خطے میں جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوگا: احمدی نژاد

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران سے نمٹنے کے مقصد سے طالبان کو افغانستان میں تعینات کیا ہے، جس سے القاعدہ کو بحالی میں مدد ملے گی، لیکن یہ منصوبہ جلد ہی ناکام ہو جائے گا۔

ایران کے سابق صدر  محمود احمدی  نژاد   2010 میں ترکی کے  دورے کےدوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے (اے ایف پی/فائل فوٹو) 

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران سے نمٹنے کے مقصد سے طالبان کو افغانستان میں تعینات کیا ہے، جس سے القاعدہ کو بحالی میں مدد ملے گی، لیکن یہ منصوبہ جلد ہی ناکام ہو جائے گا۔

انڈپینڈنٹ فارسی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق ایرانی صدر نے کہا کہ ’طالبان کی حکومت افغان عوام کی خواہش کے برعکس قائم کی گئی ہے۔‘

احمدی نژاد نے اصرار کیا کہ وہ طالبان کے بارے میں موجودہ ایرانی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’مجھے لفظ ’اپوزیشن‘ پسند نہیں ہے۔۔۔ میں ایک ایرانی ہوں اور دیگر تمام ایرانیوں کی طرح، جینے کا حق رکھتا ہوں اور اپنی بات کہنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق رکھتا ہوں۔ ایران تمام 85 ملین ایرانیوں کا ہے۔ صرف اس لیے کہ کوئی حکومت کے اوپر بیٹھا ہے، ملک اس کا نہیں ہے۔ ملک سب کا ہے اور سب اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ جب آپ ’اپوزیشن‘ کی بات کرتے ہیں تو آپ ملک کو تقسیم کر دیتے ہیں اور اس کی وجہ سے لوگ آپ کو نہیں سنتے، چاہے آپ صحیح الفاظ بولیں۔

انٹرویو کے دوران احمدی نژاد نے ایران کے خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات کے بارے میں بھی بات کی اور کہا: ’ایران، سعودی عرب اور کسی حد تک ترکی کا خطے میں کلیدی کردار ہے۔ اگر یہ تین ممالک ایک ساتھ کھڑے ہیں تو خطے کی تمام قومیں امن میں ہوں گی اور کوئی تنازع یا تصادم نہیں ہوگا۔ یہ تین بڑے اور اہم ممالک ہیں۔ جب ان کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں تو خطے کے تمام تعلقات برباد ہو جاتے ہیں۔‘

احمدی نژاد نے مزید کہا: ’سب سے پہلے ایران اور سعودی عرب دونوں کو یقین کرنا ہوگا کہ اختلافات دونوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ دونوں ممالک میں تصادم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ صدام نے ایران پر حملہ کیا اور آٹھ سالہ جنگ چھڑی۔ کیا اس جنگ کا کوئی فاتح تھا؟ نہیں، ایسا نہیں ہوا۔ ہاں ایران نے اپنی سرزمین چھیننے کی اجازت نہیں دی۔۔۔آٹھ سال کے بعد ہم صفر پوائنٹ پر واپس چلے گئے لیکن ناقابل تلافی نقصانات کے ساتھ۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

احمدی نژاد سمجھتے ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان جھڑپوں سے صرف خطے سے باہر کی قوموں اور دشمنوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’دونوں ممالک کو اپنی پوزیشنز سے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کو پہچاننا ہے اور ایک دوسرے کے عقائد اور شناخت کا احترام کرنا ہے۔ ہمیں قبول کرنا ہوگا کہ خطہ ہر ایک کے لیے ہے اور ان حالات میں جو بھی ایک قدم آگے بڑھے گا وہ خطے کی اقوام کے لیے ایک تاریخی ہیرو بن جائے گا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا: ’ایران اور سعودی عرب یمن کا مسئلہ کیوں حل نہیں کر سکتے؟ ہزاروں میل دور ممالک کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیوں آنا چاہیے؟ جن کی دونوں طرف سے کوئی دوستی نہیں ہے اور جب بھی جھڑپیں ہوتی ہیں وہ اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔‘

بقول احمدی نژاد: ’وہ پرسکون خطہ یا کسی بھی مضبوط ملک کو اس خطے میں پسند نہیں کرتے، چاہے وہ ایران ہو، سعودی عرب، ترکی، عراق یا متحدہ عرب امارات۔‘

سابق ایرانی صدر نے زور دیا کہ ایران اور سعودی عرب کو یمن کا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے۔ ’ایک آسان فارمولا ہے: یمنی قوم کے حقوق کا احترام۔ ہمیں یمنی قوم کو اپنے لیے انتخاب کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔‘

محمود احمدی نژاد نے کہا: ’ماضی کی طرح جب بھی مجھے لگتا ہے کہ میں خارجہ پالیسی میں مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکتا ہوں ، مجھے کام کرنے میں خوشی ہوگی۔ میں نے ماضی میں اپنے منصوبے بیان کیے ہیں اور چند لوگوں کو خط لکھے ہیں۔ کچھ نے ان کا استقبال کیا اور کچھ ہچکچائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا