کچن کا سفنج بیماری پھیلانے والے جراثیم کا بڑا ذریعہ: تحقیق

سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ کچن میں استعمال ہونے والے سفنج اپنی مسام دار سطح اور ان میں موجود نمی کی وجہ سے بیکٹیریا پیدا کرنے والے جراثیم کے لیے ایک مثالی جگہ ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ سفنج میں پھنس جانے والے خوراک کے ذرات بیکٹیریا کی افزائش کے لیے غذائیت اور موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں (اینواتو)

سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ کچن میں استعمال ہونے والے سفنج اپنی مسام دار سطح اور ان میں موجود نمی کی وجہ سے بیکٹیریا پیدا کرنے والے جراثیم کے لیے ایک مثالی جگہ ہوتے ہیں۔

متعدد افراد کو متاثر کرنے والی خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں کے بڑے واقعات کا تعلق زیادہ تر کمرشل باورچی خانوں یا کیٹرنگ کے اداروں سے رہا ہے۔

ایسے مقامات پر کچے گوشت جیسی آلودہ غذاؤں کی تیاری کے دوران ناقص صفائی کے باعث بیکٹیریا پورے کچن میں پھیل سکتے ہیں۔

گذشتہ تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ کچن کے سفنجوں میں بیکٹیریا کی مقدار عام طور پر دیگر سطحوں، جیسے سنک یا کٹنگ بورڈز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ سفنج میں پھنس جانے والے خوراک کے ذرات بیکٹیریا کی افزائش اور بڑھوتری کے لیے غذائیت اور موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔

اب سائنس دانوں نے مزید شواہد پیش کیے ہیں کہ نقصان دہ بیکٹیریا کچن کے سفنجوں میں تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

تحقیق میں انہوں نے کمرشل باورچی خانوں کے سفنجوں پر خوراک سے پھیلنے والے دو بڑے جراثیم ایشیریشیا کولی (Escherichia coli)  اور سالمونیلا (Salmonella) پر مشتمل محلول مختلف مقداروں میں لگایا۔

کچھ سفنجوں پر سٹیفیلوکوکس اوریئس (Staphylococcus aureus) نامی بیکٹیریا پر مشتمل محلول بھی استعمال کیا گیا، جو ایسے زہریلے مادے پیدا کرتا ہے جو خوراک سے زہر خورانی کا سبب بن سکتے ہیں۔

محققین نے پایا کہ تمام جراثیم چند ہی دنوں میں نمایاں طور پر بڑھ گئے، حتیٰ کہ جب محلول میں ان کی ابتدائی مقدار نسبتاً کم تھی۔

تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ جراثیم اس وقت بھی زندہ رہے جب سفنج کئی دن تک خشک پڑے رہے۔

تحقیق کے مطابق ہلکا سا دباؤ ڈالنے سے بھی یہ جراثیم سفنج سے دوسری سطحوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔

نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا براہِ راست رابطے کے ذریعے خوراک تک منتقل ہو سکتے ہیں۔

جرنل آف فوڈ پروٹیکشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق اگر ایسی آلودہ خوراک کو مناسب حد تک گرم کیے بغیر کھایا جائے تو اس سے خوراک سے پھیلنے والی بیماری ہو سکتی ہے اور تحقیق کے مطابق جراثیم کی بہت کم ابتدائی مقدار بھی اس کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

محققین نے خبردار کیا کہ سفنج کو صرف اس کی شکل یا بو کی بنیاد پر تبدیل کرنا ’غیر قابل اعتماد معیار‘ ہے کیونکہ تحقیق کے دوران آزمائشی سفنجوں میں بیکٹیریا کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باوجود کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آئی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سفنج کب تبدیل کیا جائے، اس کا انحصار دیگر عوامل کے ساتھ اس کے استعمال کے طریقے پر بھی ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مثال کے طور پر اگر سفنج کو ایسی سطح صاف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو جو کچے گوشت کے رابطے میں آئی ہو تو اسے جلد از جلد پھینک دینا چاہیے۔

محققین کے مطابق بیکٹیریا کی تعداد کم کرنے کے لیے سفنج کو کم از کم دو منٹ تک 70 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت والے پانی میں گرم کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے گھروں میں جہاں کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد یا کم عمر بچے موجود ہوں، کچن کے سفنج زیادہ بار تبدیل کیے جانے چاہییں۔

سائنس دانوں کے مطابق مائیکرو فائبر کے کپڑے ایک بہتر متبادل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں بیکٹیریا نسبتاً کم رہتے ہیں، یہ جلد خشک ہو جاتے ہیں اور انہیں واشنگ مشین میں آسانی سے صاف کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے کپڑوں کو دھوتے وقت بھی واشنگ مشین کا درجہ حرارت کم از کم 60 ڈگری سینٹی گریڈ ہونا چاہیے۔

سائنس دانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’یہ نتائج اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ کچن کے سفنج گھروں میں جراثیم کے اہم ذخیرے ہوتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سفنج کو باقاعدگی سے تبدیل کیا جائے یا صفائی کے لیے متبادل آلات استعمال کیے جائیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی گھر