پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کر کے اور وہاں وزیر خارجہ بھیج کر صومالیہ کی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ کیا ہے۔
اسرائیل نے گذشتہ ماہ کے آخر میں صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے صومالیہ نے غیر قانونی اور اس کی خود مختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی اس اسرائیلی اقدام کی متعدد بار مذمت کی گئی ہے۔
دفتر خارجہ سے اتوار کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے صومالی لینڈ کے دورے کو ’انتہائی تشویش ناک‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے اور اسرائیلی وزیر خارجہ کے صومالی لینڈ جانے کے ’غیرقانونی‘ اور ’غیرحقیقی‘ اقدام کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی وحدت، خود مختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ’صومالی لینڈ صومالیہ کا غیر متنازع اور اٹوٹ انگ ہے۔ بین الاقوامی قانون تحت ریاست کی خود مختاری اورعلاقائی سالمیت لازمی ہیں۔ کوئی بیرونی ادارہ یا ریاست اس حقیقت کو بدلنے کا قانونی یااخلاقی حق نہیں رکھتی، ایسے کسی بھی بیان یا عمل کو قانونی یاسیاسی اثر حاصل نہیں ہوگا۔‘
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر بریفنگ کے دوران صومالیہ کی بھرپور حمایت کا اظہار بھی کیا اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر خارجہ کے مطابق: ’پاکستان فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کو ایسے کسی بھی غیر قانونی اقدام سے منسلک کرنے کی کسی بھی تجویز یا منصوبے کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ ایسا کوئی بھی اقدام جو فلسطینیوں کی بے دخلی یا منتقلی کی وکالت کرتا ہو یا اس کا عندیہ دیتا ہو، نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے امکانات کو بھی کمزور کرتا ہے۔‘
پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یک زبان ہو کر ’صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کریں۔‘
دوسری جانب سعودی عرب کے نائب وزیر برائے امور خارجہ ولید الخریجی نے بھی ہفتے کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب میں مملکت کی جانب سے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خود مختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
سرکاری سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق انہوں نے اسرائیلی قابض حکام اور صومالی لینڈ کے خطے کے درمیان باہمی طور پر تسلیم کیے جانے کے اعلامیے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے یک طرفہ علیحدگی پسند اقدامات کی توثیق قرار دیا، جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور او آئی سی کے منشور کی خلاف ورزی ہیں۔
سعودی نائب وزیر خارجہ نے صومالیہ کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے منافی متوازی اکائیاں مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو مملکت کی جانب سے دو ٹوک انداز میں مسترد کرنے، اس کی خودمختاری کی تقسیم یا اس میں کمی کو رد کرنے، صومالی ریاست کے قانونی اداروں کی حمایت اور صومالیہ اور اس کے برادر عوام کے استحکام کو برقرار رکھنے کے عزم کی توثیق کی۔
انہوں نے او آئی سی اور اس کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ صومالیہ میں علیحدگی پسند اکائیوں کو تسلیم کرنے یا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاملات کو مسترد کرتے ہوئے ایک مضبوط اور اجتماعی اسلامی مؤقف اختیار کریں۔
سعودی نائب وزیر خارجہ نے ان اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی مضمرات کا مکمل ذمہ دار اسرائیلی وجود کو ٹھہرانے پر زور دیا۔
ساتھ ہی انہوں نے بین الاقوامی فورمز پر مربوط اقدامات پر زور دیا تاکہ صومالیہ کی وحدت کی توثیق کی جا سکے اور رکن ممالک کے لیے خطرہ بننے والی ایسی خطرناک مثالوں کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے اس باہمی تسلیم کے نتیجے میں سامنے آنے والے کسی بھی اقدام یا تعاون کو مسترد کر دیا۔
سعودی نائب وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت پر مملکت کے زور اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حصول کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا، تاکہ بالآخر برادر فلسطینی عوام اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کر سکیں اور 1967 کی سرحدوں کے اندر اپنی آزاد ریاست قائم کر سکیں، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔