زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات، سیاسی و سکیورٹی صورت حال پر گفتگو

ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلائے جائیں گے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان 10 اکتوبر، 2026 کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی (ایوان صدر)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری لانگ مارچ کے تناظر میں ہفتے کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔

ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلائے جائیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ملاقات میں وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء الّلہ، وفاقی وزیر داخلہ  محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔

سینیٹر شیری رحمان،  سید نوید قمر سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت کی معاونت کی۔

ایوان صدر میں یہ اجلاس ایک ایسے موقعے پر ہوا جب اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے گورنر ہاؤس نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن برقرار رکھنے اور ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

بیان کے مطابق صوبےکے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں امور کشمیر و گلگت بلتستان کے وفاقی وزیر امیر مقام سے ملاقات کی۔ 

ملاقات میں احتجاجی مارچ، صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورت حال اور دیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ’دہشت گردی‘ اور مبینہ طور پر انتشار کی پشت پناہی اور اسے فروغ دینے والے سیاسی گروہ سے تنگ آ چکے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے ہزاروں حامیوں کے ہمراہ دارالحکومت کی جانب احتجاجی مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ 

پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت پر عمران خان کی اپنے وکلا اور اہل خانہ تک رسائی محدود کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے، تاہم حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔

پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت کوئی پالیسی مسلط کرنے کے بجائے اتفاق رائے سے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی تیار کرے۔

’طرز حکمرانی کے فقدان‘ پر تنقید

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آج پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبے میں ’طرز حکمرانی کے فقدان‘ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ن الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت 700 ارب روپے دیے گئے۔

انہوں نے کہا ’آپ نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو اپ گریڈ نہیں کیا، فرانزک لیبارٹریاں قائم نہیں کیں اور سیف سٹی کیمرے نصب نہیں کیے حالانکہ یہ ضم شدہ اضلاع اور خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے داخلی اور خارجی راستوں پر نصب کیے جانے چاہییں۔‘

وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی یہ رقم احتجاجی مظاہرے منظم کرنے پر خرچ کر رہی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے تنقید کرتے ہوئے کہا ’آپ صوبے میں دہشت گردی کے معاملے پر بات کرنے کے لیے آدھا گھنٹہ بھی نہیں نکالتے لیکن بدامنی اور توڑ پھوڑ پھیلانے کے لیے چھ چھ گھنٹے کے اجلاس منعقد کرتے ہیں۔‘

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے قائد اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل سے رہا کرانے کے لیے صوبے کے لاکھوں عوام کو ’یرغمال‘ بنا رکھا ہے۔

پی ٹی آئی کا اہم اجلاس

ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے ایکس پر ایک بیان میں بتایا کہ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پارٹی کی سینیئر قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال، پارٹی کے مجوزہ لانگ مارچ اور دیگر اہم سیاسی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں آئندہ حکمتِ عملی اور تنظیمی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اسلام آباد کی جانب ’لانگ مارچ‘

سہیل آفریدی نے گذشتہ اتوار کو شمال مغربی ضلع لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب ’لانگ مارچ‘ کا آغاز کیا۔ یہ مارچ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد شروع ہوا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اس وقت عمران خان کے ہزاروں حامیوں کے ہمراہ ضلع چارسدہ میں موجود ہیں۔
 
انہوں نے جمعے کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں پارٹی کے تمام حامیوں اور ارکان پارلیمان پر زور دیا کہ وہ 14 اکتوبر کو ضلع صوابی پہنچیں۔

اتوار کو شروع ہونے کے بعد سے احتجاجی مارچ خیبر پختونخوا میں سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کا راستہ کئی بار تبدیل کیا گیا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا، ’ان شا اللہ، 14 اکتوبر کو ہم صوابی سے آگے بڑھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست