پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے معاملے پر ٹرانسپورٹر تنظیموں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں کراچی میں منگل کو آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 14 اگست کے بعد ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔
آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ لیاقت محسود نے منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اتحاد موجودہ ہڑتال میں شامل نہیں ہے۔
یاد رہے کہ حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد ’آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس‘ نامی تنظیم نے ہفتے سے ہڑتال شروع کی ہے جس کے بعد ان کے نمائندوں کو پیر کو اسلام آباد مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا اور وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے انہیں یقین دلایا کہ ان کے ’جائز مطالبات‘ ترجیحی بنیادوں پر پورے کیے جائیں گے اور ان کے مسائل جلد حل کر دیے جائیں گے۔
لیاقت محسود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 14 اگست پاکستان کے لیے خوشی کا دن ہے اور یومِ آزادی سے قبل اتحاد کی جانب سے کسی ہڑتال میں شامل ہونے یا نئی ہڑتال کا اعلان کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
لیاقت محسود کے مطابق ’14 اگست کے بعد ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے مشاورت کی جائے گی، جس میں مہنگائی اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش دیگر مسائل پر غور کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل صرف ڈیزل کی قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ ٹول ٹیکس، ایکسل لوڈ، چالان، لائسنس اور سڑکوں کی خستہ حالی سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈمپر ٹرانسپورٹرز بھی مشکلات سے دوچار ہیں اور کئی گاڑیاں سڑکوں کے کنارے کھڑی ہیں، جبکہ ٹیکسز کی ادائیگی کے باوجود سڑکوں کی حالت بہتر نہیں کی جا رہی۔
لیاقت محسود کے مطابق ’آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد میں ہیوی ٹرانسپورٹ، باڈی ٹرک، بوٹن سوٹ، ملز، ڈمپر اور واٹر ٹینکرز سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ ٹرانسپورٹرز شامل ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں سے وابستہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل اور مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے 14 اگست کے بعد مشاورت کی جائے گی اور مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے گا۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹر نصیب اللہ نے بھی موجودہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے بعض مطالبات سے اختلاف کیا ہے، بالخصوص ایکسل لوڈ کے مقررہ معیار پر ان کا مؤقف دیگر مطالبات سے مختلف ہے۔
نصیب اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بعض ہیوی گاڑیوں کی مالیت چار سے پانچ کروڑ روپے تک ہے اور یہ گاڑیاں طویل فاصلے تک بھاری وزن لے کر جاتی ہیں، اس لیے ان گاڑیوں کے لیے موجودہ ایکسل لوڈ کی حد قابلِ قبول نہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم انہوں نے ڈیزل، ٹول پلازوں اور چالان سمیت ٹرانسپورٹرز کے دیگر مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایکسل لوڈ سے متعلق موجودہ طریقہ کار سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کے مطابق حکومت کو ایکسل لوڈ سے متعلق پالیسی مرتب کرتے وقت مختلف اقسام کی گاڑیوں کی ساخت، گنجائش اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ہڑتال پر مختلف مؤقف
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے معاملے پر ٹرانسپورٹر تنظیموں کے درمیان اختلافِ رائے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سامان کی ترسیل سے وابستہ گاڑیوں کی ہڑتال جاری ہے۔
آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال ہڑتال کا حصہ نہیں بنے گا اور 14 اگست کے بعد ملک بھر کی متعلقہ تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے مسائل پر مشاورت کرے گا۔
ٹرانسپورٹرز کے مختلف گروپس کے مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ ہڑتال اور مطالبات کے حوالے سے مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں، بالخصوص ایکسل لوڈ کے معاملے پر تنظیموں کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔اتحاد کے مطابق مشاورت کے بعد ہی آئندہ کے لائحہ عمل اور ممکنہ احتجاج سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔