پاکستان کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کرنے کا اعلان کیا جس نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا جبکہ پیٹرول پمپ مالکان نے ملک گیر ہڑتال اور پمپ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکہ کے ایران پر دوبارہ حملوں اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو ایک مرتبہ پھر سے بند کرنے سے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے۔
پاکستانی حکومت نے جنگ کے آغاز میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرنے کا اعلان کیا تھا مگر گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب سے سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔
وفاقی حکومت نے اسی تناظر میں منگل کی شب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ پہلے یہ قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لیٹر تھی۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ 360 روپے 6 پیسے فی لیٹر تھی۔
آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن نے منگل کی شب اعلان کیا کہ حکومت کے ساتھ روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں بدھ کی رات سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی جائے گی۔
حکومتی ٹیم، جس کی قیادت وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کر رہے تھے، سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا کہ روزانہ ایندھن کی قیمتوں کے نئے نظام پر تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ان کی بقا کا مسئلہ ہے، اس لیے اب ان کے پاس غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپس ایوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ’کل رات بارہ بجے سے ملک بھر میں کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پیٹرول پمپ غیرمعینہ مدت تک بند رہیں گے۔‘
ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین نعمان علی بٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کی جانب سے پیٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل کا منصوبہ پیٹرول پمپ ڈیلرز کے لیے نہ تو قابل قبول ہے اور نہ ہی قابل نفاذ ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر بدھ کو فیصلہ کریں گے کہ آیا انہیں ہڑتال کرنی ہے یا نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ شہری متاثر ہو رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل سے مشکلات کا سامنا ہے۔
رکشہ ڈرائیور محمد وسیم کہتے ہیں کہ ایک دن پیٹرول کا ریٹ کچھ ہوتا ہے، رات کو کچھ اور اگلے دن مختلف اسی پریشانی میں رات گزرتی ہے۔ جتنا پیٹرول کی قیمت کا حساب لگایا ہوتا ہے وہ سب متاثر ہو جاتا ہے۔ مہنگائی پہلے ہی اتنی ہے اوپر سے یہ غیر یقینی صورتحال پریشان کر رہی ہے۔‘
اسی طرح بائیکیا چلا کر روزگار کمانے والے محمد عامر کے بقول، ’میں بائیکا چلاتا ہوں لیکن اب ایک ہزار روپے دیہاڑی کمانا بھی مشکل ہوگیا کیونکہ معلوم نہیں ہوتا کہ رات کو کتنا ریٹ بڑھے گا۔
’صبح پیٹرول ڈلوا کر کام شروع کرنا ہوتا ہے اب اندازہ نہیں ہوتا کتنا اضافی ریٹ ادا کرنا ہوگا۔ سواری اپنی جگہ ٹھیک بحث کرتی ہے کیونکہ ہم نے پیٹرول کی قیمت کے مطابق ہی ریٹ لینا ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پہلے کی طرح قیمتوں کا تعین کرے۔‘
گھریلو کام کاج کے لیے سواری استعمال کرنے والے مستجاب علی نے کہا کہ ’یہ کوئی مرغی کا ریٹ ہے جو روزانہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ پہلے تو کبھی کبھار پیٹرول کی قیمت میں ردو بدل پر پیٹرول پمپوں سے پیٹرول ملنا بند ہوتا تھا۔ لیکن اب اس غیر یقینی کی وجہ سے کئی پمپ رات 10,11 بجے فروخت بند کر دیتے ہیں، تاکہ 12 بجے قیمت کا پتہ چلے تو فروخت شروع کریں۔
’اس صورتحال میں عوام پمپوں پر خوار ہورہی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے عوام کی مشکلات حل کرنے پر غور کریں۔ روزانہ قیمت کا تعین بند کریں۔‘
اسی طرح لاہورمیں ایک پیٹرول پمپ مینجر اصغر کشمیری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پیٹرول کی گاڑی دو دن بعد آتی ہے لیکن روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردو بدل کے باعث ریٹ مقرر کرنا دشوار ہے۔
’ریٹ جب اگلے دن ہی بڑھتا ہے تو صارفین ہم سے جھگڑتے ہیں۔ روزانہ قیمتوں کا تعین کرنے سے عام لوگ پیٹرول کی مقدار کے حوالے سے بھی مخمصے کا شکار ہوتے ہیں۔‘