امریکہ نے کام کے نئے سال کا آغاز اس اعلان کے ساتھ کیا کہ وہ کم از کم 66 بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے الگ ہو رہا ہے، جن میں 2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے کا مرکزی کنونشن بھی شامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ اقدام ایک جامع جائزے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ ’امریکی قومی مفادات کے منافی‘ کام کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ دیگر متاثرہ معاہدوں اور تنظیموں میں علاقائی مسائل، تعلیم اور صنف بشمول خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق کئی معاہدے شامل ہیں اور ایک ایسا معاہدہ بھی شامل ہے جو حالیہ واقعات کی روشنی میں کچھ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لا سکتا ہے یعنی ایشیا میں بحری جہازوں کے خلاف قزاقی اور مسلح ڈکیتی سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کا معاہدہ۔
معاہدوں اور تنظیموں سے امریکی انخلا کے اس اعلان کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی، جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ جلد از جلد عمل میں لایا جائے گا۔
اس سے نہ صرف ان اداروں سے امریکی نمائندگی ختم ہو جائے گی بلکہ کئی معاملات میں فنڈنگ کا ایک بڑا ذریعہ بھی ختم ہو جائے گا، جس کا بوجھ یا تو دیگر اور اکثر بہت غریب ممالک کو اٹھانا پڑے گا یا پھر ان کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔
تاہم کھوئی ہوئی ’سافٹ پاور‘ کے مقابلے میں امریکہ کتنی رقم بچائے گا، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔
بعض حلقوں میں عالمی سفارت کاری کے وسیع دائرے سے امریکہ کے اس بڑے پیمانے پر انخلا کو ’ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی‘ (ڈوج) کے بین الاقوامی مماثل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز میں ایلون مسک کے سپرد کیا گیا تھا۔
دیگر حلقوں میں اسے ان ڈرامائی اقدامات کے ایک تکمیلی جزو کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو امریکہ نے نئے سال کے دوران اٹھائے یا جن کا عندیہ دیا اور جس کا اثر اصل معاملے سے زیادہ طریقہ کار پر ہونے کا امکان ہے۔
ان اقدامات میں وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی زبردستی امریکہ منتقلی، روسی پرچم تلے سفر کرنے والے تیل کے ٹینکر کو پکڑنا جسے پابندیاں توڑنے والے ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور گرین لینڈ پر امریکی عزائم کا ٹرمپ اور دیگر کی جانب سے اعادہ شامل ہیں۔
تاہم ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی اس دوری کو اگر امریکہ کی کئی دہائیوں کی پالیسی سے مکمل انحراف سمجھنا غلط ہو گا۔ بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کی رکنیت اور خاص طور پر فعال رکنیت، امریکی سفارت کاری کا شاذ و نادر ہی اہم حصہ رہی ہے۔
درحقیقت امریکہ کے لیے اشتراکِ عمل کوئی اصول نہیں بلکہ استثنیٰ ہے اور جس حد تک وہ کسی معاملے میں شریک ہونے پر راضی ہوتا بھی ہے تو عام طور پر ایسا اس کی اپنی شرائط پر ہوتا ہے۔
جیسا کہ حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تو اس کا حصہ بننے کے لیے امریکہ کی خوشامد کرنی پڑی اور اسے بنیادی طور پر ویٹو کی رشوت دے کر راضی کیا گیا۔ یہ ان 191 ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے 1968 کے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن ایک ایٹمی طاقت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے اس سے امریکی طاقت پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوئی۔
امریکہ 1993 کے انٹرنیشنل کیمیکل ویپنز کنونشن کا بھی رکن ہے، لیکن ایسا رکن نہیں جس نے کبھی اپنی تنصیبات کے ایسے اچانک معائنوں کی اجازت دی ہو جو دوسرے ارکان کے لیے لازمی ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ معائنوں کا معاملہ ہی وہ نکتہ تھا، جس پر عراق اور ایران دونوں بین الاقوامی، یعنی امریکی یا امریکی قیادت میں ہونے والی کارروائی کی زد میں آئے۔
کچھ ایسی ہی صورت حال 1982 کے انٹرنیشنل لا آف دی سی پر لاگو ہوتی ہے۔ امریکہ اس کے مذاکراتی عمل کا حصہ تھا اور اس نے اس پر دستخط بھی کیے، لیکن اس کی کبھی توثیق نہیں کی۔ یہ صورت حال کسی حد تک اس گنجائش کو محدود کر دیتی ہے کہ دیگر ممالک، مثال کے طور پر روس، امریکہ پر اپنے ٹینکر پر حملہ کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر سکیں۔ امریکہ خود کو اس قانون کا پابند نہیں سمجھتا۔
دوسرے الفاظ میں، اگرچہ بعض حالیہ امریکی اقدامات کے کھلے عام یکطرفہ ہونے پر عام حیرت پائی جاتی ہو، لیکن اسے شاذ و نادر ہی ایک فطری ’ٹیم پلیئر‘ قرار دیا جا سکتا ہے اور اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیشتر ممالک اپنی انفرادیت کا احساس رکھتے ہیں، بالخصوص وہ ممالک جو قومی ریاستوں کے طور پر ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے، لیکن امریکی انفرادیت، جسے اس کی عسکری طاقت اور امریکی ڈالر کی بطور عالمی ریزرو کرنسی حیثیت کی پشت پناہی حاصل ہے، عملی طور پر اس سے کہیں آگے جاتی ہے جس کے متحمل دیگر ممالک ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کی ایک کلاسیکی مثال انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) ہو سکتی ہے۔ امریکہ کبھی آئی سی سی میں شمولیت کے قریب بھی نہیں گیا اور بطور ادارہ اکثر اس کے ساتھ مخالفانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اگرچہ اسے اکثر اس کے فیصلوں کا توثیقی انداز میں حوالہ دیتے ہوئے اور دوسروں کو اس کی پابندیوں کا تابع بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔
امریکہ سربیا کے سابق رہنما سلوبوڈان میلوسووچ پر مقدمہ چلانے کے لیے قائم کیے گئے خصوصی ٹربیونل کا بھی پرجوش حامی تھا۔ تاہم، مثال کے طور پر عراق پر امریکی قیادت میں ہونے والی چڑھائی، جس کا آغاز اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر کیا گیا تھا، کا جائزہ لینے کے لیے کبھی ایسا کوئی عدالتی عمل شروع نہیں کیا گیا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ مغرب سے باہر آئی سی سی کو نہ صرف ’فاتح کے انصاف‘ کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، بلکہ ایسے انصاف کے طور پر جو امیر دنیا کی جانب سے باقی دنیا کے خلاف کیا جاتا ہے۔
اس ساری گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ حالیہ ہفتوں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اقدامات خاصے جسارت آمیز اور پرخطر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ امریکہ کے لیے کوئی بالکل نئی بات نہیں ہے، جسے ایک طویل عرصے سے بنیادی طور پر عالمی تھانیدار کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے جو اپنے ہی اصولوں کی پاسداری کا پابند نہیں۔ عملی طور پر اصل فیصلہ کن قوت، طاقت ہی تھی۔
تاہم، چین کا عروج اور برکس ممالک کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ شاید اس صورت حال کو تبدیل کر رہا ہے، اسی لیے بل کلنٹن کے دور صدارت کے ایک نظریے پر دوبارہ غور کرنا سودمند ہو سکتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جسے امریکی معاشی طاقت کا عروج قرار دیا جا سکتا ہے، کلنٹن نے کثیرجہتی کی ایک نایاب سوچ کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا استدلال تھا کہ امریکہ کو اس وقت حاصل طاقت کا استعمال بین الاقوامی اصول وضع کرنے کے لیے کرنا چاہیے اور اس وقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے جب شاید امریکہ ’بالادست قوت‘ نہ رہے۔
مستقبل کے صدور کو شاید اس بات پر افسوس ہو کہ کلنٹن کی کوششیں خواہ کتنی ہی کامیاب کیوں نہ رہی ہوں، انہیں بڑی حد تک فراموش کر دیا گیا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
© The Independent