واشنگٹن: اسرائیلی سفارت خانے کے باہر فلسطین کے حق میں مظاہرہ

مظاہرے میں شریک ایک نوجوان عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کا اثر حکومت پر ہو نہ ہو لیکن امریکی عوام پر ضرور ہو رہا ہے، جو غزہ سے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جو لوگ امریکی شہر واشنگٹن ڈی سی سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی سفارت خانے کے راستے میں ایک اور اہم سفارت خانہ پڑتا ہے۔ جمعے (یکم دسمبر) کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد بشمول پاکستانیوں کے اس سفارت خانے کی جانب جا رہی تھی۔

یہاں ذکر ہو رہا ہے اسرائیلی سفارت خانے کا، جس کے باہر فلسطین کے حق میں مظاہرے کی کال دی گئی تھی۔ یہ مظاہرہ امریکن مسلم ٹاسک فورس فار فلسطین کے زیر اہتمام کیا گیا تھا۔

اسرائیل کے سفارت خانے سے ذرا پہلے اور اس کی دیوار کے ساتھ ساتھ کچھ ٹرک کھڑے تھے جن پر با آواز بلند کوئی دھن بج رہی تھی جب کہ ٹرکوں پر حماس کے زیر حراست افراد کی تصاویر آویزاں تھیں۔

ندا علی جو اس مظاہرے  میں شرکت کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ آئی تھیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اتنے بلند میوزک کے ساتھ یہ ٹرک یہاں اس لے پارک کیے گئے تھے تاکہ مظاہرین پریشان ہوں اور جمعے کی نماز بھی آس پاس ادا نہ کر سکیں۔

اتنے میں سینکڑوں افراد سفارت خانے کی دوسری جانب جمع ہونے لگے جہاں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی اور بہت سے والدین اپنے بچوں کے ساتھ بھی مظاہرے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ باوجود اس کے کہ ڈی سی کی فضا بارش کی وجہ سے بہت خنک تھی اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نو عمر افراد ہوں یا عمر رسیدہ بزرگ سب ہی فلسطین کی آزادی کے لے نعرے لگا رہے تھے۔ ان نعروں میں وقفہ اس وقت آیا جب جمعے کی نماز اسی سڑک پر کھلے آسمان کے نیچے ادا کی گئی، جہاں مظاہرین کا اجتماع جاری تھا۔

مظاہرے میں شریک امریکی شہری آسیہ اپنے بھائی کے ساتھ وہاں آئی تھیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے اور وہ نہیں چاہتیں کے ان کا ادا کرہ ٹیکس اسرائیلی ریاست کی جنگی امداد پر لگایا جائے۔

امریکہ میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا اسرائیل حکومت کی ایسے وقت میں کھلی حمایت کرنا جب کہ عزہ میں عام شہری بمباری کی زد میں ہیں، آنے والے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کو مہنگا بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ مسلمان اور نوجوان امریکی ووٹرز غزہ میں ہونے والی اندھا دھند بمباری پر امریکی حکومت کے رویے سے ناخوش ہیں، جس کا اثر لا محالہ طور پر کم ووٹنگ کی صورت میں ڈیموکریٹس پر پڑ سکتا ہے۔

مظاہرے میں شریک ایک نوجوان عبداللہ کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کا اثر حکومت پر ہو نہ ہو لیکن امریکی عوام پر ضرور ہو رہا ہے، جن میں ایسے فراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو غزہ سے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرے سے خطاب کرنے والے مقررین کا کہنا تھا کہ وہ فوری جنگ بندی چاہتے ہیں کیونکہ حماس کے اسرائیل پر حملے کی سزا عام فلسطینیوں کو نہیں دی جا سکتی۔

اس مظاہرے میں ایسے یہودی افراد بھی موجود تھے، جو اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے سخت مخالف ہیں۔ سٹیون بھی ایک ایسے ہی عمر رسیدہ شخص تھے جو اس مظاہرے میں شریک تھے اور انہوں نے ہاتھ میں اسرائیلی جنگی اقدامات کی مذمت والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت صرف یہویوں کا نام استعمال کر کے عام فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

نماز جمعہ کے بعد مظاہرین نے اسرائیلی سفارت خانے کے مرکزی دروازے کا رخ کر لیا اور امریکی حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو ہر قسم کی امدد بند ہونے تک وہ مظاہرے کرتے رہیں گے۔

بارش تیز ہونے لگی تو مظاہرین کے منتشر ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا لیکن بہت سے افراد مائیکروفونز پر اب بھی اسرائیل مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین اور سفارت خانے کے درمیان صرف امریکی پولیس تھی، جو خاموشی سے مظاہرین کے نعرے سن رہی تھی۔

گذشتہ روز سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ میں عارضی وقفہ ختم کرکے دوبارہ کارروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے، اس لیے مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ معاملات امن کی جانب نہیں جا رہے اور انہیں یہ ڈر ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ کے خلاف امریکہ میں ہونے والے مظاہرے اور زور پکڑیں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ