پاکستان کا 10 جولائی سے غیر قانونی افغانوں کی گرفتاری کا حکم

حکومت نے 10 جولائی سے غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے جب کہ یو این ایچ سی آر نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغان پناہ گزین اپنے بچوں کے ہمراہ 16 ستمبر، 2025 کو وطن واپس جانے کے لیے طورخم سرحد پر آ رہے ہیں (اے ایف پی)

وفاقی وزارت داخلہ نے ملک میں بغیر قانونی دستاویزات یا ویزے کے مقیم افغان شہریوں کی 10 جولائی سے فوری گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ حکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی منصوبے  کے تحت کیا گیا ہے اور اسے کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے حالیہ  حملے کے بعد مزید سخت کیا گیا ہے، جس میں گرفتار ہونے والا ایک مشتبہ حملہ آور افغان شہری بتایا گیا۔

نئی ہدایت میں کیا کہا گیا؟

28 جون کو جاری ہونے والے وزارت داخلہ کے مراسلے کے مطابق، جس کی کاپی انڈیپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے،  پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد سمیت تمام صوبوں اور وفاقی خطوں میں اس پالیسی پر یکساں عمل درآمد کیا جائے گا۔

صوبائی چیف سیکریٹریز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر گرفتار کیے گئے افراد، غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کی گئی کارروائیوں اور ان کے نتائج پر مشتمل رپورٹ وزارت داخلہ کو ارسال کریں۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسے پاکستانی شہری جو غیر قانونی افغان باشندوں کو ملازمت، دکان، کاروباری جگہ یا رہائش فراہم کریں گے، ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

البتہ پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور وہ افغان شہری جن کی کسی تیسرے ملک منتقلی کی درخواست زیر عمل ہے، انہیں اس کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

نئے کریک ڈاؤن کی وجہ کیا ہے؟

یہ فیصلہ 27 جون کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں سندھ رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا جس میں کئی رینجرز اہلکار جان سے گئے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ گروپ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آوروں کو مارا جبکہ ایک زخمی حملہ آور کو گرفتار کیا، جسے افغان شہری قرار دیا گیا۔

حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اس واقعے نے غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

پاکستان میں اس وقت کتنے افغان شہری مقیم ہیں؟

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق مئی 2026 کے اختتام تک پاکستان میں سات لاکھ 99 ہزار 332 رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں، جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈزموجود ہیں۔

پاکستانی حکومت کے اندازے کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مزید تقریباً چھ لاکھ افغان شہری پاکستان آئے، جن میں اکثریت غیر رجسٹرڈ ہے کیونکہ ان کے لیے کوئی نیا وسیع رجسٹریشن نظام متعارف نہیں کرایا گیا۔

یواین ایچ سی آر کے مطابق جنوری 2021 سے 2022 کے اوائل تک تقریباً ایک لاکھ 17 ہزار 500 افغان شہریوں کی دستاویزی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ اگست 2021 میں یہ تعداد تقریباً 35 ہزار 300 رہی۔

کتنے افغان مہاجرین واپس جا چکے ہیں؟

یواین ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے اب تک 47 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

صرف 2026 کے ابتدائی مہینوں میں  یواین ایچ سی آر کی معاونت سے تقریباً 70 ہزار 800 افغان شہریوں نے رضاکارانہ واپسی کی۔

یو این ایچ سی آر کی نئی کارروائی پر تشویش

یو این ایچ سی آر پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یو این ایچ سی آر پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کی جبری واپسی کے حکومتی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘

ان کے بقول: ’ہم پاکستان کی اس فراخ دلی کو سراہتے ہیں کہ اس نے اپنے اندرونی چیلنجز کے باوجود گذشتہ 45 برس سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔‘

قیصر خان آفریدی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کسی بھی مہاجر کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔

دوسری جانب یواین ایچ سی آر اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق ملک بدری اور خود واپس جانے والوں سمیت جون 2026 کے وسط تک تقریباً چار لاکھ 49 ہزار 100 افغان پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔

حکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی منصوبے (آئی ایف آر پی) کے آغاز، یعنی اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 20 لاکھ افغان پاکستان سے واپس جا چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور ایران سے مجموعی طور پر 54 لاکھ سے زائد افغان اپنے ملک لوٹ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک بدری کی نئی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کے مطابق بہت سے افغان شہری گرفتاری کے خوف اور حکومتی ڈیڈ لائنز کے باعث دباؤ میں واپس جا رہے ہیں، جبکہ افغانستان میں انہیں روزگار، بنیادی سہولیات اور محفوظ زندگی سمیت متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 

وکیل منیزہ کاکڑ جو افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی کی حکومتی پالیسیوں کو عدالتوں میں چیلنج کرنے والی نمایاں قانونی آواز ہیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار ریفیوجیز کی شریک بانی بھی ہیں۔

انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہر ریاست کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور امیگریشن سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کا خودمختار حق حاصل ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اختیارات کا استعمال آئین، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

منیزہ کاکڑ کے بقول: ’کسی ایک سکیورٹی واقعے کی بنیاد پر کسی پوری قومیت کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانا یا اندھا دھند گرفتاریاں کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں افراد کے ذاتی طرزِ عمل اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہییں، نہ کہ صرف ان کی قومیت کی بنیاد پر۔‘

ان کے مطابق: 'یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ فوجداری انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کسی عدالت کی جانب سے منصفانہ ٹرائل کے بعد کسی شخص کو مجرم قرار نہ دیا جائے، وہ صرف ملزم ہوتا ہے، مجرم نہیں۔‘

منیزہ کاکڑ کے مطابق: 'غیر دستاویزی افغان شہری بھی قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق رکھتے ہیں۔ انہیں گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جانا چاہیے، قانونی معاونت تک رسائی دی جانی چاہیے۔

اور انہیں اپنی گرفتاری یا ملک بدری کو چیلنج کرنے کا مؤثر موقع ملنا چاہیے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں افغانستان واپسی پر انہیں ظلم، جبر یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حقیقی خطرہ لاحق ہو۔ ‘

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم قومی سلامتی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کی متضاد نہیں ہیں۔

پاکستان 1951 کے مہاجرین سے متعلق کنونشن کا رکن نہیں ہے، اس لیے افغان مہاجرین کے معاملے کو حکومت عارضی پالیسیوں اور  یواین ایچ سی آر کے تعاون سے، بالخصوص رجسٹرڈ مہاجرین کے حوالے سے، سنبھالتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان