اسرائیل عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے: صومالیہ

صومالیہ کے وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت داؤد اویس جامع نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے پیچھے دیگر سٹریٹیجک محرکات بھی ہیں، جن میں غزہ سے فلسطینیوں کی جبری آبادکاری بھی شامل ہے۔

صومالیہ کے وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت داؤد اویس جامع نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا جانا اور خطے میں اس کی موجودگی صورت حال کو مزید بھڑکا سکتی ہے، جس سے ’دہشت گرد گروہوں‘ کو علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کا موقع ملے گا۔

عرب نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں داؤد اویس جامع نےکہا کہ 26 دسمبر کو اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا غیر معمولی اقدام صومالیہ کی الشباب اور داعش جیسی تنظیموں کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

انہوں نے کہا: ’اسرائیل کی موجودگی کو دہشت گرد گروہ خطے میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے۔ (انہیں) اپنے نظریات پھیلانے کا ایک جواز مل جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ ایک اور پہلو ہے جو عالمی سلامتی اور علاقائی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے، کیونکہ ہم دہشت گرد گروہوں الشباب اور داعش کے خلاف چیلنجز پر قابو پانے کے آخری مرحلے میں تھے۔‘

صومالی وزیر نے کہا: ’ہم اپنے تمام وسائل اور اپنا تمام وقت اس بات کو یقینی بنانے میں لگا رہے تھے کہ الشباب کے خلاف جنگ کے آخری مراحل مکمل کیے جائیں، لہٰذا اگر کوئی اور چیز ہمیں متاثر کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم الشباب کے خلاف کارروائیوں پر پوری توجہ نہیں دے پائیں گے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم الشباب یا دیگر تنظیموں کو مزید مواقع فراہم کر رہے ہوں گے۔‘

داؤد اویس جامع نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی صومالیہ کی صلاحیت کو پہنچنے والا یہ نقصان ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے اور اس سے آگے تک پھیل جائے گا۔

وزیر نے کہا: ’یہ خطے میں دیگر بیرونی دہشت گرد گروہوں کو دعوت دے سکتا ہے کیونکہ وہ اس بحران سے فائدہ اٹھائیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ ان تمام علاقوں پر قبضہ کر لیں، جہاں وہ اس سے پہلے شکست کھا چکے تھے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ (اعلان) ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جو صومالی حکومت کی حیثیت سے ہماری سلامتی، قرن افریقہ کی سلامتی، خلیجِ عدن کی سلامتی، بحیرۂ احمر کی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی استحکام کو متاثر کرے گا۔ یہ ایک نہایت اہم مقام ہے جہاں سے دنیا کی تجارت گزرتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا جانا اور خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی موجودگی مزید چیلنجز کو جنم دے رہی ہے، ’جو خطے بالخصوص صومالیہ میں موجود جاری مسائل پر مزید ایندھن ڈالنے کے مترادف ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اور اس وقت یہ صرف صومالیہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ایسا چیلنج بن جائے گا جو آگ کی طرح پورے خطے اور پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔‘

داؤد اویس جامع نے عرب نیوز کو بتایا کہ اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے پیچھے دیگر سٹریٹیجک محرکات بھی ہیں، جن میں غزہ سے فلسطینیوں کی جبری آبادکاری بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا: ’قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق، جن سے ہماری انٹیلی جنس نے معلومات حاصل کیں، اسرائیل نے (صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بدلے) جو شرائط پیش کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انہیں ایسی جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ غزہ کے لوگوں کو آباد کر سکیں۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فلسطینی عوام کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ فلسطینی عوام کو حقِ خودارادیت حاصل ہے۔ دو ریاستی حل، جس کا مطالبہ بین الاقوامی برادری کرتی آئی ہے، پر عمل ہونا چاہیے اور اسے نافذ کیا جانا چاہیے۔”

اسرائیل کی اتحادی حکومت، جو اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ دائیں بازو اور مذہبی طور پر قدامت پسند حکومت ہے، میں انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان شامل ہیں، جو غزہ اور مغربی کنارے دونوں کے الحاق اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین چھوڑنے کی ترغیب دینے کے حامی ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں صومالیہ کے سفیر ابو بکر ظاہر عثمان نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اراکین الجزائر، گیانا، سیئرا لیون اور صومالیہ ’اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے کسی بھی اقدام کو، بشمول اسرائیل کی جانب سے فلسطینی آبادی کو غزہ سے صومالیہ کے شمال مغربی خطے میں منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو صریح الفاظ میں مسترد کرتے ہیں۔‘

گذشتہ ماہ اسرائیل صومالی لینڈ کو ایک آزاد ملک تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا تھا۔ 1991 میں خود کو آزاد قرار دینے کے بعد تین دہائیوں سے زائد عرصے تک کسی بھی ریاست نے اس شمال مغربی علاقے کو صومالیہ سے الگ تسلیم نہیں کیا تھا۔

موغادیشو نے دنیا بھر کے کئی ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی اقدام کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔

سعودی عرب نے بھی صومالیہ کی وفاق سے متصادم متوازی اکائیوں کے نفاذ کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔ اس نے صومالی ریاست کے جائز اداروں کی حمایت اور صومالیہ اور اس کے عوام کے استحکام کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک گروپ نے اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر اسرائیل کے اعلان کو سختی سے مسترد کیا۔ ایک مشترکہ بیان میں وزرا نے خبردار کیا کہ یہ اقدام ’قرن افریقہ اور بحیرۂ احمر کے خطے میں امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج‘ کا حامل ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اقوام متحدہ میں عرب لیگ کے سفیر ماجد عبدالفتاح عبدالعزیز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 22 رکنی عرب لیگ نے بھی ’غیر قانونی طور پر تسلیم کیے جانے کے کسی بھی اقدام کو، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کو آسان بنانا یا شمالی صومالی بندرگاہوں کو فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے استعمال کرنا ہو،‘ مسترد کر دیا۔

اسرائیل اور صومالی لینڈ کے تعلقات میں تازہ ترین پیش رفت کے طور پر، تل ابیب کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد، اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے منگل کو خطے کا دورہ کیا تاکہ سفارتی تعلقات کو عوامی طور پر باضابطہ شکل دی جا سکے۔

داؤد اویس جامع نے زور دے کر کہا: ’یہ صومالیہ کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی تھی کہ اسرائیل نے وفاقی جمہوریۂ صومالیہ کے اندر ایک خطے کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی تھی۔ یہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی تھی۔

’ابتدا سے ہی ہمارا راستہ سفارتی کوششوں پر مبنی تھا اور ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک کامیاب اجلاس سے آغاز کیا، جس نے صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کی۔ اس کے بعد عرب لیگ، تنظیمِ تعاونِ اسلامی، افریقی یونین اور علاقائی اداروں جیسے مشرقی افریقی کمیونٹی اور آئی جی اے ڈی نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا۔

’اس کے علاوہ افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل نے بھی صومالی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی اہمیت کو دہرایا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ