پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی۔
بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے تجویز دی کہ ’وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کریں۔‘
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق اس ضمن میں ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد میں اتوار کو وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس سے خطاب میں شبہاز شریف نے کا کہنا تھا کہ ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ مل کر اس صوبے (خیبر پختونخوا) کی پولیس، انتظامیہ کا فرض ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ’بجائے اس کے وہ دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو وہ نہ صرف خاموش ہے بلکہ صورت حال ہر روز مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، اور اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ہے۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ’کیا آپ بار بار یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو لاچار کرنا چاہتے ہیں؟ یہ نہیں ہوگا قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور ہر صورت اپنائے گا۔‘
انہوں نے وفاقی کابینہ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں پانی اب سر سے گزر رہا ہے۔ جو میں نے تصویر کشی کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ یہ فیصلہ آپ کا ہے تاریخ ہمیں انہی فیصلوں سے یاد رکھے گی۔‘
دوسری جانب اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’ہماری ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔‘
سہیل آفریدی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنی آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
’آئین قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔‘