لاہور میں کار ساز کمپنی ’الیکٹرا‘ کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی سولر منی الیکٹرک کار نے شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ گاڑی چین میں تیار کی گئی ہے اور اسے خاص طور پر سائیکل، موٹر سائیکل اور آٹو رکشہ کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں گذشتہ چند برسوں کے دوران الیکٹرک وہیکلز (ای ویز) کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ انہیں ماحول دوست سمجھا جانا ہے۔
اسی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکٹرا نے پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں اور رکشوں کے متبادل کے طور پر یہ سولر منی کار تیار کی ہے، جسے شہری حدود میں استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
گاڑی کا ڈیزائن بظاہر رکشہ کی طرح کا ہے، تاہم اس کی مجموعی ساخت ایک چھوٹی کار جیسی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے مکمل کار کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔
الیکٹرا کے مینیجر عماز فاروقی کے مطابق یہ گاڑی بجلی اور سولر توانائی دونوں پر چل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کی عمومی رینج 80 سے 100 کلومیٹر ہے، تاہم سولر پینلز کی مدد سے یہ رینج بڑھ کر 160 کلومیٹر تک جا سکتی ہے۔
عماز فاروقی کے مطابق: ’الیکٹرا پاکستان کی پہلی الیکٹرک سولر گاڑی ہے، جس کی قیمت 12 لاکھ 95 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔‘
الیکٹرا کے شوروم آنے والے متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ وہ اس گاڑی کو لاہور شہر کے اندر روزمرہ استعمال کے لیے خرید رہے ہیں کیونکہ یہ کم خرچ اور ماحول دوست ہے۔ تاہم بعض افراد کی رائے میں یہ ماڈل نہ تو مکمل رکشہ ہے اور نہ ہی روایتی کار، جس کی وجہ سے اس کی افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک صارف اشفاق احمد نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’یہ گاڑی چار افراد کے بیٹھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں پیٹرول کی ضرورت نہیں۔ غریب آدمی مہنگی گاڑی نہیں خرید سکتا، اس لیے یہ ایک بہتر متبادل ہو سکتی ہے۔‘
ایک اور صارف محمد عباس کہتے ہیں کہ ‘جہاں اس ماڈل کے فوائد ہیں، وہیں لوگوں کے سیفٹی سے جڑے بھی کچھ تحفظات ہیں۔‘
کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 250 صارفین اس سولر منی کار کی بکنگ کروا چکے ہیں، جبکہ پہلے مرحلے میں چین سے درآمد کیے جانے والے مکمل طور پر تیار شدہ یونٹس کی ڈیلیوری رواں برس مارچ سے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
اگرچہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ تعداد 76 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے لیکن چارجنگ سٹیشنز کی کمی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل ابھی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
چینی کمپنی بی وائے ڈی نے بھی گذشتہ سال یہ اعلان کیا تھا کہ وہ 2026 تک پاکستان میں ای وی اسمبلنگ پلانٹ قائم کرے گی، جس سے مقامی مارکیٹ میں مزید اقسام کی الیکٹرک گاڑیاں دستیاب ہو سکیں گی۔