ورلڈ اکنامک فورم یا عالمی اشرافیہ کلب؟

اتنے سارے طاقتور ترین لوگ یہاں ہر سال کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟ ڈیووس میں ہونے والے ان اجلاسوں کے نتائج کیا نکلتے ہیں اور یہ غیر سرکاری اجلاس دنیا بھر کے لیے کیوں اہم ہے؟

ڈیووس میں 21 جنوری 2026 کو ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران کانگریس سینٹر کے باہر کا منظر (اے ایف پی)

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کا 56واں سلانہ اجلاس شروع ہو چکا ہے جس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف بھی شریک ہیں۔ ان کے علاوہ 60 ممالک کے سربراہان، دنیا کی طاقتور ترین 850 کمپنیوں کے چیئرمین، 400 عالمی سیاسی رہنماؤں کے علاوہ 10,000 کے قریب مختلف شعبوں کے ماہرین، سول سوسائٹی کے ممبران اور صحافی بھی ڈیوس میں موجود ہیں۔

اتنے سارے طاقتور ترین لوگ یہاں ہر سال کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟ ڈیووس میں ہونے والے ان اجلاسوں کے نتائج کیا نکلتے ہیں اور یہ غیر سرکاری اجلاس دنیا بھر کے لیے کیوں اہم ہے؟

اس کے بارے میں عام لوگ بہت کم جانتے ہیں کیونکہ اس کے مرکزی اجلاس کے علاوہ اس کی سائیڈ لائن ملاقاتیں خفیہ رکھی جاتی ہیں جن کے بارے میں عام لوگ کبھی نہیں جان پاتے کہ یہاں کس ملک اور کس کمپنی کے درمیان کیا طے پاتا ہے؟

ورلڈ اکنامک فورم بظاہر ایک این جی او ہے مگر؟

ورلڈ اکنامک فورم کو عمومی معنوں میں ایک این جی او کہا جا سکتا ہے، جس کی حیثیت مشاورتی ہے۔ بورڈ آف ٹرسٹیز ہی اس کا مدارالمہام ہوتا ہے جس میں دنیا کے اہم ترین کاروباری اور سیاسی رہنما شامل ہوتے ہیں۔

اس کی بنیاد 24 جنوری 1971 کو ایک جرمن انجینیئر کلوس شواب (Klaus Schwab) نے رکھی تھی، جس کا مقصد مملکتوں، کاروباروں اور سماجی رہنماؤں کو ایک دوسرے سے مربوط بنانا تھا۔ شروع میں اس کا نام یورپیئن مینیجمنٹ فورم تھا، جسے1987 میں ورلڈ اکنامک فورم کا نام دے دیا گیا۔

اس کے اساسی ممبران میں دنیا کی 1,000 بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ صرف وہی کمپنی اس کی ممبر بن سکتی ہے جس کا سالانہ ٹرن اوور کم از کم 5 ارب ڈالر ہو۔ یہ کمپنی سالانہ ایک ملین ڈالر تک کی ممبر شپ فیس بھی ادا کرتی ہے۔

اس کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر حکومتیں، کارپوریشنز اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں اپنے الگ اجلاس بھی منعقد کرتی ہیں۔

یہاں مرکزی اجلاس کے علاوہ سائیڈ لائن اجلاسوں کی تعداد 400 تک جا پہنچتی ہے اور یہی اجلاس دراصل اس نیٹ ورکنگ کی بنیاد بنتے ہیں ’جہاں امیر کمپنیاں عالمی غیر منتخب حکومت‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے غریب ممالک کے وسائل ہڑپ کرنے کے منصوبے بنا کر انہیں اس جانب راغب کرتی ہیں۔

ڈیووس میں اجلاس کے موقعے پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے طاقتور فورم سمجھا جاتا ہے جہاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کی طرح عالمی مسائل پر صرف تقریریں نہیں ہوتیں بلکہ ان سے آگے کے معاملات ہوتے ہیں۔

لیکن وہ معاملات کیا ہوتے ہیں؟

بظاہر اس عالمی سطح کے مکالمے کو مشترکہ تعاون اور مسائل کے حل کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ فورم جدید دنیا کی طاقت کے اس ڈھانچے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، جن میں میڈیا کو رسائی نہیں دی جاتی۔

یہاں دنیا کے وہ لوگ اکٹھے ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سرمایہ، ٹیکنالوجی، اسلحہ، میڈیا اور مالیاتی اداروں کی طاقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی لوگ واقعی عام انسان کے مسائل کا حل چاہتے ہیں یا وہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔

کیونکہ اس کے شرکا میں مزدور، کسان، اساتذہ یا میڈیا کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے تاثر یہی ہے کہ یہ فورم کارپوریٹ بالادستی کی نمائندگی کرتا ہے۔ فورم کے حامی کہتے ہیں کہ یہاں فیصلے نہیں ہوتے بلکہ صرف تبادلہ خیالات ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معاشی، سماجی یا ماحولیاتی حوالوں سے جو کچھ طے پاتا ہے اسی کی جھلک ہمیں عالمی پالیسیوں میں ملتی ہے۔

پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر دنیا کے ممالک وہاں کیا کرنے جاتے ہیں؟ یہ ممالک وہاں سرمایہ کاری کی اپیلوں، نئے قرضوں کی یقین دہانی اور عالمی کمپنیوں کو مطلوبہ مراعات دینے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اصل ایجنڈا وہی طے کرتے ہیں جن کے پاس سرمایہ اور طاقت ہوتی ہے۔

اشرافیہ کلب، جو دنیا کو اپنے مفادات کے تابع رکھنا چاہتا ہے:

اپنی خصوصیت کی بنیاد پر ورلڈ اکنامک فورم دراصل اشرافیہ کا ایک کلب بن جاتا ہے جہاں صرف انہی کے مفادات کے تحفظ کی بات ہوتی ہے۔ سیاسی مفکر سیمول پی ہنٹنگٹن نے اس شرافیہ کے لیے ایک نیا لفظ ’ڈیووس مین‘ استعمال کیا ہے۔ یہ اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو قومی وفاداری کی بہت کم ضرورت محسوس کرتے ہیں، قومی سرحدوں کو ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں اور قومی حکومتوں کو ماضی کی باقیات سمجھتے ہیں، جن کا واحد کارآمد کام اشرفیہ کی عالمی سرگرمیوں کو آسان بنانا رہ گیا ہے۔

نیدر لینڈز میں قائم ٹرانس نیشنل انسٹی ٹیوٹ ورلڈ اکنامک فورم کے بنیادی مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’یہ ابھرتی ہوئی عالمی اشرافیہ کے لیے ایک سماجی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے یعنی بین الاقوامی مالیاتی و صنعتی ’مافیا کریسی‘ جس میں بینکرز، صنعت کار، امرا، ٹیکنو کریٹس اور سیاست دان شامل ہیں، وہ اس کے ذریعے اپنے مفادات کی نگہبانی کرتے ہیں۔‘

یورپی پارلیمنٹ کے تھنک ٹینک (EPRS) کے مطابق ’2009 سے ورلڈ اکناک فورم ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جسے ’گلوبل ری ڈیزائن انیشی ایٹو‘ (GRI) کہا جاتا ہے جو بین الحکومتی فیصلہ سازی سے ہٹ کر ایک کثیر فریقین پر مبنی نظام کی طرف منتقلی کی تجویز پیش کرتا ہے، جہاں سیاسی و کاروباری افراد اپنے ووٹرز یا شیئر ہولڈرز کو جوابدہ ہوئے بغیر فیصلے کر سکتے ہیں۔‘

اشرافیہ کے دانت ہاتھی کی طرح کھانے کے اور ہوتے اور دکھانے کے اور، مثال کے طور پر وہاں عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں پر بحث وہ لوگ کر رہے ہوتے ہیں، جو اپنے پرائیویٹ جیٹ کے ذریعے ڈیووس آتے ہیں۔ اس سال بھی وہاں اندازاً ڈیڑھ ہزار کے قریب پرائیویٹ جیٹ لینڈ ہوں گے۔

ارتکاز دولت کی بڑھتی ہوئی ناہمواریاں اور ڈیووس

ڈیووس کے سالانہ اجتماع میں اگرچہ وہی عالمی کمپنیاں صف اوّل میں ہوتی ہیں جن کے کاروبار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری جانب غریب مزید غریب تر ہو رہا ہوتا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ پیسہ چند ہاتھوں میں سمٹ رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانوی ادارے اوکسفیم نے ایک سوئس ادارے CSRI کی ایک رپورٹ بھی یہاں پیش کی تھی، جس کے مطابق دنیا کے ایک فیصد امیر لوگوں کے پاس دنیا کی کل دولت کا 48 فیصد ہے۔ اسی ادارے نے 2019 میں ڈیووس میں کہا تھا کہ دنیا کے 2,200 ارب پتیوں کی دولت سالانہ 12 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب غریب لوگوں کی آمدن 11 فیصد سالانہ کے حساب سے کم  ہو رہی ہے۔

جس سے یہ قیاس بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ سرمائے کو نچلے طبقات سے اوپر کے طبقات کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کسی منظم نظام کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا یعنی وہی کمپنیاں جو یہاں اکٹھی ہوتی ہیں ان کی پالیسیوں سے دنیا میں غربت بڑھ رہی ہے، ان کا سرمایہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور وہ مزید بڑھانے کی فکر میں ہیں۔

2016 میں ورلڈ اکنامک  فورم کے اجلاس میں ہالینڈ کی ایک رکن پارلیمنٹ اڈا مارگریریٹ اوکن کا ایک جملہ بہت وائرل ہوا کہ ’خوش رہنا ہے تو حق ملکیت سے دستبردار ہو جائیں۔‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ شہری ایسی اشیا جو ان کی قوتِ خرید سے باہر ہیں، انہیں مشترکہ طور پر خریدیں۔

اس بات پر خاصی لے دے ہوئی اور اسے ’مہربان آمریت‘ قرار دیا گیا۔ جس پر ورلڈ اکنامک فورم کو تردید کرنا پڑی کہ اس کا مقصد نجی ملکیت کو محدود کرنا نہیں ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم دراصل ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں طاقتور مستقبل کا خاکہ بناتے ہیں اور کمزور قومیں بعد میں اس کی قیمت ادا کرتی ہیں۔

کیونکہ ان بند کمروں کے اجلاسوں میں ماحولیات، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، توانائی اور عالمی تجارتی راہداریوں کے لیے جو بیانیہ بنتا ہے، وہ کمزور ممالک کے لیے شرائط بن جاتا ہے، جن کی قیمت ہم سب غریب ممالک کے شہری ادا کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ