اشرافیہ کی ہیش ٹیگ شادیاں اور عوام

یہ شادیاں کروڑوں کے بجٹ سے شروع ہوتی ہیں۔ ان شادیوں میں سکیورٹی کے بہترین انتظامات الگ سے ایک کمپنی کو دیے جاتے ہیں۔ دعوت نامے کارڈز کی صورت نہیں جاتے بلکہ ایک گفٹ باکس کی طرح مہمانوں کو دیے جاتے ہیں۔

انڈیا اور پاکستان میں بہت سے امیر خاندان جو کہ اتنے مشہور نہیں تھے اب اپنی شادیوں کے لیے ٹیمز ہائر کر کے ہیش ٹیگ بنا کر شادیاں کرتے ہیں (انواتو ایلیمنٹس)

فلمی ستارے جس بھی ملک میں ہوں وہ اپنی شادی، سفر، کام، روزمرہ زندگی یہاں تک کہ غمی پر بھی شہرت سمیٹنا پسند کرتے ہیں۔

کچھ خود پل پل اپنی زندگی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں تو کچھ کے لیے پاپارازی، بلاگرز اور فیشن میگزین یہ کام کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ ایسا کرنے کے خواہاں نہیں ہوتے تب بھی عوام کو ان کی زندگی میں پوری دلچسپی ہوتی ہے۔

پرستار جاننا چاہتے ہیں کہ فلمی ستارے کی زندگی اور ان سے منسلک افراد کی زندگی میں کیا چل رہا ہے۔ فلمی ستاروں کو دیکھ کر لوگ اپنے لیے لباس، جیولری، گھڑی، ہیئر اسٹائل پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے کمرشلز میں ان کو لیا جاتا ہے تاکہ عوام بھی وہی پراڈکٹ خریدیں جو ان کا فیورٹ اداکار اور اداکارہ ایڈورٹائز کر رہے ہوں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بلاگرز، ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز بھی یہی کر رہے ہیں۔

انہی اداکاروں نے ہیش ٹیگ شادیوں اور تفریحی مقامات پر شادیوں کا رواج ڈالا۔ ان کی تو ہر چیز سپانسر ہوتی ہے لیکن انہیں دیکھ کر انڈیا اور پاکستان میں امرا اشرافیہ نے یہ محسوس کیا کہ پیسہ تو ان کے پاس بھی بہت ہے تو دنیا کو نظر آنا چاہیے۔

انڈیا اور پاکستان میں بہت سے امیر خاندان جو کہ اتنے مشہور نہیں تھے اب اپنی شادیوں کے لیے ٹیمز ہائر کر کے ہیش ٹیگ بنا کر شادیاں کرتے ہیں تاکہ وہ بھی عوام اور سوشل میڈیا پر مقبول ہو جائیں۔ اس میں صنعت کار، تاجر، بلڈرز اور یہاں تک کہ سیاسی خاندان بھی کود پڑے ہیں۔

پاکستانی طبقہ امرا کی اب خواہش ہے کہ ان کا مہنگا جوڑا، ان کی مہنگی جیولری، قیمتی گھڑی، چہرے پر نکھار اور شادی پر ہونے والا لاکھوں کروڑوں کا خرچ دنیا کو نظر آئے اور وہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کریں۔ یہ پبلسٹی چاہے منفی ہو یا مثبت، ان کا مقصد ٹرینڈنگ میں ٹاپ پر رہنا ہوتا ہے جو وہ حاصل کر لیتے ہیں۔

رچ فیٹ ویڈنگ اور ہیش ٹیگ ویڈنگ کے بہت سے لوازمات ہوتے ہیں جو پورے کیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک بڑی ایونٹ مینجمنٹ کمپنی ہائر کی جاتی ہے جو شادی کی جگہ، اس پر انتظامات، کھانے، لائٹس، تھیم، سیکیورٹی، ڈانس، میوزک اور دیگر ارینجمنٹس کو فائنل کرتی ہے۔ امیروں کی شادی میں کچھ تقریبات ملک کے اندر کی جاتی ہیں اور کچھ ملک سے باہر جسے  Destination wedding کہا جاتا ہے جو کسی باہر کے ملک کے تفریحی مقام پر کی جاتی ہے جن میں ترکی، اٹلی میں لیک کومو، دبئی، بالی انڈونیشیا، ایبیزا اسپین، سینتورینی اسپین، الی دی فرانس، الینتیجو پرتگال، جے پور انڈیا اور تھائی لینڈ پسندیدہ جگہوں میں سے ایک ہیں۔

ایونٹ مینجمنٹ کے بعد تھیم فائنل ہوتا ہے۔ ہر فنکشن کی ڈیکوریشن، رنگ، تھیم، کھانے کا مینو الگ ہوتا ہے۔ اسی لحاظ سے کپڑے اور جیولری بھی پسند کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ بلاگر اور انفلوئنسر ہائر کیے جاتے ہیں جو اس شادی کی سوشل میڈیا پر ہائپ پیدا کرتے ہیں۔

میک اپ کرنے والے، فوٹوگرافی کرنے والے، میوزک ارینج کرنے والے مل کر ریلز پوسٹ کرتے ہیں تاکہ امرا کو زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھ سکیں۔ اس کے لیے فیشن میگزینز اور صحافیوں کی خدمات بھی لی جاتی ہیں۔ امیر ہیں تو اداکاروں کو بھی شادی میں بچپن کا دوست بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور بہت زیادہ ہی امیر ہیں تو مارک زکربرگ، بل گیٹس اور کم کارڈیشین تک بھی شادی میں آ جاتے ہیں۔

پاکستان کے امرا زیادہ تر شادیوں میں انڈین ڈیزائنرز کے جوڑے پہن رہے ہیں جن میں سبیاساچی مکھرجی، منیش ملہوترا اور ترن تہلیانی شامل ہیں، جبکہ دوسری طرف انڈین پاکستانی ڈیزائنرز کے جوڑے نہیں پہنتے۔

حالیہ پاکستان انڈیا جنگ کے بعد انڈیا کی طرف سے تو ثقافتی تبادلہ بالکل ختم کر دیا گیا۔

اسی طرح ہیش ٹیگ ویڈنگز میں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز چینل، گوچی، ویلنٹینو، رولیکس، آرمانیز، فرینک ملر جنیوا، جمی چو شوز، وائی ایس ایل، لوبوٹن اور دیگر برانڈز کی نمائش کی جاتی ہے۔ جیولری کے لیے جہاں لوکل جیولرز سے بھی قیمتی زیور لیا جاتا ہے وہاں انٹرنیشنل برانڈز جن میں کارٹیئر، وین کلیف اینڈ آرپلز، ٹفنی اینڈ کو، بلغاری، گراف اور دیگر شامل ہیں، کی بھی نمائش کی جاتی ہے۔

امرا زیادہ تر برانڈز کی نمائش کر کے اپنی شادی کو عوام کے سامنے پھیلاتے ہیں کہ دیکھو ہم کتنے امیر ہیں اور کیا افورڈ کر سکتے ہیں پر غیر معروف امیر خاندان ریلز پر اپنی ڈانس پرفارمنس جو کہ باقاعدہ کوریوگراف ہوتی ہیں، شیئر کروا کر لائکس، شیئرز اور شہرت سمیٹ لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کو پسند کرتے ہیں اور بہت سے اس پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ شادیاں کروڑوں کے بجٹ سے شروع ہوتی ہیں۔ ان شادیوں میں سکیورٹی کے بہترین انتظامات الگ سے ایک کمپنی کو دیے جاتے ہیں۔ دعوت نامے کارڈز کی صورت نہیں جاتے بلکہ ایک گفٹ باکس کی طرح مہمانوں کو دیے جاتے ہیں۔ پہلے بات پکی کی تقریب ہوتی ہے، پھر منگنی، پھر اس کی خوشی میں محفل موسیقی، پھر گرلز نائٹ، بوائز نائٹ، برائیڈل شاور، پھر ہلدی، سنگیت، مہندی، قوالی، شادی، ولیمہ، پھر ایک اور محفل موسیقی، پھر شادی کے بعد دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ بہت سی ایسی شادیوں پر مہمانوں کو فون لے کر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تصاویر خود آفیشل فوٹوگرافرز کے ذریعے جاری کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد ہوتا ہے کہ صرف فلٹر ہوئی حسین تصاویر باہر آئیں اور کوئی بھی غیر ضروری بنا فلٹر موبائل امیج میڈیا کو نہ ملے۔ ایسی تقریبات میں میڈیا، انفلوئنسرز، اداکار، کیٹرنگ والے، اسٹیج اور وینیو ڈیزائنرز، میوزک اور ساؤنڈ والے، گلوکار، میک اپ اور مہندی والے، ایونٹ مینج کرنے والے سب مل کر کام کرتے ہیں اور پھر مل کر اس پرتعیش شادی سے متعلق تفصیلات میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلا دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہت سے امیر لوگ ہیش ٹیگ شادیوں میں قیمتی تحائف کا سٹیج پر تبادلہ بھی کرتے ہیں۔ دلہن کے گھر والوں کی طرف سے دلہا والوں کو ہیرے، گولڈ کے سیٹ، انگوٹھیاں اور گھڑیاں سٹیج پر دی جاتی ہیں۔ بات جو منگنی کی انگوٹھی سے شروع ہوتی ہے وہ ہیلی کاپٹر میں رخصتی پر ختم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انوکھے طریقے سے شادی میں انٹری کرنے کا دکھاوا الگ ہے۔ پیسے نچھاور کیے جاتے ہیں جن میں صرف روپیہ نہیں بلکہ ڈالر اور یورو تک لٹائے جاتے ہیں۔

کھانے کی بات کریں تو ون ڈش کے قانون کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں اور سالم بکرے روسٹ ہوئے ہوتے ہیں۔ سوپ، سٹارٹر، سلاد، میٹھے، انواع اقسام کے سالن، چاول اور مشروبات شادی میں پیش کیے جاتے ہیں۔

میرے نزدیک اگر اپنی نجی زندگی کو نجی ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔ اداکاروں کے لیے یہ ان کے کام کا حصہ ہے کہ وہ نمودونمائش کریں لیکن جب اشرافیہ ایسا کریں تو ان پر تنقید آئے گی، خاص طور پر جن ملکوں میں غربت اور بے روزگاری ہو، دہشت گردی پھر سے سر اٹھا رہی ہو، وہاں اشرافیہ کی شاہ خرچیاں عوام کو ان سے متنفر کر دیتی ہیں۔

اس لیے اشرافیہ ہوش کے ناخن لیں۔ طبقاتی تفریق میں اضافہ نہ کریں۔ آج بھی ہمارے ملک میں لاکھوں لڑکیاں اور لڑکے پیسے کی کمی کی وجہ سے شادی کرنے سے قاصر ہیں۔ ان پر مزید رسومات کا بوجھ، نت نئے ٹرینڈز اور نمود و نمائش کیا اثر ڈالے گی؟

سادگی میں بہت سکون ہے، اس کو اختیار کرنا ایک اچھی بات ہے۔ پر اگر آپ خود سوشل میڈیا پر اپنے ہائر کیے ہوئے لوگوں کے ذریعے اپنی تصاویر لگوائیں گے تو پھر تنقید کے لیے تیار رہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ