ملتان میں گاڑی کی ٹکر سے لڑکے کی موت، پیچھا کیوں کیا گیا؟

پولیس کے مطابق واقعہ پیر کی شام پیش آیا، جب الیکٹریشن کے کام پر مامور وسیم مبینہ تشدد سے بچنے کے لیے بھاگا تو ٹھیکیدار توقیر نذیر اور اس کا ساتھی گاڑی میں اس کے پیچھے گئے۔

ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 19 اکتوبر 2016 کو پیش آئے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک بھاگتے نوجوان کے پیچھے گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے (سکرین گریب)

ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کام سے بھاگنے والے 15 سے 16 سالہ یتیم نوجوان وسیم عباس کو مبینہ طور پر گاڑی سے کچل کر قتل کرنے کے الزام میں پولیس نے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کے ساتھی امجد علی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعہ پیر کی شام پیش آیا، جب الیکٹریشن کے کام پر مامور وسیم مبینہ تشدد سے بچنے کے لیے بھاگا تو ٹھیکیدار توقیر نذیر اور اس کا ساتھی گاڑی میں اس کے پیچھے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی نے نوجوان کو دیوار کے قریب مبینہ طور پر ٹکر ماری، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نوجوان کو جان بچانے کے لیے بھاگتے اور ایک گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس واقعے نے ملازمین پر تشدد اور ان کے تحفظ سے متعلق ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وسیم کی میت ضروری کارروائی کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی، جس کے بعد انہیں مظفر گڑھ میں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ میت گھر پہنچنے پر علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

ملتان پولیس کے ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں وسیم کو مبینہ طور پر ٹھیکیدار نے اپنے ساتھی کے ہمراہ گاڑی سے کچل کر قتل کیا۔

ترجمان کے مطابق ’سی سی ٹی وی فوٹیج میں نوجوان کا پیچھا کرنے اور گاڑی کی ٹکر سے اس کی موت واقع ہونے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔‘

پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے تاکہ واقعے کی تفتیش اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

ملتان پولیس کے مطابق مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دوسرا ملزم امجد علی فرار ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

تھانہ ڈی ایچ اے میں سب انسپکٹر لیاقت بھٹی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، ’وسیم کے کزن مختار نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ الیکٹریشن ٹھیکیدار توقیر اسے تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اور نوجوان جان بچانے کے لیے بھاگ رہا ہے، جبکہ ملزمان گاڑی میں اس کا تعاقب کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف آئی آر کے مطابق پولیس موقع پر پہنچی تو ایک تیز رفتار گاڑی 15 سے 16 سالہ وسیم کا پیچھا کر رہی تھی۔ اسی دوران ’گاڑی نے نوجوان کو ٹکر ماری اور اسے کچل دیا‘، جس سے اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔

پولیس نے موقع سے توقیر کو گرفتار کر لیا، جبکہ امجد علی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ دونوں ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

وسیم یتیم خانے کیسے پہنچا؟

مقتول وسیم عباس کے چچا جعفر حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے بھائی تقریباً نو سال قبل وفات پا گئے تھے۔ بعد ازاں وسیم کی والدہ سے جعفر حسین کی شادی ہو گئی۔

ان کے مطابق، وسیم کے نانا، والدہ اور انہوں نے پانچ سے چھ سال قبل انہیں ملتان کے ایک نجی یتیم خانے میں داخل کرایا تھا تاکہ وہ کوئی ہنر سیکھ کر روزگار کمانے کے قابل ہو سکے۔

جعفر حسین نے بتایا کہ وسیم کا ایک بھائی اور ایک کزن بھی اسی یتیم خانے میں کام کرتے ہیں۔ یتیم خانے کی انتظامیہ نے وسیم کو الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے پانچ روز قبل ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا تھا۔

یتیم خانے کے جنرل سیکرٹری شعیب حیدر نے صحافیوں کو بتایا کہ وسیم گذشتہ پانچ سال سے ادارے میں رہ رہا تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھنا چاہتا تھا۔

ان کے مطابق، یتیم خانے کی انتظامیہ بچوں کو ہنر سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر کے پاس بھیجتی رہی ہے اور اس سلسلے میں ان کی ضمانت بھی لی جاتی تھی۔

شعیب حیدر نے بتایا کہ توقیر کے پاس تقریباً 40 سے 45 لڑکوں کی ٹیم کام کرتی ہے اور ماضی میں اس کے خلاف کوئی شکایت سامنے نہیں آئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وسیم کو بھی اطمینان کرنے کے بعد اس کے پاس بھیجا گیا تھا۔ واقعے کے بعد ٹھیکیدار کے پاس کام کرنے والے یتیم خانے کے ایک اور لڑکے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

شعیب حیدر کے مطابق، ملزم توقیر نے مؤقف اختیار کیا کہ وسیم پیدل بھاگتے ہوئے تھک گیا تھا، اس لیے انہوں نے گاڑی میں ان کا پیچھا کیا اور گاڑی بے قابو ہو کر اسے جا لگی۔ تاہم، ان کے بقول، سی سی ٹی وی فوٹیج میں بظاہر یہ محض حادثہ دکھائی نہیں دیتا۔

وسیم کی موت نے ملازمین کے تحفظ، کم عمر بچوں سے کام کروانے اور کام کی جگہوں پر مبینہ تشدد کی روک تھام سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان