انڈیا سے پاکستان آکر شادی کرنے والی سربجیت کا معمہ حل نہ ہوا

قانون کے مطابق سربجیت کور کے 15 روزہ ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے لہذا اب وزارت داخلہ کے این او سی کے بغیر انہیں ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔

سربجیت کور نومبر میں شیخوپورہ کی مقامی عدالت کے جج خالد محمود وڑائچ کے سامنے پیش ہوئی تھیں (فوٹو/شیخوپورہ پولیس)

انڈیا سے سکھ یاتریوں کے گروپ میں یاترا ویزے پر نومبر میں پاکستان آنے والی سربجیت کور لاہور کے دارالامان میں ہیں اور انہیں تاحال واپس نہیں بھیجا جا سکا ہے۔

قانون کے مطابق سربجیت کور کے 15 روزہ ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے لہذا اب وزارت داخلہ کے این او سی کے بغیر انہیں ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات پہلے سے ہی خراب تعلقات گذشتہ سال ہونے والی جھڑپوں کے بعد مزید کشیدہ ہیں۔ فضائی حدود اور بارڈرز بھی تاحال بند ہیں، لیکن سکھ یاتریوں کی آمد ورفت معاہدے کے مطابق جاری ہے۔

ایسے حالات میں دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے شہریوں پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔

انڈیا سے چار نومبر کو سربجیت کور بھی سکھ یاتریوں کے ساتھ واہگہ بارڈر کے راستے ننکانہ صاحب سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے جنم آستھان ننکانہ صاحب آئی تھیں۔

اس دو ہزار کے گروپ میں شامل دیگر سکھ یاتری 13 نومبر کو انڈیا واپس روانہ ہو گئے تھے۔

انڈین پنجاب کے ضلع جالندھر کی رہائشی سربجیت کور کا معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا جب انہوں نے نومبر میں ہی شیخوپورہ کی مقامی عدالت کے جج خالد محمود وڑائچ کے سامنے پیش ہوکر بیان دیا کہ ’میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے نکاح کر لیا ہے۔ اب میرا سلامی نام نور فاطمہ ہے پولیس ہمیں حراساں کر رہی ہے منع کیا جائے۔‘

سربجیت کور(نورفاطمہ) اور ناصر حسین نے عدالت میں اپنا نکاح نامہ بھی پیش کیا تھا، جس پر عدالت نے پولیس کو انہیں حراساں کرنے سے منع کردیا تھا۔

48 سالہ سربجیت کور جو طلاق یافتہ ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی 2016 میں ناصر حسین سے سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی تھی اور دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ لیکن انڈیا سے انہیں پاکستان آنے کا ویزہ نہیں ملا۔

لہذا وہ یاتری ویزے پر پاکستان آئیں اور ننکانہ صاحب سے ناصر حسین کے ساتھ چلی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقلیتی امور پنجاب کے وزیر رمیش سنگھ اروڑا نے صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی تھی کہ چار دن پہلے سربجیت کور اور ان کے خاوند ناصر حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لہذا انڈین خاتون کو ملک بدر کرنے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔

گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر کلیان سنگھ جو سکھوں کے رہنما بھی ہیں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’سربجیت کور نامی سکھ یاتری خاتون انڈیا سے یاتری ویزے پر پاکستان آئیں جو 15 دن کے لیے ہوتا ہے۔

’لیکن 1951 میں طے پانے والے لیاقت اور نہرو معاہدے کے مطابق اس ویزے کی مدت میں کسی صورت توسیع نہیں ہوسکتی۔ لہذا ویزے کی مدت پوری ہونے پر قانون کے مطابق اس خاتون کو انڈیا بھجوانا پاکستانی حکومت پر لازم ہے۔‘

واہگہ بارڈر سکیورٹی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سربجیت کور کے ویزے کی مدت ختم ہونے پر اب انہیں وزارت داخلہ کی جانب سے این او سی جاری کیے بغیر واپس نہیں بھجوایا جاسکتا۔ لہذا جب تک دستاویزی معاملات طے نہیں ہوں گے انہیں بارڈر کراس نہیں کرایا جاسکتا۔‘

پروفیسر کلیان کے بقول، ’سربجیت کور کو لاہور کے دارالامان میں رکھا گیا ہے جو پاکستانی حکومت کی تحویل میں ہے۔ انہیں واپس انڈیا جاکر یہاں شادی کی بنیاد پر سپاوز ویزہ لینا ہوگا پھر واپس آکر یہاں متعلقہ اداروں سے اپنے خاوند کے ساتھ رہائشی سرٹیفکیٹ بنوانا ہوگا۔‘

سابق پارلیمانی سیکرٹری برائے ہیومن رائٹس پنجاب مہیندر پال سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’سربجیت کور نے پاکستان آکر شادی کر لی یا مذہب تبدیل کر لیا اس سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن انہوں نے یاتری ویزے پر ننکانہ صاحب آکر وہاں سے غائب ہونے کا عمل غیر قانونی کیا ہے۔

’کیونکہ یاتری ویزے پر کوئی بھی پاکستان مستقل نہیں رہ سکتا۔ ان کے اس فعل سے سکھوں کی بھی بدنامی ہوئی اور پاکستانی سکیورٹی پر بھی سوال اٹھے ہیں۔‘

مہیندر پال سنگھ کا کہنا ہے کہ ’میں نے اس بارے میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کی ہے۔

’میں نے استدعا کی کہ اس بارے میں تحقیقات کرائی جائیں کہ کس طرح ایک سکھ یاتری خاتون بابا جی کے آستھان سے غائب ہوگئیں۔ اس معاملے نے گوردوارہ کمیٹی اور سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں لہذا ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی کی جائے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان