پاکستان اور افغانستان باہمی تنازعے کا جامع حل تلاش کرنے پر متفق: چین

چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے ارمچی میں ہوئی ملاقاتوں میں اتفاق کیا کہ وہ ایسی کارروائیاں نہیں کریں گے جو صورت حال کو مزید بڑھاوا دیں یا پیچیدہ بنائیں۔

20 اگست، 2025 کو کابل میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، ان کے پاکستانی اور افغان ہم منصبوں اسحاق ڈار اور امیر خان متقی چھٹے سہ فریقی ڈائیلاگ میں شریک ہیں (بشکریہ شِنہوا نیوز ایجنسی نیوز ایجنسی)

چین کی وزارت خارجہ نے بدھ کو کہا کہ افغانستان اور پاکستان نے اُرمچی میں امن بات چیت کے دوران اتفاق کیا کہ وہ گذشتہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعے کا جامع حل تلاش کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ دونوں ممالک نے ان ملاقاتوں میں اتفاق کیا کہ وہ ایسی کارروائیاں نہیں کریں گے جو صورت حال کو مزید بڑھاوا دیں یا پیچیدہ بنائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین دونوں ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھے گا اور بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

منگل کو کابل میں طالبان انتظامیہ نے بتایا تھا کہ دونوں ملکوں نے چین میں ہونے والی بات چیت میں تنازعے کے حل کے لیے ’مؤثر‘ پیش رفت کی ہے۔

چین گذشتہ کئی ہفتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کو سلجھانے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بتایا ’اب تک مفید بات چیت ہوئی ہے‘ اور امید ظاہر کی کہ معمولی نوعیت کے اختلافات مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امیر خان متقی نے کابل میں چین کے سفیر ژاؤ شِنگ سے ملاقات کی تھی۔

پاکستان فوج نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ ان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔

پاکستان فوج کے مطابق یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک پڑوسی ملک میں عسکریت پسندوں کے تمام ’محفوظ ٹھکانوں‘ کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔

یہ گروہ افغان طالبان سے الگ ہے لیکن اس کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان