو جو بھی ضرورت ہو، ہماری صوبائی حکومت فراہم کرتی ہے۔‘
خیبر پختونخوا سے موازنہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ ’بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف تمام قوانین کی نہ صرف کابینہ بلکہ صوبائی اسمبلی نے بھی منظوری دی اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کی۔‘
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سوال پر شاہد رند نے کہا کہ ’اس کی وجہ یہ بھی کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی جانب سے کبھی ایسے مارچ کی باتیں نہیں کی گئیں۔‘
شاہد رند نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے بلوچستان اور سکیورٹی فورسز پر تنقید کو بھی ’بلاجواز‘ اور ’غلط‘ قرار دیا۔