متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنے کا اعلان

یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی وام کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یکم مئی 2026 سے ہو گا۔

3 مارچ 2026 کی اس تصویر میں ابوظبی کی نیشنل آئل کمپنی کے ذیلی ادارے ایڈنوک گیس کی ایک تنصیب کے پاس سے ایک ٹرک گزر رہا ہے (اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے منگل کو پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے، جو کہ یکم مئی 2026 سے لاگو ہو گا۔

ملک کی سرکاری نیوز ایجنسی وام نے رپورٹ کیا کہ ’اس فیصلے کو یو اے ای کے طویل المدتی سٹریٹجک اور معاشی وژن اور بدلتے ہوئے توانائی پروفائل کا عکاس قرار دیا گیا ہے، جس میں مقامی توانائی پیداوار میں تیز رفتار سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی توانائی منڈیوں میں ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور مستقبل بین کردار ادا کرنے کے عزم کو بھی دہرایا گیا ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’یہ فیصلہ یو اے ای کی پیداواری پالیسی اور موجودہ و مستقبل کی صلاحیت کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے، جو قومی مفاد اور عالمی منڈی کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے عزم پر مبنی ہے۔‘

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا قیام 1960 میں عمل میں آیا تھا، جس کے اہم ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (اب علیحدگی کا اعلان)، ایران، عراق، کویت، وینزویلا، الجزائر، لیبیا، نائجیریا، انگولا اور قطر شامل ہیں جبکہ اوپیک پلس کا قیام 2016 میں عمل آیا تھا جب اوپیک ممالک اور نان اوپیک ممالک میں اتحاد ہوا، اس میں روس سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ 

اوپیک اور اوپیک پلس تیل کی پیداوار اور قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یو اے ای کی حکومت نے کہا ہے کہ ’قلیل مدتی اتار چڑھاؤ، بشمول خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں، سپلائی کے نظام کو متاثر کر رہے ہیں، تاہم بنیادی رجحانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ درمیانی اور طویل مدت میں عالمی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو گا۔ ایک مستحکم عالمی توانائی نظام کے لیے لچکدار، قابلِ اعتماد اور سستی فراہمی ضروری ہے۔ یو اے ای نے بدلتی ہوئی طلب کو مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقے سے پورا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ہے، جس میں استحکام، لاگت میں توازن اور پائیداری کو ترجیح دی گئی ہے۔‘

وام کے مطابق ’یہ فیصلہ دہائیوں پر محیط تعمیری تعاون کے بعد سامنے آیا ہے۔ یو اے ای نے 1967 میں ابوظبی کے ذریعے اوپیک میں شمولیت اختیار کی اور 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد بھی اس کی رکنیت برقرار رکھی۔ اس دوران یو اے ای نے عالمی تیل منڈی کے استحکام اور پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔‘

یو اے ای دنیا کے کم لاگت اور نسبتاً کم کاربن اخراج والے تیل کے بڑے پیداکنندگان میں شامل ہے، جو عالمی ترقی اور اخراج میں کمی کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

یو اے ای نے کہا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کے بعد بھی یو اے ای ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے بتدریج اور متوازن انداز میں پیداوار کو منڈی میں لائے گا، جو طلب اور حالات کے مطابق ہو گی۔

وسیع اور مسابقتی وسائل کی بنیاد پر یو اے ای اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر وسائل کی ترقی جاری رکھے گا، جس سے معاشی ترقی اور تنوع کو فروغ ملے گا۔

یہ فیصلہ عالمی منڈی کے استحکام کے لیے یو اے ای کے عزم یا پیدا کرنے اور استعمال کرنے والے ممالک کے ساتھ تعاون پر مبنی پالیسی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ اس سے بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ردِعمل دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔

یو اے ای نے اوپیک اور اوپیک پلس اتحاد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ پانچ دہائیوں سے زائد تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔

بیان میں کہا گیا: ’تنظیم میں قیام کے دوران یو اے ای نے نمایاں کردار ادا کیا اور مشترکہ مفاد کے لیے بڑی قربانیاں بھی دیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ قومی مفاد، سرمایہ کاروں، صارفین، شراکت داروں اور عالمی توانائی منڈیوں کے حوالے سے اپنی ترجیحات پر توجہ دی جائے، اور آئندہ اسی پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا