پشاور: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج پر وفاقی حکومت کو نوٹس  

پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کے بعد وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔

20 اپریل 2021 کو پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کا بیرونی منظر (فائل فوٹو/اے ایف پی)

پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر منگل کو سماعت کے بعد وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔

 وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کیا تھا، جسے پی ٹی آئی نے ’غیر آئینی‘ قرار دیا اور پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کے اس اقدام کی آئینی حیثیت اور قانونی جواز سمیت اس کے صوبائی خودمختاری، نمائندہ حکومت اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر اثرات سے متعلق اہم آئینی سوالات اٹھتے ہیں، جن پر فوری غور ضروری ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکلا سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر امیر کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے غیر قانونی طور پر صوبے میں گورنر راج نافذ کیا ہے۔ 

درخوست گزار کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے گورنر راج کی منظوری دی ہے اور انہوں نے اس ضمنی درخواست میں اسے بھی چیلنج کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرار داد لازمی ہے اور صوبائی اسمبلی سے کوئی منظوری نہیں لی گئی۔ 

درخواست گزار کے مطابق: ’آرٹیکل 232(1) کہتا ہے کہ صوبائی اسمبلی سے منظوری ضروری ہے، لفظ shall لکھا ہے لیکن وفاقی حکومت نے صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی کو نافذ کیا گیا ہے، جو غیر قانونی ہے۔ ‘

ایمرجنسی کے حوالے سے درخواست گزار کے وکیل عدالت کو بتایا کہ انہوں نے درخواست دائر کی ہے، جس میں ایمرجنسی کو چیلنج نہیں کیا۔ ’عدالت کو بتایا چاہتا ہوں کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی ٹھیک لگائی گئی ہے پشاور کیونکہ وہاں پر حالات خراب ہیں اور صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر تھے۔‘

جس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ ’ایمرجنسی ویسے بھی لگائی گئی ہے، آپ جس کے خلاف ہیں، اس پر بات کریں۔‘

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو سنا اور وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔

جس پر درخواست گزار سلمان اکرم نے کہا کہ ’ہم نے عبوری ریلیف مانگا ہے، اس کا بھی آرڈر کریں‘، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’ہم اس کو دیکھتے ہیں اور آرڈر جاری کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان