تیل 4 سال میں بلند ترین سطح پر، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششیں جاری
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق، امریکہ نے دیگر ممالک سے بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں مدد کی اپیل دہرائی ہے۔
روئٹرز کے مطابق امریکہ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ اسے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔
دوسری جانب پاکسستانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے کے دوران، پاکستان بطور ثالث کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اہلکار کے مطابق، ٹرمپ اور تیل کمپنیوں کے نمائندوں نے ان اقدامات پر بھی بات کی جو عالمی تیل منڈی کو مستحکم رکھنے اور اگر ضرورت پڑے تو ناکہ بندی کو کئی مہینوں تک جاری رکھنے کے لیے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکی صارفین پر اس کے اثرات کو کم سے کم رکھا جائے۔
ایک سینئر پینٹاگون اہلکار کے مطابق، اس جنگ پر اب تک امریکی فوج کو تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں، جو اس تنازع کی لاگت کا پہلا سرکاری تخمینہ ہے۔
ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے باعث بدھ کو تیل کی قیمتیں چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
تیل کی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی، جس کے خاتمے کا مطالبہ تہران کسی بھی معاہدے سے پہلے کر رہا ہے، بمباری سے زیادہ مؤثر ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق، منگل کو ہونے والی اس ملاقات میں ٹرمپ نے ’عالمی تیل کی منڈی کو مستحکم کرنے اور ضرورت پڑنے پر کئی ماہ تک موجودہ ناکہ بندی جاری رکھنے اور امریکی صارفین پر اس کے اثرات کم کرنے کے اقدامات‘ پر بات کی۔
اگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری کارروائی کے بارے میں کہا کہ ’وہ بری طرح دباؤ میں ہیں، اور یہ ان کے لیے مزید خراب ہونے والا ہے۔‘
برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید 7.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 119.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 2022 میں یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
ایران نے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے اور جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
ایران جنگ کا پہلے باضابطہ اختتام چاہتا ہے
ایران کی جانب سے جنگ کے حل کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز، جو 8 اپریل سے جنگ بندی معاہدے کے تحت معطل ہے، اس بات پر مبنی ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک جنگ باضابطہ طور پر ختم نہ ہو جائے، بحری نقل و حمل کے مسائل حل نہ ہو جائیں۔
تاہم یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے مطابق نہیں کہ جوہری مسئلے پر ابتدا ہی میں بات کی جائے۔
ایک پاکستانی ذرائع نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایرانی تجویز پر اپنے ’مشاہدات‘ شیئر کیے ہیں اور اب جواب دینا ایران کے ذمے ہے۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ایرانیوں نے ہفتے کے اختتام تک مہلت مانگی ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو امریکی حکام اور ایک باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کی ہدایت پر اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ یکطرفہ فتح کا اعلان کرتے ہیں تو ایران کس طرح ردِعمل دے سکتا ہے۔