وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے باعث خطے سمیت پاکستان کی معیشت بھی دباؤ میں آئی، تاہم سعودی عرب کی بروقت مدد سے حکومت ’فنانشل شاک‘ برداشت کرنے میں کامیاب رہی۔
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس تنازعے نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کو بڑھا دیا، جو ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق خدشات کے درمیان بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی کی ہے جس میں یورو بانڈز میں 1.4 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا: ’اللہ تعالی نے ہماری معیشت کو میکرو لیول پر رکھا تھا اور ہم بہتری کی طرف جا رہے تھے لیکن اس اچانک جنگ کے نتیجے میں، پچھلے دو سال کی ہماری کوششیں ماند پڑ گئیں۔‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کا ہفتہ وار تیل کا بل 30 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت نے جمعے کو نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو بتایا کہ ملک کی ایندھن کی کھپت ’گذشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ صورت حال کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے اور ایندھن کی سبسڈی بڑھانے کے لیے صوبوں سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو ایک مرتبہ پھر سراہا اور کہا کہ اسلام آباد میں ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوران بہت زیادہ چیلنجز اور مشکلات کے باوجود فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہمت نہیں ہاری اور یوں سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی۔
11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع بھی ممکن ہو سکی تھی۔
اس سلسلے میں وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق دار کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ کئی اہم شخصیات کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی۔
وزیراعظم نے کہا: ’ایران اور امریکہ کے درمیان 11 اپریل کی رات پاکستان میں ہونے والے مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے۔ یہ ایک طویل میراتھن سیشن تھا۔ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور اور مخلصانہ کوششیں کی گئیں۔ ان کوششوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اسحاق ڈار، اور دیگر اہم شخصیات نے بھرپور کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں سیز فائر میں توسیع دی گئی، جو اب بھی جاری ہے۔‘
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روس جانے سے قبل انہیں فون پر بتایا کہ وہ اپنی قیادت سے مشورے کے بعد جلد از جلد جواب دیں گے۔
عباس عراقچی گذشتہ منگل کو اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان آئے تھے اور اگلے ہی دن عمان کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔
بعدازاں ایرانی سفارت کار اسی روز عمان سے واپس آئے اور جمعرات کو روس روانہ ہو گئے، جہاں ان کی ملاقات روسی صدر ولا دی میر پوتن سے ہوئی۔
پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے کئی اہم ملاقاتیں کی تھیں۔