بارش کے بعد اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ رواں مون سون سیزن کے دوران جڑواں شہروں میں ہونے والی شدید ترین بارشوں کے سپل میں سے ایک تھا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں منگل اور بدھ کو ہونے والی شدید بارش کے بعد جڑواں شہروں کے متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور تجارتی مراکز میں بھی پانی بھرنے سے دکانداروں کا خاصا نقصان ہوا۔

شہریوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں پانی میں ڈوبی سڑکوں اور زیر آب علاقوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کرتے ہوئے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور شہر کی ناقص شہری منصوبہ بندی پر سوالات اٹھائے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ رواں مون سون سیزن کے دوران جڑواں شہروں میں ہونے والی شدید ترین بارشوں کے سپل میں سے ایک تھا اور گذشتہ تین سال کے دوران اس شدت کی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔

شدید بارش کے بعد راولپنڈی نالہ لئی میں پانی کی سطح کٹاریان پل پر منگل کی صبح 29.5 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 20 فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ انتظامیہ نے نالہ لئی کے اطراف آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی اور فلڈ وارننگ سائرن بھی بجائے گئے۔

راولپنڈی کے گوالمنڈی، صادق آباد، شمس آباد، ڈھوک کالا خان، راجہ بازار، کمرشل مارکیٹ، گنج منڈی، سیٹلائٹ ٹاؤن، بوہڑ بازار اور دیگر علاقوں میں بارش کا پانی سڑکوں اور گلیوں میں داخل ہو گیا۔ بعض علاقوں میں دو سے پانچ فٹ تک پانی جمع ہوا، جس سے گھروں، دکانوں اور تجارتی مراکز میں معمولات متاثر ہوئے۔

راجہ بازار کا ماڈل بازار اور تحصیل آفس بھی پانی میں ڈوب گئے، جبکہ بینظیر بھٹو ہسپتال کے افسر وارڈ میں پانی داخل ہونے سے پانچ کمرے متاثر ہوئے اور مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔ ہولی فیملی ہسپتال کے بیسمنٹ میں پانی داخل ہونے کے بعد گائنی اور پیڈیاٹرکس کا سامان اوپر منتقل کیا گیا۔

مری روڈ، اسلام آباد ایکسپریس وے اور دیگر اہم شاہراہوں پر بھی پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

شدید بارش کے باعث راولپنڈی انتظامیہ نے ضلع بھر میں منگل کو مقامی تعطیل کا اعلان کیا جبکہ ریسکیو، واسا، سول ڈیفنس، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ رکھا گیا۔

اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں برساتی نالہ اوور فلو ہونے سے قریبی سڑکوں اور عمارتوں کے بیسمنٹس میں پانی داخل ہوا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق تقریباً 150 ملی میٹر بارش کے باعث نالہ اپنی گنجائش سے تجاوز کر گیا۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق نالے میں ڈالی گئی سلیبز نے پانی کے بہاؤ کو متاثر کیا، جس پر سی ڈی اے کو رکاوٹیں دور کرنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی۔

دوسری جانب راول ڈیم میں پانی کی سطح 1,751.90 فٹ تک پہنچنے کے بعد سپل ویز کھول دیے گئے۔

سی ڈی اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پانی کی نکاسی کے لیے اضافی ڈی واٹرنگ پمپس اور سینیٹیشن عملہ تعینات کیا گیا۔

ادارے کے مطابق آئی ایٹ مرکز، اسلام آباد ایکسپریس وے، پارک روڈ، ایف ٹین اور ای الیون سمیت مختلف علاقوں میں نکاسی آب کا کام کیا گیا۔

بارش رکنے کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح میں کمی آئی اور کٹاریان کے مقام پر تقریباً 10 جبکہ گوالمنڈی میں سات فٹ تک رہ گئی۔

ای الیون میں سی ڈی اے کی  کارروائی

بارش کے بعد سی ڈی اے کی جانب سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ان تعمیرات اور دکانوں کے خلاف کارروائی کی گئی جنہیں ادارہ غیر قانونی تجاوزات قرار دے رہا تھا۔

سی ڈی اے اہلکار دکانیں منہدم کر رہے تھے جبکہ بعض دکاندار اپنی دکانوں کے سامنے کھڑے کارروائی دیکھ رہے تھے۔

اسلام آباد کے شہری جلال الدین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'سی ڈی اے کو بارش کے پانی کے گزرنے کے لیے پہلے سے راستے بنانے چاہییں تھے، نہ کہ شہر زیرِ آب آنے کے بعد کارروائی شروع کی جائے۔'

ان کے مطابق ’میری سبزی کی دکان بھی سی ڈی اے نے گرا دی ہے، جس سے مجھے 50 سے 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اب اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟‘

ایک اور شہری محمد اکبر نے بتایا کہ ’ان کی موٹر سائیکل کی دکان بھی سی ڈی اے نے منہدم کر دی ہے۔‘

ان کے مطابق ’یہاں میری موٹر سائیکل کی دکان تھی، جو میں نے ایک نجی سوسائٹی سے پانچ سال کے معاہدے پر لی تھی۔ سی ڈی اے نے آج آ کر دکان توڑ دی۔ ہمیں کوئی نوٹس بھی نہیں دیا گیا اور سب کچھ توڑ دیا گیا۔‘

محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی اور بالائی علاقوں میں مزید بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان