خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی غیر معینہ مدت تک رہے گی: وزیر قانون

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کا انتظام غیر معینہ مدت تک اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش مند نہیں۔

ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد 12 اکتوبر، 2026 کو پشاور میں سخت سکیورٹی ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیر کو کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے تک غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گی۔

پاکستان کے صدر نے اتوار کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔

وفاقی حکومت نے صوبے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر عائد کیا ہے۔

پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دیتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پارٹی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب اس کے ہزاروں حامی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دارالحکومت کی جانب مارچ کر رہے تھے۔

آئین کا آرٹیکل 232 جنگ یا اندرونی خلفشار کے باعث ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی نظام ناکام ہونے کی صورت میں صدر کو ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ ہنگامی حالت کے لیے کوئی مقررہ مدت متعین نہیں کی گئی۔

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کی قانون سازی کے اختیارات چھ ماہ بعد بحال ہو جائیں گے۔

انہوں نے غیر ملکی صحافیوں کو بریفنگ کے دوران کہا ’آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت کوئی مدت مقرر نہیں۔ تاہم آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی اور قانون سازی کے اس کے اختیارات چھ ماہ بعد بحال ہو جائیں گے۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ آرٹیکل 234 کے تحت چھ ماہ بعد صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات بحال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صوبائی حکومت بھی خودبخود بحال ہو جائے گی۔

وفاقی حکومت نے عبوری مدت کے دوران صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کو مقرر کیا ہے۔

گورنر کے فرائض کی انجام دہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل معاونت کر رہی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کا انتظام غیر معینہ مدت تک اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش مند نہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم اس صوبے کا انتظام غیر معینہ مدت تک اپنے ہاتھ میں نہیں رکھنا چاہتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور آئینی نظام کی ناکامی کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں حالات جلد معمول پر آ جائیں گے۔ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی نظام بھی قائم کیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق ان اضلاع کو عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ان علاقوں میں سکیورٹی، حکمرانی اور ترقیاتی امور میں رابطہ کاری کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایک کونسل مقرر کی گئی ہے۔

بریفنگ میں اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ موجود وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے میں ریکارڈ کیے گئے ’دہشت گردی کے واقعات‘ کی تعداد 2021 سے 2024 کے دوران 2,911 تھی، جو 2024 سے 2026 کے عرصے میں بڑھ کر تقریباً 8,600 ہو گئی۔ ان کے مطابق یہ 195 فیصد اضافہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھر میں دہشت گردی کے واقعات کی مجموعی تعداد 2025 میں 3,774 رہی جبکہ ستمبر 2026 میں 2,857 واقعات رپورٹ ہوئے۔

وفاقی وزرا نے پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ پولیس کو ضروری سازوسامان فراہم کرنے، انسداد دہشت گردی کے یونٹس کو مضبوط بنانے اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی حکام کے ساتھ رابطہ کاری میں ناکام رہی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے ایک متفقہ پالیسی چاہتی ہے۔ ان کے بقول افغانستان اور عسکریت پسندی کے معاملے پر صوبائی حکومت کا مؤقف اسلام آباد کی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطے میں تھی۔

ٹی ٹی پی طویل عرصے سے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کرتی رہی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا ’ایسے معتبر شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ٹی ٹی پی سے رابطے تھے۔

’ہم پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان ان روابط کے حوالے سے شواہد فراہم کریں گے جن کا ہم نے سراغ لگایا ہے۔‘

پی ٹی آئی نے حکومت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد صوبائی حکومت کو غیر قانونی طور پر برطرف کرنے کے اقدام کا جواز پیش کرنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایکس پر ایک بیان میں پارٹی نے پولیس پر پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا۔

پی ٹی آئی نے کہا ’قوم گورنر راج نافذ کرنے والوں اور اس اقدام میں سہولت کاری کرنے والوں کے چہرے ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘

جب وفاقی وزرا سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں پوچھا گیا تو عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ انہیں ’احتیاطی تحویل‘ میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ’وزارت داخلہ اور صوبائی مشاورتی کونسل کے درمیان رابطے کے مطابق ہمیں بتایا گیا کہ وہ احتیاطی حراست یا احتیاطی تحویل میں ہیں۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔‘

صوبے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے پولیس کے دو اہلکاروں نے بتایا کہ اتوار کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 278 کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست